شاہد آفریدی کے بین الاقوامی کریئر کا اختتام: ’شکریہ شاہد آفریدی ان تمام لمحات کے لیے‘

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ ICC/TWITTER

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور دنیا بھر میں اپنی جارحانہ بلے بازی کے لیے خود کو منوانے والے آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے بین الاقوامی کریئر کا لارڈز کے میدان پر اختتام ہو گیا ہے۔

شاہد آفریدی نے سنہ 1996 میں اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور پھر دنیائے کرکٹ کے افق کا وہ ستارہ بن گئے جو اب ہمیشہ چمکتا رہے گا۔

ان کے آخری انٹرنیشنل میچ میں انھیں آئی سی سی ورلڈ الیون کی جانب سے ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا گیا، اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر قومی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی شاہد آفریدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’شکریہ شاہد آفریدی ان تمام لمحات کے لیے۔‘

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شاہد آفریدی کے کریئر پر ایک نظر

آل راؤنڈر شاہد آفریدی ایک ایسے بلے باز کے طور پر جانے جاتے ہیں جو چاہے ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہوں، ون ڈے یا پھر ٹی ٹوئنٹی ان کا بیٹنگ کرنے کا انداز تبدیل نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تو ان کے چاہنے والے ہیں ہی لیکن شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا کونہ ہو جہاں شاہد آفریدی کے مداح نہ ہوں۔

اپنے جارحانہ انداز کے باعث ہی انھیں ’بوم بوم آفریدی‘ کا خطاب بھی ملا۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گو کہ شاہد آفریدی کا ٹیسٹ کرئیر زیادہ طویل نہیں رہا لیکن پھر بھی انھوں نے اس فارمیٹ میں بھی کئی بار اپنی جارحانہ بلے بازی سے اپنے مداحوں کے دل جیتے ہیں۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شاہد آفریدی نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز سنہ 1998 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ سے کیا تھا جبکہ انھوں نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ بھی آسٹریلیا ہی کے خلاف کھیلا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں شاہد آفریدی نے کل 27 میچ کھیلے اور 36.51 کی اوسط سے 1716 رنز بنائے۔ ٹیسٹ میچوں میں شاہد آفرید ی نے سب سے شاندار اننگز انڈیا کے خلاف کھیلی جس میں انھوں نے 128 گیندوں پر 156 رنز بنائے تھے۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آفریدی ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پانچ سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں، جبکہ بولنگ کی بات کریں تو اس فارمیٹ میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 48 ہے۔

اس کے برعکس ایک روزہ میچوں میں شاہد آفریدی کا کریئر تقریباً 20 سال کے طویل عرصے پر محیط رہا اور اسی فارمیٹ میں شاہد آفریدی نے کئی بار ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک روزہ میچوں اور شاہد آفریدی کا ذکر کیا جائے تو سب سے پہلی بات جو ذہن میں آتی ہے وہ ہے تیز ترین سنچری۔

شاہد آفریدی ان کھلاڑیوں میں سے نہیں جو اپنے کریئر میں آہستہ آہستہ بلندی کی جانب بڑھتے ہیں بلکہ انھوں نے تو اپنے کریئر کا آغاز ہی 37 گیندوں پر سنچری سکور کر کے کیا جو اس وقت بین الاقوامی کرکٹ کی تیز ترین سنچری اور ایک شاندار اننگز تھی۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے اپنے دوسرے ہی بین الاقوامی ون ڈے میچ میں سری لنکن بولنگ کے خلاف صرف 37 گیندوں پر سنچری سکور کی جس میں گیارہ چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔

398 ایک روزہ میچوں میں شاہد آفریدی نے 8064 رنز بنا رکھے ہیں، جن میں چھ سنچریاں اور 39 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

شاہد آفریدی کو ون ڈے انٹرنیشنلز میں 32 بار میچ کا بہترین کھلاڑی جبکہ چار مرتبہ سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسا نہیں کہ شاہد آفریدی صرف اپنی جارحانہ بلے بازی کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ وہ بولنگ کے شعبے میں بھی کئی بار عمدہ کارکردگی دکھا کر پاکستان کو میچز جتوا چکے ہیں۔

ایک روزہ میچوں میں ان کی کل وکٹوں کی تعداد 398 ہے جس میں ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 12 رنز کے عوض سات وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی ہے۔

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وسیم اکرم، وقار یونس، معین خان، انضمام الحق اور یونس خان جیسے کھلاڑیوں کی کپتانی میں تو شاہد آفریدی کھیلے ہی، بلکہ خود بھی پاکستان کرکٹ کی ٹیم کی کپتانی کی۔

سنہ 2009 سے 2014 تک شاہد آفریدی کی کپتانی میں پاکستان کی ون ڈے ٹیم نے 38 میچ کھیلےت جن میں سے 19 میں اسے کامیابی ہوئی جبکہ 18 میں شکست۔

انہی کی کپتانی میں پاکستان نے 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جہاں اسے انڈیا کی ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں