پاکستانی نژاد شاہد خان ویمبلی سٹیڈیم خریدنا چاہتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فوربز میگزین کے مطابق 16 برس کی عمر میں جب وہ پاکستان سے امریکہ آئے تھے تو ان کی جیب میں 500 ڈالر تھے

پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت شاہد خان نے لندن کے ویمبلی سٹیڈیم کو خریدنے کے لیے فٹبال ایسوسی ایشن کو 800 ملین پاؤنڈ کی پیشکش کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے اس سٹیڈیم کے لیے آٹھ سو ملین پاؤنڈ کی پیشکش کی ہے۔

شاہد خان فٹبال کلب فلحم اور این ایف ایل کی ٹیم جیکسن وِل جیگوارز کے بھی مالک ہیں۔

شاہد خان کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

پاکستانی نژاد ارب پتی پریمیئر لیگ کلب کا مالک

شاہد خان کی جانب سے کی گئی پیشکش میں پانچ سو ملین پاؤنڈ سٹیڈیم کے لیے جبکہ تین سو ملین پاؤنڈ ویمبلی کلب کے بزنس کے لیے ہیں۔

فوربز میگزین کے مطابق 16 برس کی عمر میں جب وہ پاکستان سے امریکہ آئے تھے تو ان کی جیب میں 500 ڈالر تھے۔

شاہد خان لاہور میں پیدا ہوئے اور گارڈیئن کے مطابق وہ 1968 میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرن کے لیے امریکہ گئے تھے۔

پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہونے والے شاہد خان نے الینوئے میں انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ کچھ عرصے بعد انہوں نےاسی فرم کو خرید لیا۔

ویمبلی سٹیڈیم کے بارے میں شاہد خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ویمبلی نجی ملکیت میں چلا جائے گا اور فٹبال ایسوسی ایشن اپنے مرکزی مشن یعنی کھلاڑیوں کی تربیت و ترقی پر توجہ دے سکے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ آپ میں سے اگر اکثریت نہیں تو کم از کم بہت بڑی تعداد میں تو انگلینڈ کی قومی ٹیم کے مداح ہوں گے، تو اسی لیے مجھے امید ہے کہ آپ اس خواب کے حقیقت بننے کی صورت میں اس کا خیر مقدم کریں گے۔‘

ویمبلی سٹیڈیم کو بیچ کر فٹبال ایسوسی ایشن کو موقع ملے گا کہ وہ فٹبال میں بنیادی سطح پر سرمایہ کاری کر سکے۔

ادھر این ایف ایل کے حکام بھی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ لندن میں سٹیڈیمز ہونا ادارے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

ویمبلی سٹیڈیم برطانیہ کا سب سے بڑا سٹیڈیم ہے۔ اس میں 90 ہزار سیٹیں ہیں اور اس کی تعمیر پر 757 ملین پاؤنڈ لاگت آئی تھی۔ اس کا افتتاح 2007 میں ہوا تھا۔

فٹبال ایسوسی ایشن نے اس پیشکش پر جمعرات کو اپنے اجلاس میں بحث کی تھی۔

یاد رہے کہ جنوری میں فٹبال ایسوسی ایشن نے بتایا تھا کہ وہ اس سٹیڈیم پر لگنے والے 757 ملین پاؤنڈ کی ادائیگی 2024 تک مکمل کر سکیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں