’وہاب ریاض، فواد عالم اور یہ کرم کے فیصلے‘

وہاب ریاض تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلیڈ اور آئرلینڈ کے دورے کے لیے وہاب ریاض کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا

کراچی کنگز کی بولنگ جاری تھی، میچ ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا کہ اچانک سٹریٹیجک ٹائم آوٹ لیا گیا۔ مکی آرتھر میدان میں اترے اور ایک ایمرجنسی ٹیم میٹنگ شروع ہو گئی۔

میٹنگ کے دوران جب کیمرے نے مکی آرتھر کا کلوز شاٹ لیا اور بڑی سکرین پر آرتھر نے خود بھی دیکھ لیا کہ وہ ’آن ایئر‘ ہیں تو آرتھر کی باڈی لینگوئج مزید تلخ ہو گئی اور انہوں نے سہیل خان کو جھاڑنا شروع کر دیا۔

سہیل خان نے نظریں جھکا لیں، آرتھر اس پہ اور سیخ پا ہو گئے اور نہایت حقارت سے انہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا کہا۔

یہ پی ایس ایل 2 کی بات ہے۔ سہیل خان سیزن کے کامیاب ترین بولرز میں تھے، لیکن اس سٹریٹیجک ٹائم آوٹ کے بعد ان کے انٹرنیشنل کرئیر پہ ایک غیر اعلانیہ مہر سی لگ گئی۔ اس سے پہلے وہ کسی نہ کسی فارمیٹ میں قومی ٹیم کا حصہ رہتے ہی تھے لیکن تب سے اب تک کسی ٹریننگ کیمپ، کسی ابتدائی سکواڈ، کسی حتمی سکواڈ کا حصہ نہیں بن سکے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مکی آرتھر ٹیم سلیکشن پر کتنے اثرانداز؟

دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ: ذمہ داری نوجوان کندھوں پر

پلئیرز کے ساتھ رویے کے معاملے میں مکی آرتھر کا ٹریک ریکارڈ جاننا ہو تو آسٹریلین ڈریسنگ روم میں جھانکیے۔ شین واٹسن سے پوچھیے یا مچل سٹارک سے ہی بات کر لیجیے۔

وہاب ریاض کی عمر 33 سال ہے۔ پی ایس ایل کے حالیہ سیزن میں وہ کامیاب ترین بولر تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پچھلے دو سالوں میں وہ پاکستان کے کامیاب ترین فاسٹ بولر ہیں۔

یاسر شاہ کے بعد سب سے زیادہ وکٹیں انہوں نے لی ہیں لیکن دورۂ انگلینڈ سے انہیں ڈراپ کر دیا گیا ہے۔

کرکٹ میں فٹنس کے جو عالمی معیارات ہیں، وہاب ریاض ابھی بھی ان پہ پورا اترتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ وہ مکی آرتھر کے وضع کردہ ’معیارات‘ پہ پورا نہیں اترتے۔

وجہ آرتھر یہ بتاتے ہیں کہ وہاب ریاض نے پچھلے دو سال میں پاکستان کو کوئی میچ نہیں جتوایا۔ بہت خوب بھئی! اگر میچ وننگ کو ہی معیار بنایا جائے تو پچھلے دو سال میں بابر اعظم نے پاکستان کو کتنے ٹیسٹ جتوائے؟

لگے ہاتھ مکی آرتھر خود بھی بتا دیں کہ پچھلے دو سال کی کوچنگ میں انہوں نے پاکستان کو کتنے ٹیسٹ میچ جتوائے؟ یہ بھی سمجھا دیں کہ نمبرون ٹیسٹ ٹیم ان کے آتے ہی چھٹے نمبر پہ کیسے چلی گئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میچ وننگ کو ہی معیار بنانا ہے تو سعید اجمل کے کرئیر کا کیا کریں گے؟ کتنے مین آف دی میچ ایوارڈ انہوں نے جیتے؟ میچ وننگ کے آرتھرانہ معیار پہ وہ کیسے پورا اتریں گے؟ اچھا ہوا بھلے وقتوں میں ہی کھیل کر نکل لیے، ورنہ آج وہ بھی یہی طعنہ سن رہے ہوتے کہ چار سال میں آپ نے کتنے میچ جتوائے؟

یوں تو پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کے معیارات ہمیشہ ہی پراسرار سے رہے ہیں لیکن بعض اوقات تو یہ پر اسراریت وہم و گماں کی تمام حدوں سے آگے نکل جاتی ہے۔

اعزاز چیمہ یاد ہیں کسی کو؟ پاکستان کی طرف سے آخری میچ کب کھیلے تھے وہ؟ کیا ہوا تھا اس میچ میں؟ بنگلہ دیش کے خلاف ایشیا کپ کا فائنل تھا، آخری اوور میں 9 رنز کا دفاع کرنا تھا اور اعزاز چیمہ نے ہی آخری اوور پھینکا تھا۔ پاکستان وہ میچ جیتا تھا لیکن اس کے بعد سے اعزاز چیمہ دوبارہ پاکستان کے لیے نہیں کھیل پائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فواد عالم آخری بار کب کھیلے تھے پاکستان کی طرف سے؟ ایشیا کپ کا ہی ایک اور فائنل تھا۔ مصباح کے ساتھ مل کر انہوں نے ٹیم کو ایک بحران سے نکالا تھا۔

میچ وننگ نہ سہی، میچ ٹرننگ سنچری تو بنائی تھی۔ لیکن اس سنچری کے بعد سے دوبارہ پاکستان ٹیم میں جگہ نہیں بنا پائے جبکہ ڈومیسٹک سرکٹ میں سیزن در سیزن وہ رنز کے انبار لگائے جا رہے ہیں۔

کبھی کبھی گماں ہوتا ہے کہ پاکستان میں سلیکشن کا معیار نہ تو فٹنس ہے، نہ میچ وننگ اور نہ ہی کوئی تجربہ یا غیر معمولی سیزن۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو وہاب ریاض نہ بھی سہی، فواد عالم تو دوبارہ جگہ بنا ہی لیتے۔ بس یہ تو کرم کے فیصلے ہیں، یہ تو ’نصیب‘ کی بات ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں