اے بی ڈی ویلیئرز کا بین الاقومی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان: ’میں اب تھک گیا ہوں‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اے بی ڈی ویلئیرز نے 14 سال تک جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی ہے

جنوبی افریقہ کے بلے باز اور سابق کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے بین الاقوامی کرکٹ سے فوری ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

اپنے 14 سال کے عرصے پر محیط کیرئیر میں اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنی ملک کی 114 ٹیسٹ میچز، 228 ایک روزہ میچز اور 78 ٹی ٹوئنٹی میچز میں نمائندگی کی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری کی گئی ویڈیو میں اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا کہ اب وہ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'میں نے اپنی باری پوری کر لی اور سچ یہ ہے کہ میں اب تھک گیا ہوں۔'

’ڈی ویلیئرز انڈین ہوتے تو ان کے مندر ہوتے‘

گذشتہ چند عرصے سے اے بی ڈی ویلیئرز انجری اور تھکاوٹ کی وجہ سے جنوبی افریقہ کی جانب سے تمام میچوں میں شرکت نہیں کر رہے تھے اور چند حلقوں کی جانب سے ان کے فیصلے پر تنقید کی جا رہی تھی۔

اپنے بیان میں اے بی ڈی ویلیئرز نے اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا مزید کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

'یہ اچھا نہیں ہے کہ میں اپنی مرضی سے کبھی کوئی میچ کھیلوں یا کبھی نہیں کھیلوں۔ اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا مطلب ہے کہ یا تو سب کچھ ہو یا کچھ بھی نہیں۔'

اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اے بی ڈی ویلئیرز نے کہا کہ وہ ان کے بغیر کبھی بھی ایسے کھلاڑی نہیں بن پاتے جو وہ آج ہیں۔

'یہ مزید پیسہ کمانے کے لیے نہیں ہے، یہ میری تھکن کی وجہ سے ہے اور اس وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہر چیز کے اختتام کا وقت متعین ہے اور میں اپنے تمام شائقین کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میرا ساتھ دیا اور میری حمایت کی۔'

اے بی ڈی ویلئیرز نے کہا کہ وہ اپنی مقامی ٹیم ٹائٹنز کے ساتھ کھیل جاری رکھیں گے اور اپنی ٹیم اور کپتان فاف ڈو پلیسی کے سب سے بڑے حمایتی رہیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچری کا اعزاز بھی اے بی ڈی ویلئیرز کے پاس ہے

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے ان کی آخری سیریز اپریل میں آسٹریلیا کے خلاف تھی جس میں انھوں نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار میچوں میں 427 رنز بنائے تھے۔

اس سیریز کے بعد انھوں نے انڈیا میں جاری آئی پی ایل میں شرکت کی جہاں وہ رائل چیلینجرز بنگلور کی نمائندگی کر رہے تھے اور 12 میچوں میں چھ نصف سنچریوں اور 53 کی اوسط سے 480 رنز بنا کر وہ سب سے زیادہ رنز بنانے کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔

اے بی ڈی ویلئیرز کی ٹویٹ ایک گھنٹے میں 13000 سے زائد بار ری ٹویٹ ہو چکی تھی اوراس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر کرکٹرز اور شائقین نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔

جنوبی افریقہ کے سابق فاسٹ بولر ایلن ڈونلڈ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ اے بی ڈی ویلئیرز کے اعلان پر حیران ہیں لیکن یہی زندگی ہے۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ پلیئر بازید خان نے بھی اپنی ٹویٹ میں اے بی ڈی ویلیئرز کو 'جینئیس' قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی بے حد کمی محسوس ہوگی۔

اے بی ڈی ویلئیرز کے سابق ساتھی مارک باؤچر نے کہا کہ انھیں ڈی ویلیئرز کا جنوبی افریقہ کی جانب سے پہلا دن یاد ہے اور ساتھ ساتھ ان کی خدمات کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سری لنکا کے مہیلا جیاوردنے نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیا۔

ٹوئٹر پر بہت سے لوگوں نے لکھا کہ اے بی ڈی ویلیئرز بھی شاہد آفریدی کی طرح ریٹارمنٹ کا اعلان کرنے کے بعد اسے واپس لے لیں اور دوبارہ کھیلنے لگیں۔

یاد رہے کہ اپنے کیرئیر میں اے بی ڈی ویلیئرز نے ٹیسٹ کرکٹ میں 50 کی اوسط سے ساڑھے آٹھ ہزار سے زیادہ رنز بنائے ہیں جبکہ ایک روزہ میچز میں انھوں نے 53 رنز کی اوسط سے 9500 سے زائد رنز بنائے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک روزہ میچز کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بھی اے بی ڈی ویلئیرز کے پاس ہے جب انھوں نے 2015 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 31 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں