پاکستان کا دورۂ انگلینڈ، مکی آرتھر کی ٹیم کاؤنٹر اٹیک کر سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دورہ انگلینڈ کے لیے چنی گئی یہ ٹیم 'بہترین میں سے بہترین' ہے: سرفراز

انضمام الحق کہتے ہیں کہ امام الحق اس لیے سلیکٹ نہیں ہوئے کہ وہ ان کے بھتیجے ہیں۔ مکی آرتھر کہتے ہیں کہ وہاب ریاض نے پچھلے دو سال میں پاکستان کو ایک بھی میچ نہیں جتوایا۔

سرفراز احمد اس ساری بحث کو یوں سمیٹتے ہیں کہ دورۂ انگلینڈ کے لیے چنی گئی یہ ٹیم ’بہترین میں سے بہترین‘ ہے۔

سلیکشن پہ تنازعات اور بھانت بھانت کے مباحثے ہمیشہ ہی پاکستانی کرکٹ کلچر کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ منیجمنٹ کی جانب سے ان اعتراضات کی بھرپور تردید کی گئی ہے۔

لیکن پچھلے ہفتے میلاہائیڈ میں جو کچھ ہوا، اس سے یہ بحث سمٹ نہیں پائی۔

مزید پڑھیے

جب مکی آرتھر کا سر بے یقینی میں جھک گیا

ڈبلن ٹیسٹ: پاکستان کی پانچ وکٹوں سے جیت

دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ: ذمہ داری نوجوان کندھوں پر

لیسٹر کے خلاف میچ میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع

انضمام الحق کی یہ سوچ تو بالکل درست تھی کہ ورلڈکپ 2019 کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم چنی جائے، تاکہ نوآموز کھلاڑی انگلش کنڈیشنز سے آشنا ہو سکیں۔ اب ثابت صرف یہ کرنا ہے کہ ایک ٹی 20 لیگ کی بنیاد پہ چنی گئی ٹیسٹ ٹیم آئندہ برس کے ون ڈے ایونٹ کی تیاری کر سکتی ہے۔

دو سال پہلے کے لارڈز ٹیسٹ کو ذہن میں لائیے تو کوئی درجن بھر ڈراپ کیچز یاد آتے ہیں۔ تسلی بخش پہلو صرف یہ تھا کہ انگلینڈ نے بھی کم و بیش اتنے ہی ڈراپ کیے جتنے پاکستان کی سلپ سے ’سلپ‘ ہوئے۔

آج سرفراز احمد کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہو گی کہ سلپ کو کس طرح سے ترتیب دیتے ہیں۔ لارڈز کی سیمنگ وکٹ پہ پہلی اننگز میں سلپ کریز سے کتنی دور رکھنی ہے اور چوتھی اننگز میں کہاں۔

کیونکہ دو سال پہلے کے لارڈز ٹیسٹ میں صرف مصباح ہی نہیں، کک بھی اس معمے پہ چکرا گئے تھے کہ کیچز سلپ سے دو قدم آگے کیوں گرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آٹھ سال پہلے جب مصباح نے ٹیم بنانا شروع کی تھی تو پہلا ہدف پہلی سیریز کو ڈرا کرنا تھا۔ لیکن اب یہ ٹیم مصباح کی نہیں، مکی آرھر کی ہے

ڈبلین ٹیسٹ سے پاکستان کو کافی مثبت پہلو بھی ملے ہیں۔ پہلی اننگز میں سپیشلسٹ بلے بازوں کی ناکامی کے بعد جس طرح شاداب خان اور فہیم اشرف نے میچ وننگ پارٹنرشپ لگائی اور دوسری اننگز میں جیسے امام الحق اور بابر اعظم نے استقامت دکھائی، وہ اس نوآموز ٹیم کے لیے خاصی حوصلہ افزا چیزیں ہیں۔

حوصلہ شکن پہلو البتہ یہ ہے کہ آج اس نوجوان سکواڈ کا مقابلہ آئرش سیمرز سے نہیں، بلکہ سٹیورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن سے ہو گا۔ جب کہ شاداب خان کے سامنے الیسٹر کک، جو روٹ اور بئیرسٹو جیسے بلے باز ہوں گے۔

سرفراز احمد کی خوشی بالکل بجا کہ انگلش ٹیسٹ ٹیم کی حالیہ پرفارمنسز نے جو روٹ کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچائی ہو گی۔ مگر اپنی ہوم کنڈیشنز اور بین سٹوکس کی موجودگی میں جو روٹ کیا کچھ کر سکتے ہیں، یہ بھی سرفراز جانتے ہی ہوں گے۔

آٹھ سال پہلے جب مصباح نے ٹیم بنانا شروع کی تھی تو پہلا ہدف پہلی سیریز کو ڈرا کرنا تھا۔ لیکن اب یہ ٹیم مصباح کی نہیں، مکی آرھر کی ہے۔ اور مکی آرتھر کی ٹیمیں صرف اٹیک کرنا ہی جانتی ہیں۔

دیکھنا بس یہ ہو گا کہ مکی آرتھر کی ٹیم کاونٹر اٹیک بھی کر پاتی ہے؟

اسی بارے میں