پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: فخر زمان نے بلی سٹین لیک سے نمٹ لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر غلط نہیں کیا۔ تین دن پہلے بھی ٹاس جیت کر انھوں نے یہی کچھ کیا تھا۔ پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی اور پاکستانی بیٹنگ لائن سوکھے پتوں کی طرح جھڑ گئی۔

ٹورنامنٹ کے تناظر میں آج کا میچ بالکل بے معنی تھا۔ پاکستان اور آسٹریلیا دونوں ہی فائنل میں پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے یہ میچ بظاہر رسمی کارروائی ہی تھا۔ پاکستان یا آسٹریلیا، کوئی بھی جیتتا، ٹورنامنٹ پہ کوئی خاص فرق نہ پڑتا۔

لیکن محض نفسیاتی برتری سے سوا بھی یہ ایک جنگ ہی تھی۔ پاکستان اگر یہ میچ ہار جاتا تو ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن سے محروم ہو جاتا اور ایرون فنچ کی ٹیم اس کی جگہ لے لیتی۔

پاکستان نے آسٹریلیا سے شکست کا بدلہ لے لیا

پاکستان سوچے کہ بلی سٹین سے کیسے نمٹنا ہے۔۔۔

سو، اس پیرائے میں دیکھا جائے تو فنچ کا فیصلہ کچھ غلط نہیں تھا۔ پچھلے میچ میں بلی سٹین لیک نے پاورپلے میں ہی میچ کی بساط قریب قریب لپیٹ دی تھی۔ آج بھی کچھ ویسا ہی متوقع تھا۔

لیکن آج فخر زمان کسی اور ہی فارم میں تھے۔ میچ شروع ہوا۔ بلی سٹین لیک اٹیک کرنے آئے۔ فخر زمان سامنا کر رہے تھے۔ پہلی گیند لیگ سٹمپ پہ ہاف وولی تھی، فخر زمان نے نہایت آسانی سے اسے لپیٹ کر باونڈری کے پار بھیج دیا۔

اس کے بعد اگلی چار گیندیں قدرے بہتر تھیں۔ فخر زمان کچھ کچھ پھنسے بھی نظر آئے لیکن اوور کی آخری گیند پہ تھوڑا سا مارجن ملتے ہی ایک بار پھر اسے باونڈری لائن کے پار بھیج دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلی سٹین لیک چار اوورز میں 30 رنز دے کر بھی کوئی وکٹ حاصل نہ کر پائے

فخر زمان ایسے فلو میں تھے کہ دن کی پہلی پانچ باونڈریز انہی کے بلے سے نکلیں اور پانچوں بار سامنے بلی سٹین لیک ہی تھے۔ یہ وہی بلی سٹین لیک تھے جو تین دن پہلے پاکستانی بیٹنگ لائن کے اعصاب پہ ایسے سوار تھے کہ چار اوورز میں صرف آٹھ رنز دے کر ٹاپ آرڈر کی چار قیمتی وکٹیں لے اڑے تھے۔

لیکن آج بلی سٹین لیک کا نہیں، فخر زمان کا دن تھا۔ انھوں نے 42 گیندوں پہ 73 رنز بنا کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ان کے مخالف بلی سٹین لیک چار اوورز میں 30 رنز دے کر بھی کوئی وکٹ حاصل نہ کر پائے۔ پچھلے میچ میں وہ آسٹریلیا کے ہیرو تھے، آج فخر زمان نے ان کو بالکل بے بس کر دیا۔

سبھی نہیں، کسی کسی کو یہ ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی پوری ٹیم کی ساکھ کا بوجھ اپنی کمر پہ لاد لیتا ہے اور اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ کل کے میچ میں سولومان مائر کی اننگز بھی اسی سوچ کا مظہر تھی۔

آسٹریلیا کے خلاف میچ میں سولومان مائر باونڈری کے قریب فیلڈنگ کر رہے تھے۔ جب فنچ کی جارحیت کے سامنے زمبابوین ٹیم بالکل بے بس ہو گئی تو زمبابوین شائقین نے آسٹریلیا کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا۔

بات اسی پہ موقوف رہتی تو بھی کچھ نہ بگڑتا، لیکن ساتھ ہی شائقین نے زمبابوے کی ٹیم پہ جملے کسنے بھی شروع کر دیے۔ سولومن مائر سے یہ سہا نہ گیا اور اگلے ہی میچ میں پاکستان کے خلاف انھوں نے 93 رنز داغ دیے۔

زمبابوے کی قسمت اچھی نہ تھی کہ مائر کی اننگ ان کے کام آتی لیکن پاکستان کے لیے فخر زمان کی اننگز بہت کار آمد رہی۔ فائنل سے پہلے نفسیاتی برتری ہی نہیں، رینکنگ کی برتری بھی برقرار رہ گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں