ماساکدزا بھول گئے کہ محمد نواز بھی ہیں!

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
جن ٹیموں نے بھی پاور پلے میں لیفٹ آرم سپن کا استعمال کیا، ان کی کامیابی کا تناسب زیادہ رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جن ٹیموں نے بھی پاور پلے میں لیفٹ آرم سپن کا استعمال کیا، ان کی کامیابی کا تناسب زیادہ رہا۔

ماساکدزا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیوں نہ کیا؟ یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ پاکستانی بیٹنگ کو تعاقب کی آزمائش میں ڈالتے اور پاور پلے میں اچھی بولنگ کا فائدہ اٹھا کر میچ کو دلچسپ بنا لیتے۔

کرکٹ کی ریت عموماً یہی رہی ہے کہ ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ ہی کیا جاتا ہے تاوقتیکہ میچ ڈے نائٹ اور ماحول اوس زدہ نہ ہو۔ مگر ٹی ٹونٹی نے آ کر اس ریت کو بھی توڑ دیا ہے۔

ٹی ٹونٹی میں اکثریت ٹاس جیت کر بولنگ کا ہی فیصلہ کرتی ہے تاکہ ہدف کا تعین نہ کرنا پڑے۔ ٹی ٹونٹی میں ہدف کا تعاقب نسبتاً آسان ہوتا ہے کہ ایک اوور میں ہی پانسہ پلٹ سکتا ہے۔

لیکن ماساکدزا نے بولنگ کا فیصلہ صرف اس تناظر میں نہیں کیا۔ وہ دراصل پاکستانی بولنگ سے خوفزدہ تھے۔ اور ٹورنامنٹ کے پہلے ہی گھنٹے میں اپنی نوآموز بیٹنگ لائن کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔

اس وکٹ پہ 150 کا ہدف بھی کسی اچھی ٹیم کو حواس باختہ کر سکتا تھا لیکن پاکستان نے اس سے بھی کافی آگے جا کر بند باندھا۔ آصف علی کی طوفانی اننگز اس رفتار سے آئی کہ شعیب ملک اور فخر زمان کی کاوشیں بھی ماند پڑتی نظر آئیں۔

سرفراز احمد نے بطور کپتان کوئی ٹی ٹونٹی سیریز ہاری نہیں ہے۔ اور یہ بھی محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ ٹی ٹونٹی میں ہمیشہ وہ لیفٹ آرم سپنر سے ہی اٹیک کرواتے ہیں۔ پہلے عماد وسیم اٹیک کیا کرتے تھے۔ اب یہ کام محمد نواز کے سپرد ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ٹی ٹونٹی میں کسی بھی بیٹسمین کے پاس کریز پہ جمنے کا وقت نہیں ہوتا۔ مطلوبہ رن ریٹ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ سوچ کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور بیٹسمین کی شاٹ سیلیکشن خود بخود ریفلیکسز کے ماتحت ہو جاتی ہے۔

اس صورت حال میں جب بیٹسمین کے سامنے لیفٹ آرم سپنر ایک مشکل اینگل پیدا کرتا ہے تو ریفلیکسز کی ترتیب الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔ لیفٹ آرم سپن کی ٹریجیکٹری ایسی پیچیدہ ہوتی ہے کہ بیٹسمین، خواہ دائیں ہاتھ کا ہو خواہ بائیں ہاتھ کا، کہیں نہ کہیں دھوکہ کھا ہی جاتا ہے۔

پی ایس ایل کی مثال لیجیے۔ جن ٹیموں نے بھی پاور پلے میں لیفٹ آرم سپن کا استعمال کیا، ان کی کامیابی کا تناسب زیادہ رہا۔ گذشتہ سیزن میں اس کا سب سے زیادہ فائدہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے اٹھایا جو پاور پلے میں ہمیشہ سمت پاٹیل سے اٹیک کرواتے تھے۔

گذشتہ دنوں آئی سی سی نے کرکٹ فینز کی جغرافیائی اور نفسیاتی حدود کا جائزہ کرنے کو ایک گلوبل سروے کیا، جس کے نتائج میں نوے فیصد اکثریت نے یہ کہا کہ ٹی ٹونٹی ان کا پسندیدہ کرکٹ فارمیٹ ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کسی بھی لیول کی کوئی ایسوسی ایٹ ٹیم بھی اگر کسی دوسرے ملک سے ٹی ٹونٹی میچ کھیلتی ہے تو اسے انٹرنیشنل میچ کا درجہ ہی دیا جاتا ہے۔ اس فارمیٹ میں اتنا پوٹینشل ہے کہ کرکٹ کو چند ممالک سے نکال کر ایک گلوبل سپورٹ بنا سکتا ہے۔

لیکن آج کے میچ میں ان نوے فیصد اکثریتی فینز میں سے کافی فیصد غائب رہے۔ اس کی وجہ کا تعین نہ تو سرفراز احمد کو کرنا ہے نہ ہی ماساکدزا کو، بلکہ آئی سی سی کو یہ دیکھنا ہو گا کہ فارمیٹ سے بڑھ کر بھی کون سے پیرائے ہیں جو شائقین کو کھینچ کر سٹیڈیمز تک لا سکتے ہیں۔

کیونکہ کرکٹ کی کسمپرسی کا یہ ہے کہ ایک طرف فٹبال ورلڈ کپ ہو رہا ہے جہاں سٹیڈیمز میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے، دوسری طرف چیمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنل میں بھی نشستیں خالی رہ جاتی ہیں۔

زمبابوے نے آج جو پرفارمنس دی، اس کا دوش ماساکدزا پہ نہیں ہے۔ وہ صرف آئی سی سی پہ ہے کہ جس کے یہاں پیسے کی بندربانٹ ہی یوں ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اگر زمبابوے کرکٹ بورڈ کی جیب میں کچھ پیسے ہوتے تو شاید آج ماساکدزا کی ٹیم ایسے نہ ہارتی۔

بہر حال اپنے تئیں ماساکدزا کا فیصلہ درست ہی تھا کہ قدرے سست ہوتی وکٹ پہ ہدف کا تعاقب کیا جائے۔ بس ذرا سی اندازے کی غلطی ان کے آڑے آ گئی۔ ٹاس جیت کر فیصلہ کرتے وقت وہ یہ بھول گئے کہ مخالف اٹیک میں لیفٹ آرم سپنر محمد نواز بھی ہوں گے۔