’اگر زمبابوے کے کرکٹرز کو تنخواہیں مل جاتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زمبابوے کرکٹ بورڈ تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے گھمبیر مسائل میں گھرا ہے اور پلئیرز بائیکاٹ کی دھمکیوں سے آگے بڑھ کر انکار تک کر چکے ہیں۔

محمد عامر نے درخواست کی تھی کہ انھیں دورہِ زمبابوے سے آرام دیا جائے۔ مگر پی سی بی نے ان کی درخواست کو درخور اعتنا نہ جانا اور ان کی عدم رضا مندی کے باوجود انھیں پاکستان کے سکواڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ سرفراز احمد کا یہ ماننا ہے کہ ورلڈ کپ 2019 سے پہلے پاکستان کی کوئی بھی سیریز، کوئی بھی میچ غیر اہم نہیں ہے۔ اسی لیے سامنے بھلے آئرلینڈ ہو کہ زمبابوے، سرفراز احمد کی پہلی ترجیح پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترنا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کی اس قدر بہتات ہے کہ بلا کسی سیاق و سباق سارا سال چلتے چلی جاتی ہے۔ سو اگر اس دوطرفہ ٹریفک کے درمیان کوئی سہ فریقی سیریز نظر آ جائے تو اچانک نگاہیں رک جاتی ہیں۔

پہلے کبھی، جب ٹی ٹونٹی نے ہلہ نہیں بولا تھا اور ہر ملک ہر دوسرے کے خلاف بلا لیت و لعل کھیلتا تھا، تب ون ڈے کی سہ فریقی سیریز عام تھیں۔ لیکن پھر جب ٹی ٹونٹی کا انقلاب آیا اور سبھی بورڈز سر نیہوڑا کر تجوریاں بھرنے میں جت گئے تو ون ڈے ہو بھلے ٹی ٹونٹی، سیریز دوطرفہ ہی ہونے لگیں۔

پاکستان نے آخری بار کب کسی سہ فریقی سیریز میں حصہ لیا تھا، یہ جاننے کے لیے گوگل کو کھوجنا پڑتا ہے۔

ایسے میں یہ سہ فریقی سیریز پاکستانی فینز کے لیے تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ اگلا ایک ہفتہ وہ یہی سوچتے رہیں گے کہ آج کون کس کو ہراتا ہے اور ٹیبل میں کس طرف کو جا رہا ہے۔

پاکستان ٹی ٹونٹی کی عالمی رینکنگ میں نمبرون ٹیم ہے۔ لیکن اس کے باوجود سرفراز احمد نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس سیریز میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی تک کے حالات و واقعات بھی پاکستان ہی کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں کیونکہ مدمقابل دونوں ٹیمیں بذات خود شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔

ایک طرف آسٹریلیا ہے جو بال ٹیمپرنگ کی گرد سے ابھی تک نکل نہیں پائی۔ سٹیون سمتھ اور ڈیوڈ وارنر کیا گئے، آسٹریلینز جیتنا ہی بھول گئے۔ ابھی انگلینڈ نے ان کا جو حشر کیا ہے، اب بلاشبہ وہ بھرپور جوش کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ لیکن کیا یہ جوش ایرون فنچ کے لیے کارگر بھی ثابت ہو گا؟

جبکہ زمبابوے کے مسائل ہی کچھ الگ نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف بورڈ تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے گھمبیر مسائل میں گھرا ہے۔ پلئیرز بائیکاٹ کی دھمکیوں سے آگے بڑھ کر انکار تک کر چکے ہیں۔ اس پہ طرہ یہ کہ ان تمام انہونیوں کے باوجود زمبابوے کرکٹ بورڈ ہی اس سیریز کا میزبان ہے۔

غالباً یہ ایسی کسی سیریز کا واحد میزبان ملک ہے جس کے پانچ سٹار پلئیرز تنخواہیں نہ ملنے پہ کھیلنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اور آج جو زمبابوین ٹیم میدان میں اترے گی، اس میں پانچ سیکنڈ چوائس پلئیرز ہوں گے۔

زمبابوے کرکٹ بورڈ ہی نہیں، آئی سی سی کے لیے بھی یہ مقام فکر ہے کہ ایک طرف اس کے پاس پلئیرز کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں، دوسری جانب حالیہ ٹرائی سیریز اور پاکستان کے خلاف ون ڈے میچز کے بعد اگلے بارہ ماہ زمبابوے کا انٹرنیشنل کیلنڈر بالکل خالی ہے۔

اس تناظر میں یہ سہ فریقی سیریز خودبخود ہی دو طرفہ ہو جاتی ہے جہاں تین روز پہلے تک زمبابوین پلئیرز کو یہی معلوم نہ تھا کہ کریمر کی عدم موجودگی میں ان کا کپتان کون ہو گا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے لیے اس سیریز میں کافی کچھ ہے مگر زمبابوین شائقین کے پاس یوں ہاتھ ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اگر ان کے سٹار پلئیرز کو تنخواہیں مل جاتیں تو شاید یہ سیریز کچھ مختلف ہوتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں