’امیروں کے بچے امریکی اسکالرشپ کے لیے ٹینس کھیلتے ہیں‘

Image caption حمید الحق کے مطابق آج پاکستان میں ٹینس کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔

پاکستان کے سابق ٹینس کھلاڑی حمید الحق کا کہنا ہے کہ اعصام الحق اور عقیل خان کے متبادل کھلاڑی تیار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے اور ان دونوں کے بعد وہ پاکستان میں ٹینس کا مستقبل تاریک دیکھ رہے ہیں۔

حمید الحق نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ آٹھ سال کے دوران اعصام الحق اور عقیل خان کے ″ بیک اپ ″ کے لیے کوئی کام نہیں ہوا، کوئی جونیئر کھلاڑی تیار نہیں ہوا ۔ جو کھلاڑی ہیں ان میں اور عقیل خان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔

پاکستان میں 12 برس بعد ٹینس کے ڈیوس کپ کا آغاز

اعصام الحق کی بارسلونا اوپن میں جیت

حمید الحق نے کہا کہ پاکستان میں عام طور پر جو جونیئر لڑکے آتے ہیں ان میں سے بیشتر کا غریب خاندانوں سے تعلق ہوتا ہے اور سپانسرشپ نہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ یہ حکومت اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کا کام ہے کہ وہ جونیئر کھلاڑیوں کو سپانسر شپ مہیا کرے۔ انہیں بیرون ممالک کی اکیڈمیز میں ٹریننگ کے لیے بھیجے اور آئی ٹی ایف کے جونیئر مقابلوں میں شرکت یقینی بنائے۔

حمید الحق کا کہنا ہے کہ امیر بچے باآسانی بیرون ملک جا کر کھیلتے ہیں اور ان میں سے بھی کئی ایک کی توجہ صرف اور صرف امریکہ میں اسکالر شپ حاصل کرنے پر مرکوز ہوتی ہے اور وہ ٹینس کے ذریعے سکالر شپ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر وہاں جا کر واپس نہیں آتے۔

حمید الحق نے پاکستانی ٹینس کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی کوچز اور آفیشلز پاگل پن کی حد تک ٹینس سے پیار کرتے تھے ان سب میں محنت کا جذبہ موجود تھا آج کل کے جونیئر کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نہیں ہے۔ ’آج وہی لڑکا ٹینس کھیل رہا ہے جسے خود شوق ہے اور اس کے والدین اس میں دلچسپی لے رہے ہوں ورنہ آج کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔‘

حمید الحق نے کہا کہ ان کے دور میں پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر جنرل رحیم الدین خان نے اعلان کیا تھا کہ سال میں ہونے والے چوبیس ٹورنامنٹس میں سے جو بھی کھلاڑی سات ٹورنامنٹ جیتے گا اُسے پچاس ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا لیکن چونکہ اُس دور میں پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی موجود تھے لہذا کسی ایک کھلاڑی کے لیے سات ٹورنامنٹس بھی جیتنا ممکن نہ تھا جبکہ اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ ’آج یہ عالم ہے کہ عقیل خان ایک ایک ٹورنامنٹ کئی بار جیت چکے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات