’عثمان شنواری ہیٹ ٹرک کر جاتے لیکن ۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پچھلے سال اکتوبر میں عثمان خان شنواری نے اپنے کریئر کا دوسرا ون ڈے کھیلا۔ یہ پاکستان اور سری لنکا کی پانچ میچز پہ مشتمل سیریز کا آخری میچ تھا۔ پاکستان کو سیریز میں چار صفر کی برتری حاصل تھی اور طویل مدت بعد پاکستان کے پاس ایسی سیریز وائٹ واش کرنے کا چانس تھا۔

سدھیرا سمراوکراما عثمان خان کی پہلی وکٹ ثابت ہوئے۔ پہلے اوور کی پانچویں گیند فل لینتھ پہ پھینکی گئی اور یوں تیزی سے اندر آئی کہ وسیم اکرم یاد آ گئے۔ اس سے اگلی ہی گیند پہ عثمان خان نے چندیمل کو اڑا دیا۔ گراونڈ میں سناٹا طاری ہو گیا۔

عثمان خان ہیٹ ٹرک چانس پر تھے لیکن ان کا اوور ختم ہو گیا۔ سو انہیں ہیٹ ٹرک بال کے لیے ایک اوور انتظار کرنا تھا۔ لیکن یہ توقع کم ہی تھی کہ اپل تھارنگا جیسے تجربہ کار بیٹسمین کے کریز پہ ہوتے عثمان خان آسانی سے ہیٹ ٹرک کر پائیں گے۔

دوسرے اوور کے لیے عثمان خان آئے تو اپل تھارنگا سامنا کر رہے تھے۔ دو سلپ اور ایک گلی کے ساتھ انہوں نے آف سٹمپ پہ فل لینتھ پھینکی اور تھارنگا نے بازو کھول کر کور باؤنڈری کی جانب ایک خوبصورت ڈرائیو کھیلی۔ اور یوں عثمان خان شنواری اپنے کرئیر کا پہلا ہیٹ ٹرک چانس ضائع کر بیٹھے۔

لیکن تیسری ہی گیند پہ انہوں نے آف سٹمپ فل لینتھ پہ اندر جاتی ہوئی ایک ایسی ڈلیوری پھینکی کہ تھارنگا کے سنبھلنے سے پہلے ہی وہ سٹمپس کو اڑا چکی تھی۔ اس سے اگلی ہی گیند پہ نروشان ڈکویلا بھی عثمان خان کا شکار ہو گئے۔

ایک بار پھر ہیٹ ٹرک چانس عثمان خان کے ہاتھ آ گیا۔ لیکن اگلی وکٹ کے لیے انہیں سات گیندیں مزید انتظار کرنا پڑا۔ اور یوں انہوں نے اپنے سپیل کی اکیسویں گیند پہ پانچویں وکٹ حاصل کی۔ اس ریکارڈ سپیل نے طویل عرصے بعد پاکستان کا پانچ ون ڈے میں وائٹ واش کا خواب پورا کر دیا۔

جب کوئی بولر ہیٹ ٹرک چانس پہ ہوتا ہے تو وہاں صرف اس کی تکنیک اور صلاحیت کا ہی امتحاں نہیں ہوتا بلکہ اس کی اعصابی پختگی اور پریشر سے نمٹنے کی استعداد کا بھی استفہام ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وسیم اکرم نے جب بانوے کے ورلڈ کپ میں ایلن لیمب کو آوٹ کیا تو اس کے بعد عمران خان نے ان سے پوچھا کہ اب کرس لیوس کو کون سی ڈلیوری کرواؤ گے؟ اس پہ وسیم اکرم نے کہا کہ وہ یارکر پھینکیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ لیوس بھی یارکر کی توقع کر رہا ہو گا، تم اسے ان سوئنگ کرواؤ۔

سوال یہ ہے کہ بعض اوسط سے بولر بھی ہیٹ ٹرک چانس مل جائے تو ضائع نہیں ہونے دیتے جبکہ بعض نہایت اچھے بولر بھی ایسا چانس ضائع کر بیٹھتے ہیں۔

یہ تو طے ہے کہ جہاں ایک لمحے میں دو مختلف پلیئرز کی مختلف سوچیں مرکوز ہوتی ہیں، وہاں کوئی بھی انسانی بازو کسی میکانکی لیور کی طرح سو فیصد ٹارگٹ پہ اٹیک نہیں کر سکتا۔ پلان بھلے بہت اچھا ہو مگر انسانی خطا کا امکان تو موجود رہتا ہی ہے۔ لیکن اگر پلان بنانے سے پہلے بیٹسمین کے ذہن کو ٹھیک سے پڑھ لیا جائے تو کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

چوالیسویں اوور کی دوسری گیند پہ عثمان خان نے تریپانو کو مڈل سٹمپ پہ یارکر پھینک کر بولڈ کیا۔ گیند خاصا پرانا ہو چکا تھا اور ریورس سوئنگ کی جھلک بھی نظر آ رہی تھی۔ اس سے اگلی ہی گیند پہ روچ مڈل سٹمپ کے سامنے ان سوئنگ پہ ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور عثمان خان کے پاس پھر ہیٹ ٹرک چانس آ گیا۔

اس وقت عثمان خان 'راؤنڈ دی وکٹ' بولنگ کر رہے تھے۔ لیفٹ آرم اینگل ویسے ہی کسی بیٹسمین کے لیے مشکل ہوتا ہے اس پہ اگر گیند پرانا ہو اور صلاحیت عثمان خان سی ہو تو کھیلنا قریب قریب ناممکن ہو جاتا ہے۔

اگلے بیٹسمین ویلنگٹن مساکدزا تھے۔ ون ڈے میں ان کی بیٹنگ ایوریج تین اعشاریہ آٹھ ہے۔ جس طرح سے شنواری گیند کو سوئنگ کر رہے تھے، ہیٹ ٹرک یقینی تھی۔ انہیں صرف دو سلپ لے کر وہی گیند پھینکنا تھی جس پہ روچ نے دھوکہ کھایا تھا۔

پلان کے عین مطابق عثمان شنواری نے دو سلپ ہی لیں۔ لیکن صرف اس بات سے چوک گئے کہ "راونڈ دی وکٹ" اینگل چھوڑ کر "اوور دی وکٹ" آ گئے۔ اور ایک بار پھر ہیٹ ٹرک چانس کھو بیٹھے۔

پاکستان کے لیے رواں سال کی یہ دوسری ون ڈے فتح تھی اور پاکستان بھاری مارجن سے کامیاب ہوا۔ بس اگر عثمان خان ہیٹ ٹرک کر جاتے تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں