نیپالی خواتین کی ’ریکارڈ تعداد‘ کا ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش

پرنما تصویر کے کاپی رائٹ PURNIMA SHRESTHA
Image caption خواتین کوہ پیماہ چوٹی سر کرنے کے صنفی اور ماحولیاتی مسائل کی جانب توجہ دلانا چاہتی ہیں

نیپالی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رواں موسم بہار میں نیپالی خواتین کی ریکارڈ تعداد ماؤنٹین ایورسٹ سر کر رہی ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی نیپالی جانب سے 15 نیپالی خواتین چوٹی سر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں نیپالی مردوں کی تعداد صرف پانچ ہے۔

اس سے قبل سنہ 2008 میں دس نیپالی خواتین نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کی تھی۔

اس سال بیشترخواتین کوہ پیماہ چوٹی سر کرنے کے اس موقع کو صنفی اور ماحولیاتی مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

شرمیلا لاما نے ایورسٹ بیس کیمپ سے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری ٹیم میں شامل خواتین کوہ پیماؤں کے دو مختلف پیغامات ہیں: خواتین کی انسانی سمگلنگ روکنا اور دنیا کو یہ یاد دہانی کروانا کہ بدھ نیپال میں پیدا ہوا تھا۔‘

انسانی سمگلنگ نیپال میں سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ دیہات کی لڑکیوں کو انسانی سمگلر بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دے کر راغب کرتے ہیں اور انھیں بیرون ملک سیکس منڈی میں فروخت کر دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PURNIMA SHRESTHA
Image caption نیپال میں کوہ پیمائی کی تربیتی سہولیات نے خواتین کو کوہ پیمائی کا فن سیکھنے میں مدد کی ہے

رپورٹوں کے مطابق سنہ 2015 میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں انسانی سمگلنگ غالب رہی ہے۔

شرمیلا لاما کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ بھی اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نیپال بدھ کی جائے پیدائش ہے۔ وقتاً فوقتاً کچھ لوگوں نے دنیا کو گمراہ کیا ہے کہ وہ انڈیا میں پیدا ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔

’ہمارے لیے اتنی بلندی پر کام کرنا مشکل ہے کیوں ہمارا تعلق یہاں (ہمالیائی خطے) سے نہیں ہے۔‘

شرمیلا لاما ایک ٹریکنگ گائیڈ ہیں جبکہ ان کی ٹیم میں پیشہ وراور شوقیہ کوہ پیما شامل ہیں۔

ان میں ایک فوٹوجرنلسٹ پرنیما شریستھا بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHARMILA SYANGTAN
Image caption اب نیپالی خواتین ٹریکنگ گائیڈز کےفرائض بھی سرانجام دے رہی ہیں

وہ ایورسٹ بیس کیمپ سے ’مسکراتی ہوائی نیپالی خواتین‘ کی تصویر کی نمائش کر چکی ہیں اور چوٹی سر کرنے کے بعد بھی ایسا ہی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

گذشتہ سال اس خطے میں ہونے والی میراتھن کی بھی انھوں نے فوٹوگرافی کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں کٹھمنڈو واپس گئی اور کہا کہ اگلے موسم میں میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کروں گی تو لوگوں نے میرا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔‘

’وہ کہتے تھے کہ وہ تمام لوگ جو بیس کیمپ تک پہنچے ہیں اگر وہ سب سے بلند چوٹی پر چڑھنا شروع کر دیں تو ہم سب ایورسٹ سر کرنے والے بن جائیں گے۔‘

لیکن ایسے جملوں سے ان کا حوصلہ پست نہیں پڑا۔

27 سالہ نرپما شریستھا نے گذشتہ سال نیپال میں آٹھویں بلند ترین چوٹی سر کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرا حوصلہ بڑھا اور اب میں ایورسٹ پر واپس آئی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PURNIMA SHRESTHA
Image caption کوہ پیما پرنما شریستھا ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد اپنی تصاویر کی نمائش کرنا چاہتی ہیں

اسی بارے میں