کامن ویلتھ گیمز: کیا یہ انڈین کھیلوں کے لیے ایک نیا موڑ ہے؟

مانیکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مانیکا بترا کا خواتین کے سنگلر ٹینل ٹینس مقابلوں میں طلائی تمغی جیتے کے بعد فاتحانہ انداز

اس سال کامن ویلتھ گیمز میں انڈیا کے 66 تمغے ان کھیلوں کے مقابلوں میں اس کی اب تک بہترین کارکردگی ہے۔

خواتین کے 50 کلوگرام فری سٹائل کشتی کے طلائی تمغے کے مقابلے سے ایک گھنٹہ پہلے تک انڈیا کی ونیش پھوگاٹ کشتی ہال کے آس پاس کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھیں، اس کے بجائے وہ گولڈ کوسٹ کے کرارا سٹیڈیم میں ’ٹریک اینڈ فیلڈ‘ والے حصے میں تھیں۔ گذشتہ دو دنوں میں کسی بھی انڈین خاتون نے کوئی طلائی تمغہ نہیں جیتا تھا اور ونیش پھوگاٹ اپنے کوچ کی آخری امید تھیں۔

اس موقع پر اس خاتون پہلوان کے لیے اپنے دوست اور نیزہ باز نیرج چوپڑا کی حوصلہ افزائی زیادہ اہم تھی جو جونیئر عالمی چیمپئن رہ چکے تھے۔

ان دونوں کی ملاقات دو سال قبل کھیلوں کے ایک بحالی مرکز میں ہوئی تھی اور انھوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ جیتیں گے۔

20 سالہ نیرج چوپڑا نے مایوس نہیں کیا۔ وہ کامن ویلتھ گیمز میں نیزہ پھینکنے کے مقابلوں میں انڈیا کی جانب سے پہلا طلائی تمغہ حاصل کرنے والے بن گئے۔ ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ میں وہ انفرادی طور پر کامن ویلتھ طلائی تمغہ حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی بھی بن گئے۔ ونیش پھوگاٹ انڈین نیرج چوپڑہ کو مبارک باد دینے کی منتظر تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’جس لمحے پرچم بلند ہوا، اور قومی ترانہ بجا، میرے رونگٹھے کھڑے ہوگئے۔ ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا، اور اس لمحے میں نے اپنے آپ سے کہا کہ مجھے بھی طلائی تمغہ جیتنا ہے۔‘

اور انھوں نے جیتا۔ یہ ان کا دوسرا طلائی تمغہ تھا جو انھوں نے مختلف مقابلوں میں حاصل کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیرج چوپڑا نے نیزہ پھیکنے کے مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

انڈیا نے کل 66 تمغے حاصل کیے، جو کامن ویلتھ گیمز میں ان کی تیسری بہترین کارکردگی ہے۔ نئی دہلی 2010 میں 101 اور مانچسٹر 2002 میں انڈیا نے 69 تمغے حاصل کیے تھے۔ جبکہ یہ تعداد کے لحاظ سے کامن ویلتھ گیمز 2014 میں گلاسگو میں ہونے والے مقابلوں سے دو تمغے زیادہ ہیں جس میں انڈیا نے 54 تمغے حاصل کیے تھے۔

پھر گولڈکوسٹ میں منعقدہ ان مقابلوں کی کیا خاص بات تھی؟

انڈیا نے چاندی (20) اور کانسی (20) کے مقابلے میں زیادہ طلائی تمغے (26) جیتے۔

اس کے علاوہ انڈیا نے 16 کھیلوں میں شرکت کی اور ان میں سے نو کھیلوں میں تمغے جیتے، جن میں سات طلائی تھے۔ اور ایسا اپنے ملک میں نہیں بلکہ دوسرے ملک میں کیا، جیسا کہ 2010 میں ہوا تھا کہ آپ کو اپنے ملک کے تماشائیوں کی حمایت حاصل تھی۔

نیرج چوپڑا اور ونیش پھوگاٹ کے طلائی تمغوں کے کچھ گھنٹوں کے بعد 22 سالہ مانیکا بترا نے خود کو کامیابی کے چبوترے پر پایا، ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور انڈین پرچم بلند ہو رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیڈمنٹن چیمپئن سائنہ نہوال نے ہم وطن پی وی سندھو کو شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا

ٹیبل ٹینس کے خواتین کے سنگلز مقابلوں اس طویل القامت کھلاڑی کی طلائی تمغہ جیتنے کے بعد دونوں بازو ہوا میں لہرانے کی تصویر عرصہ دراز تک یاد رکھی جائے گی۔

کامن ویلتھ گیمز میں انڈیا کی ٹیبل ٹینس میں کامیابی بہت غیرمتوقع تھی اور اس کا سہرا مانیکا بترا کے سر جاتا ہے۔ ایک ہفتے کے وقت میں انھوں نے چار تمغے جیتے جن میں سے دو طلائی تمغے تھے۔ انھوں نے سنگاپور کی فینگ تیاوی کو بھی شکست دی جو عالمی نمبر چار اور کئی بار اولمپک میڈلز جیت چکی ہیں۔

انڈیا میں ٹیبل ٹینس کا کھیل اخبارات میں کھیلوں کے صفحے پر مختصر خبروں تک محدود رہا ہے، اب ایسا نہیں ہو گا۔ جب مانیکا بترا نے ایک نئی تاریخ رقم کی تو اس وقت تک صرف ایک غیر سنگا پورین کھلاڑی نے خواتین کے سنگلز مقابلوں طلائی تمغہ جیتا ہوا تھا اور وہ نیوزی لینڈ کی چنلی لی تھیں۔

انڈیا نے شوٹنگ کے مقابلوں میں سب سے زیادہ تمغے حاصل کیے، جن میں کھلاڑیوں کی عمروں میں تنوع حیران کن ہے۔

15 سالہ انیش بھنوالا سے لے کر 37 سالہ تیجسونی ساونت نے طلائی اور چاندی کے تمغے حاصل کیے۔ تمام ایتھلیٹس نے کامیابیاں حاصل کیں اور نئے ریکارڈز بھی بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پسٹل شوٹر منو بھاکر نے بھی طلائی تمغہ حاصل کیا

اعداد و شمار کے مطابق یہ انڈیا کی تیسری بڑی کامیابی تھی لیکن تمغوں اور تمغہ حاصل کرنے والوں میں اتنا زیادہ تنوع اسے کچھ مزید خاص بنا دیتا ہے۔

اس سال کامن ویلتھ گیمز میں انڈیا کی نئی نسل نے بھی عالمی منظرنامے پر آمد کا اعلان کیا ہے، جو پہلوان سشیل کمار اور باکسر میری کوم جیسے کامیاب کھلاڑیوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔

تاہم ابھی بھی بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ خاص طور پر ہاکی کے کھیل میں جس میں انڈیا کی مردوں اور خواتین کی ٹیموں نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

کھلاڑیوں کی خوش قسمتی ہے کہ ایشین گیمز کے لیے اپنی خامیوں پر قابو پانے کے لیے ان کے پاس چار ماہ کا وقت ہے۔

غیرممنوعہ ادویات سے مجروح ہونے والے قومی وقار کو بحال کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ڈوپنگ میں ملوث پائے جانے والے ممالک کی فہرست میں انڈیا کی وہی پوزیشن ہے جو اس کی گولڈ کوسٹ میں تمغوں کی فہرست میں ہے۔ 'سرنج کے استعمال پر پابندی' کے اصول کی خلاف ورزی پر ٹرپل جمپر اور ریس والکر کو گھر بھیج دیا گیا، اس بارے میں انتہائی سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے۔

جب تک ایسا نہیں ہوتا، انڈیا کے سب سے حیرت انگیز ٹیلنٹ کو دیکھنے کی خوشی پر شک کا سایہ منڈلاتا رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں