لیجنڈ ہاکی گول کیپر منصور احمد چل بسے

منصور احمد
Image caption منصور احمد طویل عرصے سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر منصور احمد 49 سال کے عمر میں طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

وہ گذشتہ ایک ماہ امراض قلب کے قومی ادارے میں زیر علاج تھے اور سنیچر کی شام ان کا انتقال ہوگیا۔

منصور احمد طویل عرصے سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔

اسی بارے میں

سابق گول کیپر منصور احمد کے علاج کے لیے انڈیا سے اپیل

انڈیا کے میڈیکل ویزے پاکستانی مریضوں کی امید

'انڈیا کے سبب ایک پاکستانی دل دھڑکے گا'

منصور احمد نے 338 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور ان کی شاندار گول کیپنگ نے 1994 میں پاکستان کو سڈنی میں عالمی کپ جتوایا تھا۔

اسی سال ان کی گول کیپنگ نے پاکستان کو لاہور میں چیمپیئنز ٹرافی جتوانے میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جبکہ 1992 میں بارسیلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ بھی تھے۔

ہاکی کے کھیل کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر انھیں 1988 میں صدارتی ایوارڈ اور سنہ 1994 میں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دیا گیا تھا۔

Image caption منصور احمد اور ہالینڈ کے شہرۂ آفاق کھلاڑی بوولینڈر

منصور احمد ۔ ایک دلیر گول گیپر

پاکستانی ہاکی ٹیم کے خلاف جب بھی کسی ٹیم کو پنالٹی سٹروک ملتا تو پوری پاکستانی قوم کے دل دھڑک رہے ہوتے تھے کہ کیا گول پوسٹ پر کھڑے منصور احمد گول بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

منصور احمد نے کئی پنالٹی سٹروکس روک کر ان بے ترتیب دھڑکنوں کو نارمل کیا لیکن آج خود ان کا اپنا دھڑکتا دل بند ہوگیا۔

اس کے ساتھ ہی پاکستانی ہاکی کی گول کیپنگ کا ایک یادگار باب بھی ختم ہوگیا۔

پاکستان نے سنہ 1994 میں ایک ہی سال میں جب چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ کے اعزازات شہباز احمد کی قیادت میں جیتے تو ان دونوں فتوحات میں منصوراحمد کی شاندار گول کیپنگ کا عمل دخل نمایاں تھا۔

چیمپئنز ٹرافی میں انھوں نے ہالینڈ کے شہرۂ آفاق کھلاڑی بوولینڈر کا پنالٹی اسٹروک روکا تھا۔

ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل میں پاکستان نے پنالٹی سٹروک کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی تھی۔ فائنل میں ہالینڈ کے ڈیلمی کا پنالٹی سٹروک روک کر منصور احمد نے پاکستان کو عالمی چیمپئن بنوایا تھا۔

گذشتہ سال جب انٹرنیشنل ہاکی الیون پاکستان آئی تھی تو اس موقع پر ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کو بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مدعو کیا تھا جن میں بوولینڈر بھی شامل تھے۔

اس موقع پر منصور احمد بھی ہاکی سٹیڈیم میں نظر آئے تھے لیکن ان کی صحت گرچکی تھی اس کے باوجود یہ دونوں کھلاڑی آپس میں جب ملے تو ماضی کی یادوں کو پھر سے تازہ کیا۔ اس موقع پر اس پنالٹی سٹروک کا ذکر بھی ہوا جو منصور احمد نے بچایا تھا۔

منصور احمد ایک دلیر گول کیپر تھے جو حریف فارورڈز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھیلتے تھے۔

اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے وہ گیند پر بلا کی نظر رکھتے تھے اور فارورڈز کے لیے انھیں چکمہ دینا آسان نہ ہوتا تھا۔

سنہ 1988 کی چیمپئنز ٹرافی میں منصور احمد کی شاندار گول کیپنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں ان پر صرف تین گول ہوئے تھے۔

سنہ 1996 میں اٹلانٹا اولمپکس سے قبل جب متعدد کھلاڑیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف بغاوت کی تھی تو منصور احمد کو قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اپنی زندگی کے آخری ایام منصور احمد نے بڑی تکلیف میں گزارے۔ دل کی بیماری نے ان کا ایسا پیچھا لیا کہ وہ اس سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ علاج کے لیے انڈیا جانے کے خواہش مند تھے لیکن کمزور حالت کے سبب ڈاکٹرز انھیں سفر کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں