'خون بہے یا پسینہ چاہے آنسو مل کے لڑنا ہے‘

The Croatian football team celebrate victory over England تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لوژنیکی سٹیڈیم سے بدھ کی رات باہر نکلتے ہوئے جیکب مونٹک سے میکسیکو ٹی وی کے کریو نے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بارے میں ان کے خیالات جاننے چاہے اور پوچھا کہ کیا ایسا تو نہیں ہو گا کہ یہ موقع آپ کی محبوب ٹیم کے لیے زیادہ ہی بڑا ثابت ہو۔

17 برس کے لڑکے نے جواب دیا: 'تم لوکا موڈرچ کو جانتے ہو نا؟ جب وہ فٹبال کھیلتے تھے تو انھیں بارودی سرنگوں کے درمیان سے گیند کو نکالنا ہوتا تھا۔ ان کی طرح ہم بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔'

موڈرچ یقیناً ’جنگ کے دوران پیدا ہونے والے بچوں‘ میں سے ایک ہیں جنھوں نے کروشیا کو کھیلوں کے ایک تاریخی لمحے تک پہنچا دیا ہے۔

کروشیا کی فٹبال ٹیم کے متعدد اہم کھلاڑیوں نے سنہ 1991 میں یوگوسلاویہ کے خاتمے کے بعد خونی جنگ دیکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست، کروشیا پہلی بار فائنل میں

پہلے سیمی فائنل میں بیلجیئم کو شکست،فرانس فائنل میں

انگلینڈ 28 سال بعد فٹ بال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں

کیا ایک کھلاڑی ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سلووینیا اور کروشیا کی جانب سے آزادی کے یک طرفہ اعلان کے نتیجے میں سربیا کی افواج نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

موڈرچ اور ایک دوسرے معروف کھلاڑی ویدران کولوکا فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے بے گھر ہوئے اور کروشیا میں پناہ گزینوں کے طور پر رہتے تھے۔

بے گھر اور جلا وطن

متعدد دوسرے افراد بے گھر ہو گئے اور انھیں ملک چھوڑنا پڑا۔ بارسلونا کے سٹار کھلاڑی ایوان راکیتیچ کے اہلِ خانہ سوئٹزر لینڈ چلے گئے اور وہاں آباد ہو گئے۔ ایوان راکیتیچ نے کروشیا کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے سوئٹزر لینڈ میں ہر سطح تک کھیل کھیلنا بند کر دیا۔

ایوان راکیتیچ نے پلیئرز ٹریبیون نامی ویب سائٹ پر لکھا: 'ایک بچے کے طور پر بلقان میں کیا ہو رہا ہے سوچنا بہت مشکل تھا۔ میرے والدین نے کبھی میرے بھائی اور مجھ سے لڑائی کے حوالے سے بات نہیں کی تھی اور انھوں نے اپنے بہت سے پیاروں کو کھو دیا تھا، ہم خوش قسمت تھے۔'

بے گھر ہونے والوں میں ماریو ماندزوکچ کا خاندان بھی شامل تھا۔ ماریو ماندزوکچ نے روس میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف گول کیا تھا۔ اپنے خاندان کے بھاگ جانے کے بعد وہ جرمنی میں پلے بڑھے۔

اگرچہ موڈرچ نے بارودی سرنگوں کو 'مخالف کھلاڑی' کے طور پر استعمال تو نہیں کیا لیکن وہ زادار کے ساحلی قصبے میں ایک پرانی فٹبال سے اس وقفے میں گلیوں میں ضرور کھیلتے رہے جو سربیائی فوج کی بمباری کے دوران انھیں میسر ہوتا تھا۔

موڈرچ کے لیے سربیا کی ملیشیا کی جانب سے ان کے دادا اور سر پرست کے ہلاک کیے جانے اور ان کے خاندانی مکان کو آگ لگا دینے کے اثرات کو کم کرنے کا یہ واحد طریقہ تھا۔

اس طرح کے بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شیلٹر سے زیادہ دور نہ جائیں اور اپنے ارد گرد کے علاقوں میں موجود جگہ جگہ خفیہ طریقہ سے لگائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے باعث ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے خطرے سے محفوظ رہیں۔

'جنگ نے مجھے مضبوط بنایا'

موڈرچ نے سنہ 2008 میں ایک موقع پر جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'میں اس وقت صرف چھ سال کا تھا اور وہ واقعی بہت مشکل وقت تھا۔ وہ مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہیں لیکن آپ اس بارے میں نہیں سوچنا چاہتے ہیں'۔

'جنگ نے مجھے مضبوط بنایا، میں ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں جینا چاہتا لیکن میں اسے بھولنا بھی نہیں چاہتا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایسی ہی کچھ یادیں دیجان لوران کا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ لوران لیور پول کی جانب سے انگلش پریمئر لیگ میں کھیلتے ہیں۔ ان کا خاندان بھی اس تنازعے کی وجہ سے بے گھر ہو کر جرمنی بھاگ گیا تھا۔ وہ جرمنی میں پناہ لینے میں ناکام رہے اور سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں کروشیا واپس آ گیا تھا۔

اس وقت تک لوران کو اپنی مادری زبان پر عبور حاصل نہیں تھا اور انھیں سکول میں مشکل پیش آتی تھی۔

'آج جب میں شام اور دیگر ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کو دیکھتا ہوں تو میرا پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ان افراد کو ایک چانس دینا چاہیے۔ یہ لوگ اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے جو دوسروں کی وجہ سے تھی۔ وہ صرف یہ کر سکتے تھے کہ وہ وہاں سے بھاگ جائیں'۔

یہ نقطۂ نظر مکمل طور پر دوسری جگہوں پر نہیں مانا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فروری میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں تنظیم نے کروشیا کی حکومت پر ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے لیے ایک مؤثر پناہ دینے کے عمل کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ تنظیم نے پولیس تشدد کے کئی واقعات کا حوالہ دیا۔

یورپی یونین کی انصاف کی عدالت نے بھی کروشیا کو غیر قانونی طریقے سے کام کرنے کا مرتکب پایا۔

جن کا کوئی شمار نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کروشیا کی آبادی چار اعشاریہ ایک ملین ہے جو امریکی شہر لاس اینجلس کی آبادی سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ اس اعتبار سے کروشیا سنہ 1950 کے بعد یوروگوئے کے بعد عالمی کپ کے فائنل میں جانے والا آبادی کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے۔

اس کی آزادی کے تکلیف دہ عمل نے ایسی قوم پرستی کو جنم دیا ہے جس کی صورت کبھی کبھی بدنما دکھائی دیتی ہے۔ ارجنٹینا کے ہاتھوں تین صفر سے ہارنے کے بعد لوگوں نے سنا کہ کروشیا کے کھلاڑی اپنے ڈریسنگ روم میں وہ قومی ترانہ گار رہے تھے جو کرویشا میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا ترانہ کہلاتا ہے۔

لیکن حب الوطنی کا جذبہ ہر جگہ ہے۔ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل کے روزکروشیا کے اخبارجوترنجی نے ادارے میں اپنے کھلاڑیوں سے کہا 'خون بہے یا پسینہ چاہے آنسو مل کے لڑنا ہے‘۔

اداریے میں لکھا گیا کہ ’چھوٹی اقوام جو کسی شمار میں نہیں آتیں، وہ بھی مشہور اور بڑی بن جاتی ہیں اگر مل کر کام کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کروشیا کی صدر کولندرا گریبر کیتارووچ روس کے خلاف کواٹر فائنل میچ میں پروٹو کول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی ٹیم کی قمیض پہن کر دو بار وی آئی پی باکس میں آئیں اور پھر روسی وزیرِ اعظم ڈیمٹری میڈیاڈاف کے سامنے کروئشیا کے گول کرنے پر بھرپوری خوشی کا اظہار کیا۔

میدان میں کروشیا نے مل کر کھیلا، جی داری کا مظاہرہ کیا اور تھکے بغیر دوڑتے رہے۔

اس ٹیم نے ناک آؤٹ مرحلے کے گذشتہ تین میچوں میں 120 منٹ تک کھیلا ہے اور ماہرین سوچ رہے ہیں کہ کیا کھلاڑیوں کو اتوار کے دن ماسکو میں فرانس کے خلاف فائنل کھیلنے کے لیے اپنی ٹانگوں کو آرام دینے کا مناسب وقت ملا بھی ہے یا نہیں۔

لیکن اس طرح کا سوال سیمی فائنل سے پہلے بھی کئی ماہرین نے پوچھا تھا اور مورڈچ نے کہا تھا کہ اس سوال کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیم کے کھلاڑی زیادہ تیز بھاگے۔

ریال میڈرڈ کے مڈ فیلڈر کا کہنا تھا 'وہ ان کی غلطی تھی۔ ہم ان تمام الفاظ کو پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے چلو دیکھتے ہیں کہ کون تھکتا ہے۔ ہم نے اس میچ میں جسمانی اور ذہنی غلبہ حاصل کیا تھا‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں