سنچری کے بعد میرا یہ پلان نہیں تھا کہ میں ڈبل سنچری کی طرف جاؤں: فخر زمان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین فخر زمان زمبابوے کے خلاف تاریخ ساز اننگز کھیلنے پر بہت خوش ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈبل سنچری کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔

واضح رہے کہ فخر زمان ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین بن گئے ہیں۔ انھوں نے سعید انور کا 194 رنز کا 21 سال سے قائم کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ توڑا ہے۔

فخرزمان نے زمبابوے کے شہر بولاوایو سے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بلاشبہ ان کے کریئر کی سب سے بہترین پرفارمنس ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’فخر زمان کو ٹیسٹ کرکٹ بھی کھلائیں‘

’فخر زمان، فخرِ پاکستان‘

’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے یہ اننگز کھیلی ہے لیکن سچ پوچھیے تو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈبل سنچری بنانے والا پہلا پاکستانی بیٹسمین بن جاؤں گا۔‘

فخرزمان اور امام الحق نے ون ڈے انٹرنیشنل میں پہلی وکٹ کی شراکت میں 304 رنز بناکر نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

فخر زمان اس ریکارڈ شراکت کو اپنے ساتھی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

’امام الحق کے ساتھ کھیلنے کا اپنا مزا ہے۔ ان سے مجھے بہت سہارا ملتا ہے۔ ہم دونوں ڈومیسٹک کرکٹ میں حبیب بینک کی ٹیم میں بھی اوپننگ کرتے ہیں اور وہاں بھی ہم نے لمبی شراکتیں قائم کی ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ہم میں بہت زیادہ ہم آہنگی ہے۔‘

فخرزمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی یہ اننگز ذمہ داری اور کپتان کی ہدایت کے مطابق کھیلی ہے۔

’شروع میں میں نے کچھ وقت لیا۔ مجھے چوتھے اوور میں سٹرائیک ملا۔ نصف سنچری تک میں نارمل کھیلا۔ 50 سے 80 تک تیز کھیلا جس کے بعد ڈریسنگ روم سے پیغامات آ رہے تھے کہ سنچری کی طرف جاؤ اور سنگلز اور ڈبلز سے سنچری مکمل کرو۔ ‘ بلکہ میں چاہتا تھا کہ میں جتنا بڑا اسکور کر سکتا ہوں وہ کروں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آج میرا دن تھااور میں نے اپنا نام ریکارڈ بک میں درج کرایا۔‘

فخرزمان ٹی 20 اور ون ڈے میں قابل ذکر کارکردگی کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کے چیلنج کے لیے بھی تیار ہیں۔

’میں آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے میں بھی ٹیسٹ ٹیم میں شامل تھا، تاہم وہاں میں ٹیسٹ نہیں کھیل سکا۔ میں کوچز کے ساتھ کافی محنت کر رہا ہوں اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور کافی حد تک ان پر قابو بھی پا لیا ہے اور امید ہے کہ آپ مجھے جلد ٹیسٹ کرکٹ میں دیکھیں گے۔

’میں اس کے لیے تیار ہوں اور میری کوشش ہو گی کہ میں خود کو ٹیسٹ کا بھی اچھا بیٹسمین ثابت کر کے دکھاؤں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد فخرزمان کی صلاحیتوں کے ہمیشہ سے معترف رہے ہیں جس کا اظہار انھوں نے بی بی سی اردو کے ساتھ کچھ یوں کیا۔

’میں فخر زمان کو کلب کرکٹ سے جانتا ہوں۔ ہم ایک ساتھ پاکستان کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلے ہیں۔ فخرزمان نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کراچی سےشروع کی اور مجھے خوشی ہے کہ ان کا بین الاقوامی کریئر میری کپتانی میں شروع ہوا ہے۔

’وہ ایک نیچرل سٹروک پلیئر ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب سے وہ پاکستانی ٹیم میں آئے ہیں وہ بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ جب بھی ٹیم کوضرورت پڑی ہے انھوں نے اہم اننگز کھیلی ہیں اور پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان میں سیکھنے کا جذبہ موجود ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں