’فخر زمان کو ٹیسٹ کرکٹ بھی کھلائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان پاکستان کی جانب سے ایک روزہ کرکٹ میں پہلی ڈبل سنچری اور سب سے بڑا انفرادی سکور بنانے والے کھلاڑی بن گئے ہیں

21 مئی 1997 کو جب سعید انور نے چنئی میں ون ڈے کی سب سے بڑی اننگز کھیلی تھی، تب فخر زمان کوئی سات سال کے ہوں گے۔ تب ون ڈے کرکٹ کا جو معیار تھا، یہ سوچنا بھی محال تھا کہ کوئی اور بیٹسمین آسانی سے یہ ریکارڈ توڑ سکے گا۔

لیکن پھر قوانین بدلے، پاور پلے رائج ہوئے، ون ڈے کرکٹ کی رفتار میں تیزی آئی اور بلے بازوں کی اتھارٹی میں انگشت بدنداں اضافہ ہوا تو سعید انور کا ریکارڈ ٹوٹنے لگا۔ اور اب تک یہ ریکارڈ بارہا ٹوٹ چکا ہے۔

لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور نئے بنانے کے وسائل مہیا نہ ہو سکے۔ بیٹنگ میں دیکھا جائے تو پچھلے 20 سال میں خال خال ہی کوئی ریکارڈ پاکستان کے حصے میں آیا ورنہ پہلے پاور پلے سے لے کر آخر تک جہاں بھی اننگز رن ریٹ کا ذکر آیا، پاکستان فہرست کے زیریں حصے میں ہی نظر آیا۔

پاکستان کے کرکٹ کلچر کے لیے یہ بات خاصی تکلیف دہ ہے کہ جہاں ایک دور میں ون ڈے کی تیز ترین سنچری اور سب سے بڑے انفرادی سکور کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا، اسی ٹیم پہ وہ وقت آیا کہ بیٹنگ لائن اپ کی بے اعتباری عالمی استعارہ بننے لگی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

فخر کی ڈبل سنچری، پاکستان کی مسلسل چوتھی جیت

’ایک متوقع جیت جو غیر متوقع طور سے آئی‘

’عثمان شنواری ہیٹ ٹرک کر جاتے لیکن ۔۔۔‘

فخر زمان کی سینچری، پاکستان نو وکٹوں سے فاتح

اب چونکہ ٹی ٹونٹی کی ان پٹ سے ون ڈے کرکٹ اس عہد میں داخل ہو چکی ہے کہ انفرادی ٹرپل سنچری کا ریکارڈ بھی بعید نہیں ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ تھی کہ پچھلے دو ون ڈے ورلڈ کپ میں پاکستان 90 کی دہائی کی سست رفتار کرکٹ کھیلتا پایا گیا۔

ان پر آشوب سالوں میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا کہ کوئی ایک اچھی اوپننگ جوڑی بھی ہاتھ نہ آئی۔ آج بھی کوئی مثال دے تو سعید انور اور عامر سہیل کی ہی مثال پیش کرتا ہے کیونکہ ان کے بعد کے ذخائر میں ایسی کوئی مثال موجود ہی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فی زمانہ ون ڈے کرکٹ میں کامیابی بولرز سے زیادہ بلے بازوں سے مشروط ہے۔ جو ٹیم پہلے پاور پلے کا درست استعمال جانتی ہے، اس کی جیت کے امکانات اسی قدر روشن ہوتے ہیں۔ لیکن بلے بازی کے عروج کے باوجود اوپنر کا کام آج بھی دقیق ہی ہے، ایک طرف اسے نئے گیند کی سختی کا فائدہ اٹھا کر سکور کرنا ہوتا ہے، دوسری جانب اسے وکٹ بچا کر ایک مستحکم سٹینڈ بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

جمعے کو طویل عرصے بعد پاکستان کو ان دونوں سوالوں کے جواب ملتے دکھائی دیے۔ امام الحق نے اپنے ٹیمپرامنٹ کے اعتبار سے ایک اچھی اننگز کھیلی اور فخر زمان نے پاکستان کی ریکارڈ بکس میں ایک نیا دن رقم کیا۔ اور اس بیچ خوش آئند پہلو یہ رہا کہ دونوں اوپنرز کے یکسر متضاد ٹیمپرامنٹ ایک دوسرے کی راہ میں حائل نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آج کی ریکارڈ ساز اننگز اس بات کی متقاضی ہے کہ فخر زمان کو ٹیسٹ ٹیم میں باقاعدہ جگہ دی جائے

چیمپئنز ٹرافی کی یادگار اننگز کو لیجئے یا ٹرائی سیریز کے فائنل کو، آج جمعے کو ایک بار پھر فخر زمان نے ثابت کیا ہے کہ وہ لمبی اننگز کھیلنے کا بھرپور ٹیمپرامنٹ رکھتے ہیں۔ جسمانی فٹنس اپنی جگہ، لمبی اننگز کھیلنے کے لیے ذہنی فٹنس بہت ضروری ہے اور فخر زمان کی آج جمعے کی اننگز اس کی واضح دلیل ہے۔

جس طرح سے ون ڈے کرکٹ میں کئی سال پاکستان کی بیٹنگ وقت سے پیچھے رہی، اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کا بنیادی مسئلہ اوپننگ ہی رہا ہے۔ اسی لیے کبھی اظہر علی مڈل آرڈر میں ہوتے ہیں تو کبھی اوپنر۔

فخر زمان کی فارم اس وقت جوبن پہ ہے۔ دورہء انگلینڈ کے سکواڈ میں انہیں شامل تو کیا گیا تھا مگر امام الحق کو ان پہ ترجیح دی گئی۔ جمعے کی ریکارڈ ساز اننگز اس بات کی متقاضی ہے کہ فخر زمان کو ٹیسٹ ٹیم میں باقاعدہ جگہ دی جائے۔ کیونکہ پاکستان کے بہت سے سوالات کے جواب فخر زمان ہی کے پاس ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں