مسئلہ کشمیر پر آفریدی کا بیان گوتم کی نظر میں نو بال

Indian cricketer Gautam Gambhir (C) and Pakistan's Shahid Afridi (R) exchange words during their third One-day International (ODI) match at the Green Park Stadium in Kanpur, 11 November 2007. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں کھلاڑی متعدد بین الاقوامی میچز میں ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکے ہیں

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا تنازع اس وقت سوشل میڈیا پر دونوں ملکوں کے کرکٹرز کے درمیان زیر بحث ہے۔

پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی اور انڈیا کے سابق اوپنر گوتم گمبھیر کے درمیان کشمیر کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر دونوں ممالک اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔

منگل کو آفریدی نے ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال کو ’ہولناک اور پریشان کن‘ قرار دیا۔

کشمیر میں ہلاکتیں، مظاہرے اور سوگ

کشمیر میں شدید جھڑپیں کم از کم 20 افراد ہلاک

اس کے جواب میں گوتم نے لکھا کہ آفریدی الفاظ کے چناؤ میں ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔

خیال رہے کہ یہ خطہ دونوں ملکوں کے درمیان 70 سال سے حل طلب تنازع ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب شاہد آفریدی نے انڈین حکومت کو غاصب قرار دیا اور اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مداخلت کرے جہاں گذشتہ ہفتے کے اختتام پر حالیہ برسوں کا بدترین تشدد ہوا۔

انھوں نے لکھا ’انڈین مقبوضہ کشمیر میں انتہائی خراب اور پرشیان کن صورتحال ہے۔ حق خود ارادیت اور خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے معصوم لوگوں کو غاصب حکومت کی جانب سے مارا جا رہا ہے۔ حیرت ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے کہا ہیں؟ وہ اس خون ریزی کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟‘

اتوار کو سری نگر میں انڈین سکیورٹی فورسز اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی میں تین انڈین فوجی اور 13 عسکریت پسند افراد ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں چار شہری بھی مارے گئے جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

گوتم گھمبیر نے شاہد آفریدی کے کشمیر کی صورتحال پر تبصرے کو مسترد کر دیا۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’میڈیا مجھ سے ہمارے کشمیر اور اقوامِ متحدہ کے بارے میں شاہد آفریدی کی ٹویٹ پر ردِ عمل چاہتا ہے۔ کیا کہوں؟`

انھوں نے ٹویٹ میں استہزائیہ انداز میں لکھا کہ’شاہد آفریدی کی ڈکشنری میں شاید یو این کا مطلب انڈر نائنٹین ہے۔ جو ان کی عمر کی حد ہے۔‘

انھوں نے میڈیا کو پر سکون رہنے کا کہتے ہوئے شاہد آفریدی کے بیان کو نو بال قرار دیا۔

اس مرتبہ آفریدی نے ایک اور ٹویٹ میں انڈین کرکٹ شائقین کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔

انھوں نہ لکھا ’ہم سب کی عزت کرتے ہیں۔ اور یہ ایک کھلاڑی کی مثال ہے۔ لیکن جب بات انسانی حقوق کی آتی ہے تو ہم ایسا سلوک اپنے معصوم کشمیریوں کے ساتھ چاہتے ہیں۔‘

شاہد آفریدی کے علاوہ سابق کرکٹر اور اب سیاستدان عمران خان نے بھی ایک ٹویٹ میں اقوامِ متحدہ سے اس معاملے میں دخل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

کشمیر کے معاملے پر اکثر انڈین اور پاکستانیوں کی جانب سے شدید ردِ عمل ظاہر کیا جاتا ہے۔

انڈیا میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے تحریکِ آزادی سنہ 1980 کی دہائی سے جاری ہے جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

انڈین سکیورٹی فورسز پر اکثر مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ تاہم انڈین حکومت ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں