’چندیمل اندھیرے سے نہیں ہارے‘

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
دنیش چندیمل

،تصویر کا ذریعہAFP / Getty

سنیچر کی صبح جب ویسٹ انڈین بیٹسمین کریز پر آئے تو دنیش چندیمل کی ٹیم نے میدان میں آنے سے انکار کر دیا۔ امپائرز کا موقف تھا کہ گذشتہ دن سری لنکن ٹیم نے غیر قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

آئی سی سی قوانین کی رو سے امپائرز نے پانچ پینلٹی رنز ویسٹ انڈیز کے کھاتے میں ڈال دیے اور ساتھ ہی گیند بھی تبدیل کر دی گئی۔

جب امپائرز اور ویسٹ انڈین بیٹسمین گراونڈ میں کھڑے سری لنکن الیون کے منتظر تھے تب چندیمل کی ٹیم اور مینیجمنٹ ڈریسنگ روم میں میچ ریفری جواگل سری ناتھ سے بحث و تمحیص میں مصروف تھی۔

اس بحث مباحثے میں دو گھنٹے ضائع ہو گئے لیکن نہ تو چندیمل کا موقف بدلا نہ ہی میچ ریفری کا۔ لیکن جو دو گھنٹے کا کھیل ضائع ہوا اس میں کم از کم مزید 26 اوورز کا کھیل ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پیر کی شام جب بارش کے بعد روشنی کم ہونا شروع ہوئی تو 32 اوورز کا کھیل باقی تھا۔ ویسٹ انڈیز کی پانچ وکٹیں گر چکی تھیں اور وہ ہدف سے کوسوں دور تھی۔ سری لنکن فتح نوشتہ دیوار تھی۔

لیکن جب پاکستان کے امپائر علیم ڈار نے لائٹ میٹر کی ریڈنگ دیکھتے ہوئے کھیل روک دیا تو ایک جانب ویسٹ انڈیز کیمپ نہایت مطمئن نظر آیا جبکہ دوسری جانب سری لنکا کے کھلاڑی ایک بار پھر میچ حکام سے بحث کرتے دکھائی دیے۔

چندیمل کا اضطراب بے وجہ نہیں تھا۔ بال ٹیمپرنگ کے الزام کی خفت کے باوجود اگلے دو دن میں ان کی کپتانی اس قدر مؤثر رہی کہ سری لنکا ایک یقینی فتح کے قریب پہنچ چکا تھا۔

اگر سری لنکا یہ میچ جیت جاتا تو نہ صرف سیریز برابر ہو جاتی بلکہ بال ٹیمپرنگ کے الزام کے بعد ایسی فتح اخلاقی اور نفسیاتی نقصان کا کچھ نہ کچھ ازالہ بھی کر دیتی۔

گو واضح ویڈیو ثبوت موجود ہونے کے باوجود تاحال چندیمل اس الزام کی حیثیت سے انکاری ہیں۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ بھی کامل یکسوئی کے ساتھ آئی سی سی کے موقف کی تردید کر رہا ہے یہاں تک کہ سری لنکن حکام یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ ایسے کسی الزام کی صورت میں بورڈ ہر کھلاڑی کا بھر پور دفاع کرے گا۔

مگر یہ سب غیر ضروری تفصیلات ہیں۔ جو حقیقت موجود ہے اور تاریخ میں محفوظ رہے گی، وہ یہی ہے کہ فتح کے عین قریب آ کر بھی سری لںکا یہ میچ برابر کروا بیٹھا۔

جیسے سنہ 2006 کا اوول ٹیسٹ مجموعی قومی یاداشت میں آج تک ایک بھیانک خواب کی طرح بھٹکتا ہے۔ جذبات اور دلائل و براہین کو ایک طرف رکھ کر، اگر انضمام الحق اس وقت کھیل کا بائیکاٹ نہ کرتے تو یقیناً میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا۔

اب کوئی لاکھ کہتا رہے کہ زیادتی ڈیرل ہئیر نے کی تھی، یا یہ کہ آئی سی سی نے تعصب کا مظاہرہ کیا، تلخ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان نے وہ میچ خود ہی فورفیٹ کیا تھا۔ اب دنیا کی کوئی عدالت اس میچ میں پاکستان کا ریکارڈ بدل نہیں سکتی ہے۔

چندیمل بھی انضمام الحق کی طرح جذبات کی رو میں بہہ گئے وگرنہ یہ میچ ان کی جھولی میں آ گرتا۔ ہفتے کی صبح اگر دو گھنٹے چڑھی تیوریوں اور گرما گرم جذبات کی بجائے فیلڈ میں پرفارم کر کے جواب دیا جاتا تو شاید سال بعد کسی کو یاد بھی نہ ہوتا کہ کوئی بال ٹیمپرنگ بھی ہوئی تھی۔

سو پیر کی شام جب قدرے طویل گفتگو کے بعد امپائرز نے چندیمل کو فیلڈ چھوڑنے کا کہا تو صرف انھیں ہی نہیں، سبھی سری لنکنز کو یہ گماں ہوا کہ شاید وہ قسمت سے ہار گئے۔ لیکن چندیمل قسمت سے نہیں اپنے ہی جذبات سے ہارے۔ وہ ہفتے کی صبح کے ضائع کردہ دو گھنٹوں سے ہار گئے۔