فٹبال ورلڈ کپ 2018: لائیو نشریات کے دوران ایک شخص نے خاتون صحافی کو دبوچ کر بوسہ لیا

ڈی ڈبلیو ٹی وی تصویر کے کاپی رائٹ DW ESPANOL
Image caption یہ واقعہ براہ راست نشریات کے دوران پیش آیا

ایک خاتوں صحافی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں فٹبال ورلڈ کپ کے لیے براہ راست نشریات کے دوران ایک شخص نے خاتون صحافی کو دبوچ کر بوسہ لیا ہے۔

خاتون صحافی اپنی نشریات کے دوران شائقین کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر بات کر رہی تھیں۔

کولمبیا سے تعلق رکھنے والی نامہ نگار جولیتھ گونزیلز تھریان جرمن ٹیلی ویژن ایسپینل کے لیے ماسکو میں ٹی وی کیمرے کے سامنے کھڑی تھیں جب ایک شخص نے زبردستی انھیں دبوچ کر بوسہ لیا۔

انھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والی انتہائی نوعیت کی اس حرکت کے باوجود اپنی براہ راست نشریات میں خلل ڈالے بغیر اپنی رپورٹ مکمل کی لیکن اس کے بعد انھوں نے اس واقعہ پر آن لائن بات کی۔

گونزالز نے کہا کہ 'ہم اس طرح کے رویے کے حق دار نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی بھی قدر کی جانی چاہیے اور وہ بھی دوسرے پیشہ وار افراد کی طرح اہم ہیں۔

انھوں نے اپنے ادارے کو بتایا کہ وہ اس مقام سے براہ راست رپورٹ نشر کرنے کے لیے دو گھنٹے سے تیاری کر رہیں تھیں۔

گونزالز نے کہا کہ جب انھوں نے براہ راست نشریات شروع کی تو اس شخص نے صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ حرکت کر ڈالی۔

خاتون صحافی کے مطابق نشریات مکمل کرنے کے بعد جب انھوں نے شخص کو تلاش کرنے کے لیے ادھر اُدھر نظر ڈالی تو وہ شخص وہاں سے غائب ہو گیا تھا۔

یہ واقعہ گذشتہ ہفتے روس اور سعودی عرب کے درمیان روس کے شہر سرانسک میں کھیلے گئے میچ سے قبل پیش آیا۔

ڈی ڈبلیو نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی اور اس کو اپنی رپورٹر پر حملے اور ہراساں کیے جانے کے مترادف قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر بیشتر افراد نے اس واقعہ کو اتنا سنگیں قرار نہیں دیا۔ ایک شخص نے خاتون رپورٹر کے احتجاج کو نسوانی خوف اور ایک اور نے اس بوسے کو استقبالی اور پذیرائی کہا۔

گونزالز تھیران نے اس حرکت کے خلاف اور اپنے حق میں ذرائع ابلاغ کے ساتھیوں کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات کو دوبارہ ٹویٹ کیا۔

ڈی ڈبلیو ٹی وی کی کرسٹینا کیوبس نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ’یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ یہ کوئی بوسہ نہیں ہے اور کیونکہ اس میں خاتون کی مرضی شامل نہیں تھی۔‘

بدھ کو جرمنی نے اس واقعہ پر ایک مضمون شائع کیا جس میں خاتون کے مسائل پر جرمنی کی پہلی خاتون نیشنل لیگ کی ریفری نے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔

خواتین صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کا یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے قبل برازیل میں 52 خواتین صحافیوں نے اس سال ایک تحریک چلائی تھی جس کا مقصد کھیلوں کے شائقین کی جانب سے ہونے والے ایسے واقعات کو اجاگر کرنا تھا۔

گذشتہ برس ٹینس کے کھلاڑی میکسمی ہمو پر فرنچ اوپن میں اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب انھوں نے براہ راست انٹرویو کے دوران زبردستی ایک خاتون رپورٹر کا بوسہ لیا تھا۔

رپورٹر میری تھومس نے بعد میں کہا کہ اگر براہ راست نشریات نہ ہوتیں تو وہ ان کو مکا مارتی۔

فٹبال ورلڈ کپ کی کوریج پر تعینات دیگر خواتین نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے اسی نوعیت کے نامناسب رویے اور واقعات کی شکایت کی ہے۔

اسی بارے میں