’ایک متوقع جیت جو غیر متوقع طور سے آئی‘

فخر زمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیریز میں فخر زمان عمدہ کاکرکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں

پاکستان کے لیے یہ میچ کسی فیسٹیول سے کم نہیں تھا جہاں ٹاس ہار کر ساڑھے تین گھنٹے بولنگ کرنا تھی وہاں یہ قضیہ ڈیڑھ گھنٹے میں ہی نمٹ گیا۔

مشہور انگریزی مقولہ ہے ’بحران ہمیشہ نئے مواقع پیدا کرتا ہے‘۔ غالباً یہی سوچ کر ہیملٹن مساکدزا نے آدھی ادھوری ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی ’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘ مگر اب اتنا کچھ ہو چکا ہے کہ گھبرا بھی لیں تو کچھ نہ بنے گا۔

پانچ پلئیرز تنخواہیں نہ ملنے پہ بائیکاٹ کر گئے۔ دو ریگولر پلئیرز انجری کا شکار ہو گئے۔ ایک نے مستقبل سے جڑے خدشات کے مارے ہاتھ کھینچ لیا۔ جب آٹھ ریگولر پلئیرز دستیاب نہ ہوں تو پہلے سے ہی تھکی ہاری ٹیم کیا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی زمبابوے کو نو وکٹوں سے شکست

’عثمان شنواری ہیٹ ٹرک کر جاتے لیکن ۔۔۔‘

’ایسے کیسے ورلڈکپ کی تیاری ہو گی؟`

بلاوائیو: پاکستان کی زمبابوے کو 201 رنز سے شکست

پچھلے چند سال میں خصوصاً ٹی ٹوئنٹی کے غلغلے کے بعد ہر ٹیم کی بینچ سٹرینتھ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آدھی ٹیم بھی ان فٹ ہو جائے تو بھی ذخائر اس قدر زرخیز ہوتے ہیں کہ مقابلے کی ٹیم بن سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن زمبابوے اس معاملے میں بھی تہی دامن ہے کہ اول تو اس کی پوری ریگولر ٹیم اگر پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے تو بھی دسویں نمبر کی ٹیم ہے۔ ثانیاً ٹی ٹوئنٹی فرنچائز کرکٹ میں بھی نہ تو زمبابوے کی اپنی کوئی لیگ ہے نہ ہی ایسا کہ دنیا بھر میں جابجا ہوتی لیگز میں زمبابوین کرکٹرز کی بہت مانگ پڑی ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ زمبابوے کے کمزور کرکٹ کلچر میں بینچ سٹرینتھ ایسی کسی شے کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

سو، اس تناظر میں آج کا میچ اور یہ نتیجہ کوئی دور کی کوڑی نہیں تھا۔ یہ نوشتۂ دیوار تھا۔ مگر یہ بالکل متوقع نہیں تھا کہ سیریز کا فیصلہ کن میچ یوں بنا مزاحمت لنچ سے پہلے ہی تمام ہو جائے گا۔

میچ کے بعد دونوں کپتانوں کی گفتگو بھی میچ سے زیادہ دلچسپ نہ تھی۔

سرفراز نے فہیم اشرف کی کارکردگی کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ مشکل میچوں میں بھی فہیم ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

ہیملٹن مساکدزا نے قریب قریب وہی باتیں دہرائیں جو کوئی بھی ہارنے والا کپتان کہہ سکتا ہے کہ غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے، میچ کے بعد ہم بات کریں گے، اگلے میچ میں یہ خامیاں درست کرنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن ان حقائق سے ماورا، آج کا دن اور یہ میچ پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ رواں سال میں آج سے پہلے پاکستان کوئی ون ڈے سیریز نہیں جیتا تھا۔ آج پاکستان نے رواں برس میں پہلی بار ون ڈے سیریز جیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ موقع بھی پیدا ہو گیا ہے کہ اگلے دو میچوں میں بینچ پہ بیٹھے پلئیرز کو بھی لہو گرمانے کا بھرپور موقع ملے گا۔

جنید خان قریب ایک سال بعد اس سطح کی کرکٹ میں نظر آئے اور خوش آئند بات یہ تھی کہ اس طویل غیر حاضری کے دوران بھی ان کی ذہنی اور جسمانی فٹنس میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ یہ پہلو پاکستان کی ورلڈکپ تیاریوں میں ایک مثبت سنگ میل ثابت ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رواں سال میں آج سے پہلے پاکستان کوئی ون ڈے سیریز نہیں جیتا تھا( فائل فوٹو)

اسی طرح سے فہیم اشرف کے لیے بھی یہ بہت بڑا دن تھا۔ انھوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی بار پانچ وکٹیں حاصل کی۔ بطور بولر، ان کے پروفائل میں یہ قیمتی اضافہ ہے۔

پاکستان کے لیے بھی اضافی تشفی یہ ہے کہ طویل عرصے بعد آل راونڈر کی صورت میں پانچواں بولر مل گیا جو دس اچھے اوورز پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک طرح سے پاکستان کے لیے یہ جیت بہت خاص تھی کیوکہ رواں برس کے آغاز کی وحشت ناک ون ڈے یادوں کی گرد کسی نہ کسی حد تک چھٹی اور ریکارڈز میں پاکستان کی ون ڈے فتوحات کا تناسب بہتر ہوا۔

یہ جیت بالکل متوقع تھی مگر ایسی بھی نہیں کہ دو گھنٹے میں ہی ایک روزہ میچ کا نتیجہ نکل آئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں