جمشید مارکر: سوچا کرکٹ سے بھی تمباکو نوشی کی طرح پرہیز اختیار کر لوں

Image caption بھٹو کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ سب پر بہت زیادہ شک رکھتے تھے لیکن میرے ساتھ ان کی کبھی بھی توتو میں میں نہیں ہوئی

یہ آج سے چار سال پہلے کی بات ہے جب میں جمشید مارکر سے پہلی اور آخری بار ملا تھا۔

ظاہر ہے اس ملاقات کا سبب ان کا وہ انٹرویو تھا جو ان کے پاکستان کے اولین کرکٹ کمنٹیٹرز میں سے ایک ہونے کے سبب میں کرنا چاہتا تھا حالانکہ جمشید مارکر کی ایک اور بڑی خصوصیت اور پہچان سفارت کاری بھی ہے۔

کراچی کے علاقے باتھ آئی لینڈ کے بنگلے میں سلیقے سے سجی کتابوں والے ڈرائنگ روم میں وہ بڑے تپاک سے ملے تھے۔ اگرچہ وہ بٹن کی مدد سے چلنے والی کرسی (وہیل چیئر) پر بیٹھے تھے جس کا سبب انھوں نے پیروں کی کمزوری بتایا لیکن 93 سال کی عمر میں بھی وہ ہشاش بشاش دکھائی دیتے تھے۔ دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے جمشید مارکر نے اس ملاقات میں کرکٹ اور اپنی سفارت کاری دونوں پر کھل کر بات کی تھی۔

کمنٹری کے بارے میں گفتگو ان کے اس اظہار افسوس پر ختم ہوئی تھی کہ ’میرے پاس میری اپنی کمنٹری محفوظ نہیں ہے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے پاس یہ کمنٹری موجود ہے لیکن جب میں نے معلوم کیا تو وہاں سے بھی جواب نفی میں ملا تھا۔‘

کرکٹ پر طویل گفتگو کے بعد جمشید مارکر سے میں نے ان کی سفارت کاری اور پاکستان کے چند سابق حکمرانوں کے بارے میں بھی ان کی رائے جاننی چاہی تھی جس پر کسی لگی لپٹی کے بغیر انھوں نے جواب دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بھٹو صاحب بہت زیادہ ذہین اور چالاک تھے لیکن بے نظیر بھٹو کی بڑی خوبی ان کی ہمت اور مستقل مزاجی تھی۔ وہ مقابلے پر ڈٹی رہتی تھیں: جمشید مارکر

جمشید مارکر کی ذوالفقار علی بھٹو سے بڑی دوستی تھی جس کا انھوں نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا۔

’بھٹو ایک لیڈر کی حیثیت سے بڑے متحرک تھے اور انتہائی قابل شخص تھے لیکن متکبر بھی تھے۔ بھٹو کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ سب پر بہت زیادہ شک رکھتے تھے لیکن میرے ساتھ ان کی کبھی بھی توتو میں میں نہیں ہوئی۔‘

جمیشد مارکر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ ضیا الحق اور غلام اسحق خان کو دیتے تھے۔

’لوگ اس کا کریڈٹ بھٹو کو دیتے ہیں لیکن میری یہ بات کسی کو اچھی لگے یا نہ لگے لیکن اس کا سہرا ضیا الحق اور غلام اسحق خان کو جاتا ہے جنھوں نے سینہ تان کر یہ کیا بلکہ انھوں نے ملک کے مفاد میں امریکہ سے بھی جھوٹ بولا۔‘

میں نے جمشید مارکر سے پوچھا تھا کہ آپ بے نظیر بھٹو کا موازنہ ان کے والد سے کیسے کریں گے، کیا ان میں بھی وہی خصوصیات تھیں جو ان کے والد میں تھیں تو جواب نفی میں آیا۔

’بھٹو صاحب بہت زیادہ ذہین تھے لیکن بے نظیر بھٹو کی بڑی خوبی ان کی ہمت اور مستقل مزاجی تھی۔ وہ مقابلے پر ڈٹی رہتی تھیں۔‘

جمشید مارکر 1965 سے 1994 تک 19 ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے لیکن وہ خود کہتے تھے یہ تعداد 20 ہے وہ اس ضمن میں پاکستان کو بھی اس فہرست میں شامل کیا کرتے تھے۔

جمشید مارکر اس وقت کو بھی یاد کرتے تھے جب انہیں ایسے ممالک میں سفیر بناکر بھیج دیا جاتا تھا جہاں کرکٹ نہیں ہوتی تھی۔

’ایسے ممالک میں رہ کر کرکٹ سے رابطہ رکھنا مشکل ہو جاتا تھا لہذا ایک وقت آیا جب میں نے سوچا کہ کرکٹ سے بھی اسی طرح پرہیز اختیار کرلوں جیسے انسان تمباکو نوشی سے پرہیز اختیار کرلیتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں