انگلینڈ کے خلاف فتح: ’جو لارڈز میں کھویا تھا، وہیں سے مل گیا‘

محمد عباس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ محمد عباس کے کرئیر کا ساتواں میچ تھا اور سات میچوں میں ہی وہ چالیس وکٹیں حاصل کر چکے ہیں

2010 میں جو پاکستانی ٹیم لارڈز میں اتری تھی، اس کے پیس اٹیک میں محمد آصف، محمد عامر اور وہاب ریاض تھے۔ یہ پیس اٹیک پاکستان کے روایتی کرکٹ کلچر کا نمونہ تھا۔

150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باونسر پھینکنے والے وہاب ریاض کے ساتھ کرئیر کے عروج پہ، برق رفتار سیمر محمد عامر تھے۔ اور محمد آصف اس اٹیک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

مزید پڑھیئے

لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابی

نوجوان پاکستانی ٹیم کی لارڈز میں تاریخی فتح

پاکستان وہ میچ تقریبا آدھا جیت چکا تھا کہ بیچ میں ہی سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی پٹاری کھل گئی اور صرف میچ ہی نہیں، قابل فخر کرکٹ کلچر بھی پاکستان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔

چھ سال بعد جب مصباح کی قیادت میں پاکستانی ٹیم دوبارہ لارڈز میں اتری تو محمد آصف وقت کی گرد میں گم ہو چکے تھے۔ وہاب ریاض عروج پہ تھے اور محمد عامر ہر نگاہ کا مرکز تھے۔ پاکستان وہ ٹیسٹ جیت تو گیا لیکن اس جیت میں بنیادی کردار مصباح اور یاسر شاہ کا تھا۔ روایتی پیس اٹیک کا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیٹ ویسٹ ٹیسٹ سیریز میں صرف دو میچ ہیں اور پاکستان کو اس میں ناقابلِ شکست ایک صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ اگلا میچ ہیڈنگلی میں کھیلا جائے گا

جمعرات کو جب پاکستان لارڈز میں اترا تو وہاب ریاض بھی قصہء پارینہ ہو چکے تھے۔ محمد عامر اور حسن علی کے ساتھ تیسرے پیسر محمد عباس تھے۔

خدشات پاکستان کے لیے بہت تھے۔ انگلینڈ کی ہوم کنڈیشنز تھیں۔ یاسر شاہ موجود نہیں تھے۔ ٹاس ہوتے ہی چوتھی اننگز کی بیٹنگ بھی پاکستان کے حصے آ گئی جہاں ٹریک ریکارڈ کبھی بھی اچھا نہیں رہا۔

محمد عباس کا ٹیسٹ کرئیر ابھی شروع ہی ہوا ہے، اس کے باوجود وہ تمام ٹیسٹ پلئینگ نیشنز میں سے پچھلے اٹھارہ سال کے کامیاب ترین فاسٹ بولر بن چکے ہیں۔ یہ ان کے کرئیر کا ساتواں میچ تھا اور سات میچوں میں ہی وہ چالیس وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

لیکن صرف یہی وجہ نہیں ہے کہ ان کا موازنہ محمد آصف سے کیا جانے لگا ہے۔ جس ڈسپلن کے ساتھ وہ پے در پے ایک ہی لائن کو کھوجتے ہیں اور جس تکنیک سے وہ سیم کو استعمال کرتے ہیں، یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ پاکستان کو محمد آصف کا متبادل مل گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کے بولنگ اٹیک کے سب سے سینیئر بولر محمد عامر نے اس میچ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مجموعی طور پر پانچ وکٹیں حاصل کیں

اس سے بھی بڑی نوید یہ ہے کہ 2010 والے عامر نہ بھی سہی، اس کے نزدیک ترین عامر لوٹ آئے ہیں۔ حالانکہ پچھلے ایک سال میں محمد عامر کا ٹیسٹ کریئر کافی مدوجزر سے گزرا ہے۔ کئی بار انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی کا بھی سوچا۔

آئرلینڈ کے خلاف میچ میں انجری بھی شدت اختیار کر گئی لیکن اس کے باوجود پچھلے چار روز میں ان کی فارم اور فٹنس بہترین رہی۔

دو سال پہلے جب پاکستان لارڈز میں جیتا تھا تو بیس میں سے دس وکٹیں یاسر شاہ نے حاصل کی تھیں۔ پیس اٹیک کو صرف نو وکٹیں حاصل کرنا پڑی تھیں۔

اس بار پاکستان کے لیے مخمصہ یہ تھا کہ یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں بیس وکٹیں کیسے لی جائیں گی لیکن پیسرز نے شاداب خان کو پریشان ہونے کا کوئی موقع نہیں دیا اور اٹھارہ وکٹیں لے اڑے۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور سرفراز کے لیے یہ جیت ان گنت سوالوں کے جواب بھی دے گئی۔ لیکن تمام چیزوں سے زیادہ خوش آئند پہلو یہ ہے آٹھ سال پہلے پاکستان کا جو کرکٹ کلچر لارڈز میں گم ہو گیا تھا، اب وہی کلچر لارڈز میں ہی پھر سے پاکستان کے پاس لوٹ آیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں