میچ سے پہلے کھلاڑیوں کو سیکس سے کیوں روکا جاتا ہے؟

فیفا ورلڈ کپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گزشتہ ورلڈکپ میں جرمنی اور سپین کے کھلاڑیوں کو میچ سے ایک رات پہلے اپنی بیگمات سے ملنے کی اجازت نہیں تھی

1970 میں چیمپیئنز لیگ پر روانہ ہونے سے پہلے انگلش فٹبالرز نے اپنی بیویوں کو ساتھ لے جانے کے لیے ایک ٹریول کمپنی سے رابطہ کیا۔

اس سال چیمپئنز لیگ مالٹا میں ہو رہی تھی اور اس کمپنی نے ان کھلاڑیوں کی بیویوں کو مالٹا تو پہنچا دیا لیکن اس کمپنی نے جسے اس دور کے انگلش مینیجر کے مزاج کا علم نہیں تھا، ایک غلطی کردی۔

انھوں نے کھلاڑیوں کی بیگمات کو اسی ہوٹل میں ٹھہرا دیا جہاں ان کے شوہر رکے ہوئے تھے۔

اس وقت کے مینیجر سر ایلف رامسے نے جب لیجینڈری انگلش کھلاڑی سر بابی مور اور سر جیف ہرسٹ کو لابی میں اپنی بیگمات کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا تو وہ لفٹ سے نکل کر سیدھا ان کے پاس گئے اور نظر کا چشمہ نیچے کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا 'اگر آپ میں سے کوئی بھی آج رات اس ہوٹل کے اندر نظر آیا تو اُس خاتون کے شوہر کو میں ٹیم میں شامل نہیں کروں گا'۔

یہ بھی پڑھیے

ہندوستانی کرکٹرز کو سیکس کا ’مشورہ‘

فیفا ورلڈ کپ بچے نہیں، تہران میں عورتیں نہیں

کیا سیکس کی لت کوئی بیماری ہے؟

سپورٹس اور بالخصوص فٹبال میں میچ سے قبل جنسی رابطوں پر بحث بہت پرانی ہے اور اس سے کئی سکینڈل بھی سامنے آئے ہیں۔

سنہ 2009 میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کھلاڑیوں کو جنسی تعلقات قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انڈیا کے مقامی اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اس وقت کے ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن کی جانب سے کھلاڑیوں کو ایک خفیہ دستاویز دی گئی تھی جس کی سرخی تھی 'کیا سیکس کارکردگی بہتر بناتی ہے؟' تاہم بعد میں گیری کرسٹن نے ایسی کسی دستاویز سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

جرمنی کے سابق ٹینس پلیئر بورس بیکر اسی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔ ان کے کوچ نے انھیں میچ سے پہلے سیکس کرنے سے منع کیا تھا تاہم بورس نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کا کھلے عام اعتراف کیا۔

سابق برطانوی باکسنگ چیمپیئن کارل فروچ نے اپنے حریف جارج گروز کو ناک آؤٹ کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ 'میں نے تین ماہ سے کسی عورت کو ہاتھ نہیں لگایا'۔ لیجنڈری باکسر محمد علی بھی باکسنگ میچ سے پہلے کئی ہفتے تک سیکس نہیں کرتے تھے۔

اسی طرح 2010 میں میکسیکو کے کھلاڑی دنیا بھر کی شہ سرخیوں میں تھے۔ ان فٹبالرز نے پوری رات ایک ہوٹل میں ایک سیکس ورکر کے ساتھ پارٹی کی۔ اس واقعے کے بعد میکسیکو کی فٹبال فیڈیریشن نے 11 کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا اور دو کھلاڑیوں کو چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا۔

گذشتہ ورلڈ کپ میں جرمنی اور سپین کے کھلاڑیوں کو میچ سے ایک رات پہلے اپنی بیگمات سے ملنے کی اجازت نہیں تھی جبکہ بوسنیا کی ٹیم کے مینیجر نے سیکس پر مکمل پابندی اور کوسٹا ریکا کے مینیجر نے اپنے کھلاڑیوں سے کہا کہ 'اگر سیکس چاہیے تو دوسرے راؤنڈ تک پہنچنا ہوگا، تب تک کوئی سیکس نہیں کرے گا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپورٹس ماہرین کہتے ہیں کہ باکسنگ، این ایف ایل اور فٹبال میں جارحانہ رویہ ہی میچ کی ہار جیت کا فیصلہ کرتا ہے۔

لیکن سائنس یہ بات نہیں مانتی

علی گڑھ مسلم یونیورٹسی میں فزیکل ایجوکیشن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید خرم نثار کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے کھلاڑی کمزور نہیں ہوتے بلکہ یہ معاملہ 'کنٹرول' کا ہے۔

ان کے مطابق جیسے تجربے ایک کنٹرولڈ یا خاص ماحول میں کیے جاتے ہیں اسی طری کھلاڑیوں کو بھی بہتر کارکردگی کے لیے کنٹرول یا ڈسپلن میں رکھا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جسمانی اور دماغی تربیت دو الگ چیزیں ہیں اور شاید کوچز ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ کھلاڑیوں کی توجہ میچ سے نہ ہٹے۔

نیو اورلئینز میں سپورٹس فزیشن ڈاکٹر نیل بام بھی اس بات کو غلط قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تحقیق نے اس بات کو بار بار ثابت کیا ہے کہ مقابلے سے پہلے سیکس کرنا آپ کو ہرگز کمزور نہیں کرتا بلکہ آپ کے اعصاب کو سکون پہنچاتا ہے اور آپ زیادہ خوش محسوس کرتے ہیں اور توجہ دیتے ہیں۔

تو پھر مینیجرز اور کوچ کھلاڑیوں کو سیکس سے اجتناب کرنے کا کیوں کہتے ہیں؟ ڈاکٹر نیل بام کہتے ہیں کہ ایک غلط العام تاثر یہ بھی ہے کہ سیکس نہ کرنے سے کھلاڑی جارحانہ رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ متعدد سائنس اور تحقیقی سپورٹس جریدوں نے اس تاثر کو بھی غلط ثابت کیا ہے۔

کوچز سیکس سے کیوں روکتے ہیں؟

اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک خیال ہے کہ کوچ حضرات چاہتے ہیں کہ کھلاڑی زیادہ جارحانہ کھیلیں۔ سپورٹس ماہرین کہتے ہیں کہ ’کانٹیکٹ سپورٹس‘ کے زمرے میں آنے والے کھیل جیسا کہ باکسنگ، این ایف ایل اور فٹبال میں جارحانہ رویہ ہی میچ کی ہار جیت کا فیصلہ کرتا ہے۔

تاہم یہ بہت سی سوچوں میں سے صرف ایک سوچ ہے۔ زیادہ تر کوچز کھیل سے پہلے سیکس کو جسم اور خصوصاً ٹانگوں کی کمزوری سے جوڑتے ہیں، اس بات کو بھی سائنس غلط ثابت کرچکی ہے۔

جبکہ کچھ کوچز کا یہ بھی خیال ہے کہ چونکہ فٹبال عموماً نوجوان کھلاڑیوں کا کھیل ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ کم عمر کھلاڑی میچ سے ایک رات قبل سیکس کرتے ہوئے وقت ضائع کریں اور میچ کی صبح تھکے ہوئے ہوں۔

یہ بحث، ویسے تو ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی لیکن کہتے ہیں کہ اس کی شروعات 444 قبلِ مسیح میں ہوئی جب افلاطون نے کھلاڑیوں سے کہا تھا کہ اولمپکس کے دوران سیکس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں