ورلڈ کپ 2018: کیا فرانس کو مسلمانوں اور افریقیوں نے ورلڈ کپ جتوایا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فرانس نے 20 سال پہلے 1998 میں فٹبال کے عالمی فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا

روس میں فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی فرانس کی کثیر الثقافتی ٹیم پر ایک ٹویٹ نے نسل پرستی اور امیگریشن پر بحث چھیڑ دی ہے۔

فرانس نے اتوار کو روس میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں کروشیا کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دی تھی جس کے کچھ دیر بعد ’اسلام فوبیا‘ نامی کتاب کے امریکی مصنف خالد بیدون نے فرانس کی کثیر الثقافتی ٹیم کے لیے انصاف کی اپیل کی تھی۔

امریکی مصنف کی اتوار کو پوسٹ کی جانے والی اس ٹویٹ کے بعد سے اسے 163,000 سے زیادہ بار ری ٹویٹ اور 370,000 بار پسند کیا جا چکا ہے۔

فرانس کی فاتح ٹیم کو سب سے زیادہ کثیر الثقافتی ٹیموں میں سے ایک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ فرانس کی قومی ٹیم کے 23 میں سے 15 کھلاڑی افریقی نژاد ہیں جن میں زیادہ تر وہ ممالک ہیں جو فرانسیسی کالونیاں رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ورلڈ کپ: فرانس دوسری بار فٹبال کا عالمی چیمپیئن بن گیا

'خون بہے یا پسینہ چاہے آنسو مل کے لڑنا ہے‘

فیفا ورلڈ کپ فائنل: فرانس دوسری بار فاتح

انگلینڈ 28 سال بعد فٹ بال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں

تصویر کے کاپی رائٹ FRANCK FIFE
Image caption فرانس کے فٹبالر کیلیئن ایمباپے کے والدین کا تعلق کیمرون اور الجیریا سے ہے

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ افریقی جڑیں ہونے کے باوجود وہ ’سب سے پہلے فرانسیسی‘ ہیں جبکہ دیگر نے امریکی مصنف بیڈون پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ انھوں نے سیاسی پوائنٹس سکور کرنے کے لیے کھیل کا استعمال کیا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹویٹ ملک میں نسلی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے جہاں یہ مسئلہ مہاجرین کے حالیہ بحران اور متعدد دہشت گرد حملوں کے بعد سے پہلے ہی متنازع ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2016 میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد فرانس کے سابق فٹبال سٹار لیوس سہا نے کہا تھا کہ فرانس نسل پرستی سے نمٹنے میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب فرانس نے فیفا ورلڈ کپ جیتا ہے۔ سنہ 1998 میں ورلڈ کپ جیتنے سے پہلے فرانس کی انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے رہنما جین ماری لی پین نے فرانس کی قومی ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں پر تنقید کی تھی جن میں ذیڈان بھی شامل تھے جن کا تعلق الجیریا سے ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانس کی ٹیم میں ’غیر ملکی‘ کھلاڑی شامل تھے جنھوں نے فرانس کے میچ شروع ہونے سے پہلے فرانس کا قومی ترانہ نہیں گایا تھا۔ لیکن اس مرتبہ فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے خاموشی رہی ہے۔

اسی بارے میں