ورلڈ کپ 2018: ’روسی سٹیڈیم اپنی جگہ لیکن لیاری میں میچ کا مزہ الگ ہی تھا‘

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Khaula Jamil
Image caption لیاری کی معروف بومباسا سٹریٹ میں فٹبال کے مداح

میں عمومی طور پر تو فٹبال زیادہ نہیں دیکھتی لیکن ہر چار سال بعد ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے میرا جوش عروج پر ہوتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ جس طرح فٹبال کے مداح اپنے پسندیدہ کھیل کو دیکھنے کے لیے متحد ہوتے ہیں، ایسا شاید ہی کسی اور کھیل میں ہوتا ہو۔

شاید کچھ لوگ فٹبال سے اس جنون کی حد تک لگاؤ کو کٹر وطن پرستی سمجھتے ہوں لیکن میرے نزدیک یہ کھیل نسل، رنگ، ذات اور مذہب سے بڑھ کر ہے۔

فٹبال ورلڈ کپ کے بارے میں مزید پڑھیے

فیفا ورلڈ کپ 2018: بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

فیفا ورلڈ کپ: میچ اور نتائج

لیاری میں فٹ بال کا بخار، پیپلز پارٹی پریشان

نیمار نے برازیل کو کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا

کیا برازیل، کروشیا یا یوروگوئے فائنل میں ہیں؟

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص قومیت کے لحاظ سے عرب نژاد فرانسیسی ہو لیکن اس کا آبائی ملک الجزائر ہو اور وہ ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کر لے، تو شاید وہ شخص پیرس کی مشہور سڑک شانزے لیزے پر فرانس کے بجائے الجزائر کا جھنڈا لہراتا ہوا پایا جائے گا۔

اسی تناظر میں جب گذشتہ ماہ میں فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلے دیکھنے روس گئی تو ایسا نہیں تھا کہ بحیثیت پاکستانی میرے ملک کی ورلڈ کپ میں عدم شمولیت مجھے کسی اور ملک کی حمایت کرنے سے روک سکتی تھی۔

اور ذاتی طور پر میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت آسان تھا کہ میں کس ملک کی حمایت کروں۔ کیونکہ میں ہمیشہ سے لاطینی موسیقی اور وہاں کی ثقافت کی مداح رہی ہوں اور پھر 2002 سے کسی لاطینی امریکی ٹیم نے ورلڈ کپ نہیں جیتا تھا تو میری ہمدردیاں اس براعظم کے ممالک کے ساتھ تھیں۔

فٹبال تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy Wajiha Naqvi
Image caption مضمون کی مصنفہ (دائیں جانب) نے ورلڈ کپ میں لاطینی امریکہ کے ممالک کی حمایت کا فیصلہ کیا

ورلڈ کپ کے میچوں میں شرکت کے بعد جب میں پاکستان واپس آئی تو میری دوست خولہ نے میرے فٹبال کے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں روس جیسا جوش و جنون کراچی کے علاقے لیاری میں دیکھنا چاہوں گی تو میں فوراً راضی ہوگئی۔

لیاری کراچی کا سب سے پرانا علاقہ ہے اور عام طور پر اس کی شہرت کی وجہ اس علاقے کے جرائم پیشہ عناصر اور گینگ وارز ہیں لیکن ورلڈ کپ کے دوران وہاں جرائم کے تناسب میں کمی دیکھنے میں آتی ہے اور اسے 'کراچی کے سب سے خطرناک علاقہ' کے بجائے 'منی برازیل' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

روس تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy Wajiha Naqvi
Image caption مضمون کی مصنفہ ورلڈ کپ میں ماسکو کے لوزہنیکی سٹیڈیم کے باہر

جب ہم وہاں پہنچے تو لیاری سے تعلق رکھنے والے ہمارے گائیڈ اور فلمساز احسن شاہ ہمیں لیاری کی مشہور 'بومباسا سٹریٹ' لے گئے جو کہ وہاں کے ایک رہائشی امجد میامی کے دادا سے منسوب ہے جو مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کے شہر مومباسا سے ترکِ وطن کر کے کراچی منتقل ہو گئے تھے۔

مومباسا سٹریٹ فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے لیاری کی چند مشہور جگہوں میں سے ایک ہے۔ اس گلی میں جگہ جگہ مختلف ممالک کے جھنڈے دیواروں پر بنائے گئے تھے اور میچوں کے سکور کا ریکارڈ لکھا گیا تھا۔ لیکن ان تمام جھنڈوں کے درمیان نمایاں طور پر پاکستان کا سبز ہلالی جھنڈا بنا ہوا تھا۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیاری میں برازیل اور ارجنٹینا سب سے مقبول ٹیمیں ہیں

اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ روس میں بھی کچھ ایسا ہی تھا اور دنیا بھر سے آئے ہوئے شائقین، جن کی ٹیم ورلڈ کپ کا حصہ بھی نہیں تھیں لیکن وہ جہاں جاتے اپنے ملک کے جھنڈے ساتھ لے جاتے۔

لیکن جس ملک کا جھنڈا وہاں سب سے زیادہ مقبول تھا، وہ تھا برازیل اور دوسرے نمبر پر تھا ان کے روایتی حریف ارجنٹینا کا جھنڈا۔

میں نے وہاں لوگوں سے سوال کیا کہ برازیل ہی وہاں پر کیوں اتنا مقبول ہے تو مجھے جواب دیا گیا کہ 'وہ شکل و صورت میں ہمارے جیسے ہیں۔'

کیونکہ میں نے روس میں برازیل کا کوسٹاریکا سے ہونے والے مقابلہ سٹیڈیم میں دیکھا تھا، میں نے فوراً تہیہ کر لیا کہ میں برازیل کا اگلا میچ دیکھنے لیاری آؤں گی۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Khaula Jamil
Image caption لیاری کے باسی مختلف محلوں میں بڑی سکرینز پر ورلڈ کپ دیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں

مومباسا سٹریٹ کے بعد احسن ہمیں لیاری کے مشہور میدان بھیا باغ لے گئے جہاں دو مقامی ٹیمیں فٹبال کا میچ کھیلنے میں مصروف تھیں۔ میں نے نوٹ کیا کہ میرے اور میری دوست کے علاوہ اس بھرے ہوئے میدان میں کوئی اور عورت موجود نہیں تھی۔

اس میدان میں گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اتنے جوش و جذبے سے مقابلہ کر رہے تھے جیسے وہ لیاری کے سہولیات سے عاری میدان میں نہیں بلکہ ماسکو کے لوزہنیکی سٹیڈیم میں میچ کھیل رہے ہوں۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Khaula Jamil
Image caption لیاری کے بھیا باغ میں دو مقامی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جا رہا ہے

لیکن ایک حیران کن بات جو نظر آئی کہ لیاری میں ورلڈ کپ میچز دیکھنے کے لیے جتنا واضح جوش و جذبہ وہاں کے رہائشیوں میں تھا، اُس کے برعکس ویسا جذبہ مجھے اس بھرے ہوئے میدان میں نظر نہیں آیا۔ زیادہ تر تماشائی خاموشی سے، ساکت بیٹھ کر میچ دیکھ رہے تھے اور وہاں کوئی بینڈ باجا اور شور نہیں تھا۔ شاید وہ لوگ دو مقامی ٹیموں کے بجائے برازیل کے میچ کے بارے میں سوچ رہے تھے؟

پیر کو میں اپنی دوست کے ساتھ دوبارہ لیاری کے علاقے بغدادی گئی تاکہ برازیل کا میکسیکو کے خلاف ہونے والا میچ وہاں دیکھ سکوں اور اس دن وہاں کا ماحول ہی کچھ اور تھا۔ ہر گلی محلے میں لوگوں نے میچ کے لیے سکرین لگائی ہوئی تھیں، خواہ وہ کوئی کریانے کی دکان ہو یا چائے کا ڈھابا۔

روس میں ورلڈ کپ کے دوران میں نے دیکھا تھا کہ وہاں فیفا کی جانب سے ایک مقررہ مقام پر باضابطہ طور پر سکرین کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اسے 'فین فیسٹ' کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر وہ شائقین میچ دیکھ سکتے ہیں جن کے پاس سٹیڈیم کے ٹکٹ نہیں ہوتے۔

روس تصویر کے کاپی رائٹ Wajiha Naqvi
Image caption فیفا نے ورلڈ کپ میں مختلف شہروں میں بغیر ٹکٹ والے شائقین کے لیے فین فیسٹ کے مقامات قائم کیے جہاں مقابلے بڑی سکرین پر دکھائے جاتے تھے

لیاری میں بھی ایک سے زائد مقامات پر ایسی سکرینز لگی ہوئی تھیں جیسے مومباسا سٹریٹ، علی محمد محلہ وغیرہ۔ لیکن روس کے برعکس، یہ اہتمام فیفا یا کسی سرکاری باڈی یا کسی نجی ادارے نے نہیں بلکے اس علاقے کے رہائشیوں نے اپنے شوق اور برازیل سے محبت کی خاطر اپنی مدد آپ کے تحت کیا تھا۔

کچھ لوگوں نے ہمیں اپنے گھروں کی چھت پر بلایا تاکہ ہم اونچائی سے دیکھ سکیں کے کتنی بڑی تعداد میں لوگ وہاں پر میچ دیکھنے کے لیے جمع ہیں۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Khaula Jamil
Image caption لیاری کے رہائشی عظیم بلوچ کے گھر کی چھت جہاں سے علی محمد محلے میں لگائی جانے والی سکرین دیکھی جا سکتی ہے

شام سات بجے میچ شروع ہونے کے بعد سکرینز پر میچ دیکھنے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے تھے اور برازیل کی جرسی پہنے غور سے میچ دیکھ رہے تھے۔ وہاں پر برازیل کے سب سے اہم کھلاڑی نیمار کے بے تحاشا مداح تھے اور ان کے کسی بھی ’پاس‘ پر بلوچی زبان میں 'جیے نیمار' کے نعرے بلند ہوتے تھے۔

نیمار نے جب برازیل کے لیے میکسیکو کے خلاف گول سکور کیا تو وہاں پر تو جیسے ایک ہنگامہ مچ گیا۔ نوجوانوں نے زور زور سے نعرے لگائے ، ڈھول بجائے اور آتش بازی کی اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سب سٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھ رہے ہیں۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Khaula Jamil

لیاری میں میچ دیکھنے کے تجربے میں ایک چیز جس نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ تھا وہاں کی کم عمر لڑکیوں کا فٹبال دیکھنے میں دلچسپی رکھنا۔ ان میں سے کئی نے نیمار کے نام والی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

جب میں نے ان سے برازیل کے معروف کھلاڑی مارسیلو کے بارے میں سوال کیا تو ایک دس سالہ لڑکی نے مجھے بتایا کہ وہ زخمی ہونے کی وجہ سے میچ نہیں کھیل رہا۔ اس سے مجھے ظاہر ہوا کہ ان بچیوں کو واقعی فٹبال میں کتنی دلچسپی ہے۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Rahat Rafiq
Image caption کم عمر لڑکیوں میں بھی برازیل سب سے مقبول ٹیم تھی

برازیل کی جیت کے بعد علی محمد محلے میں زور و شور سے جشن منایا جا رہا تھا اور ایک چیز جو میں نے وہاں دیکھی کہ ذکری برادری کی ایک مسجد پر برازیل کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر میں نے سوچا کہ جس کسی نے بھی کہا تھا کہ فٹبال ایک مذہب ہے، اس نے غلط نہیں کہا تھا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور میں بہت خوش قست ہوں کہ میں نے روس میں ورلڈ کپ کے مقابلے دیکھے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو مزہ مجھے لیاری میں میچ دیکھتے ہوئے آیا، وہ احساس ناقابل بیان ہے۔

یہ تھی لیاری کی بہترین عکاسی۔

لیاری تصویر کے کاپی رائٹ Rahat Rafiq
Image caption برازیل کے فارورڈ نیمار لیاری بھر میں شائقین کے سب سے مقبول کھلاڑی ہیں

وجیہہ نقوی کراچی کی رہائشی اور فٹبال کی شائق ہیں۔

اسی بارے میں