برازیل بمقابلہ کوسٹا ریکا کا ٹاس پاکستانی نوجوان احمد رضا کرے گا

فیفا تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption احمد رضا کے والد شبیر احمد خود سیالکوٹ میں فٹ بال بناتے ہیں اور ان کا خاندان تین نسلوں سے فٹ بال کی سٹچنگ کا کام کرتا آیا ہے

کھیلوں کی مصنوعات بنانے کے لیے دنیا بھر میں مشہور پاکستان کا شہر سیالکوٹ سے 15 سالہ نوجوان احمد رضا روس میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ میں جمعہ کے روز برازیل اور کوسٹا ریکا کے درمیان میچ میں ٹاس کریں گے۔

احمد رضا کے والد شبیر احمد خود سیالکوٹ میں فٹ بال بناتے ہیں اور ان کا خاندان تین نسلوں سے فٹ بال کی سٹچنگ کا کام کرتا آیا ہے۔

احمد رضا جمعہ کو پہلے پاکستانی بن جائیں گے جو فیفا ورلڈ کپ کے گراؤنڈ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

احمد رضا کے لیے برازیل اور کوسٹا ریکا کے درمیان میچ کا ٹاس کرنا اور بھی زیادہ اہمیت اس لیے رکھتا ہے کہ وہ برازیل اور نیمار جونیر کے مداح ہیں اور ان کو موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم اور پسندیدہ کھلاڑی سے ملاقات کر پائیں گے۔

یہ قدم مشروبات بنانے والی کمپنی کوکا کولا نے لیا ہے۔ احمد رضا کے علاوہ وہ پاکستان نیشنل فٹ بال ٹیم کے کے کپتا کلیم اللہ کو بھی روس لے کر جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

احمد رضا سے پہلے اگرچہ کسی پاکستانی نے فیفا ورلڈ کپ میں نمائندگی نہیں کی ہے لیکن پاکستان کے بنے ہوئے فٹ بال فیفا ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

روس میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ میں بھی فٹ بال پاکستان ہی میں بنے ہیں۔

پاکستانی فٹبال کیسے پیچھے رہ گیا

اس سے قبل فیفا ورلڈ کپ 2014 میں بھی سیالکوٹ میں تیار کردہ فٹ بال استعمال کیے گئے تھے۔

پاکستان میں فٹبال کی صنعت تقسیم ہند سے پہلے کی موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا تیار کردہ فٹبال 1982 سے 2002 تک استعمال ہوتا رہا لیکن پھر دوسرے ممالک میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہونے والا فٹبال استعمال ہونے لگا۔

2002 کے عالمی کپ کے بعد فٹبال کے نگران ادارے فیفا نے کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی ایک عالمی کمپنی کی مدد سے فٹبال کی تیاری کی تکنیک کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا اور دو ہزار چار میں مصنوعی چمڑے سے مشینوں کے ذریعے مولڈڈ فٹبال کی تیاری شروع ہوئی اور یہ ہی وقت تھا جب پاکستان سے فٹبال کی برآمد متاثر ہونا شروع ہوئی۔

اسی بارے میں