یہ مساکدزا کے بس کی بات ہی نہیں تھی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی ٹیم نے اپنے تئیں معیاری کرکٹ کھیل کر یہ کامیابی حاصل کی ہے

زمبابوے کے لیے یہ سیریز ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی۔ ستم یہ کہ، یہ ڈراؤنا خواب اپنی آمد سے کہیں پہلے ہی نوشتۂ دیوار ہو چکا تھا۔ جس سیاق و سباق سے گزر کر یہ ٹور پایۂ تکمیل تک پہنچا، زمبابوے کرکٹ کے لیے اس ٹور کا مکمل ہو جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان کے لیے نوید کا پہلو یہ ہے کہ محدود ون ڈے کرکٹ شیڈول میں حالیہ سیریز سے پہلے یہ سال ون ڈے فتوحات سے خالی تھا۔ پانچ ون ڈے فتوحات اور سیریز وائٹ واش کے بعد ریکارڈ میں نیوزی لینڈ سے وائٹ واش کا حساب پورا ہو گیا۔

چیمپئینز ٹرافی کی فتح اور سری لنکا کے خلاف کلین سویپ کے بعد جب سرفراز الیون نیوزی لینڈ پہنچی تھی تو توقعات کا گراف بہت بلند تھا لیکن پانچ میچوں بعد پاکستانی ڈریسنگ روم عجیب سی ناشناسائی سے دوچار تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سیریز کلین سویپ، پاکستان کی 131 رنز سے فتح

فخر کی ڈبل سنچری، پاکستان کی مسلسل چوتھی جیت

فخر زمان کی سینچری، پاکستان نو وکٹوں سے فاتح

مگر جون کے آخری ہفتے جب پاکستان کی ٹیم زمبابوے پہنچی تو توقعات وابستہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ وجہ صاف تھی، زمبابوے پوری قوت کے ساتھ بھی آتا تو پاکستانی بولنگ کے سامنے بے بس ہی ٹھہرتا۔

ثانیاً آسٹریلیا بال ٹیمپرنگ تنازعے کی گرد میں کھونے کے بعد ایسے پست مورال پہ تھا کہ انگلینڈ سے بری طرح ہار کر آ رہا تھا۔ ایسے میں جیت کے ہما کو بیٹھنے کے لئے جو واحد ٹھکانہ میسر تھا، وہ پاکستانی ڈریسنگ روم ہی تھا۔

پی سی بی اپنے تئییں اس سیریز کو ورلڈکپ کی تیاریوں کا حصہ سمجھ سکتا ہے اور اس وائٹ واش نتیجے پہ شادمانی کے نغمے بھی گنگنا سکتا ہے مگر معروضی حقائق کو پرکھا جائے تو اس وائٹ واش سے ورلڈکپ کی تیاری کے بیانیے کو تقویت نہیں ملتی۔

گو کہ بظاہر گیارہ زمبابوین کھلاڑی گراونڈ میں موجود ہوا کرتے تھے لیکن پھر بھی پاکستان کے لیے یہ پورا دورہ ایک طرح کی نیٹ پریکٹس ہی تھا۔ مگر اس نیٹ پریکٹس میں بھی پاکستان کے لیے بہت سے مثبت پہلو موجود ہیں۔

فخر زمان تیز ترین ایک ہزار ون ڈے رنز کا ریکارڈ لے اڑے۔ امام الحق نے کریئر کے آغاز میں ہی ایسی خوابناک فارم دیکھ لی۔ بابر اعظم کے لیے یہ کم بیک ٹور تھا جو نہایت مثبت ثابت ہوا۔ شاداب خان کو مزید کامیابیاں ملیں جبکہ حسن علی نے اپنی بہترین فارم برقرار رکھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان پاکستان کی جانب سے ایک روزہ کرکٹ میں پہلی ڈبل سنچری اور سب سے بڑا انفرادی سکور بنانے والے کھلاڑی بن گئے ہیں

سمیع چوہدری کے پاکستان زمبانوے سیریز پر دیگر تجزیے

’فخر زمان کو ٹیسٹ کرکٹ بھی کھلائیں‘

’ایک متوقع جیت جو غیر متوقع طور سے آئی‘

’عثمان شنواری ہیٹ ٹرک کر جاتے لیکن ۔۔۔‘

لیکن اس ٹور کی سب سے زیادہ خوش آئند بات عثمان شنواری کی اٹھان ہے جو ایک بار پھر اس مفروضے کو رد کرتی ہے کہ پاکستان کے فاسٹ بولنگ ذخائر میں کوئی کمی آ گئی ہے۔ عثمان شنواری کی موجودگی اس بولنگ اٹیک کو مزید ورائٹی فراہم کرتی ہے۔

ایک اینڈ سے محمد عامر سوئنگ کا جادو جگاتے ہیں تو دوسرے اینڈ سے عثمان شنواری فل لینتھ گیند سے اٹیک کرتے ہیں۔ فاسٹ بولنگ میں مشکل ترین آرٹ فل لینتھ پہ گیند ڈال کے رنز روکنا اور چانسز پیدا کرنا ہے۔ یہ کام کبھی وسیم اکرم کیا کرتے تھے۔ فی زمانہ مچل سٹارک اس کے ماہر ہیں۔ عثمان شنواری گو کہ ابھی نو آموز ہیں مگر یہ صلاحیت ان میں بالکل موجود ہے۔

کسی ٹیم یا کھلاڑی کے لیے کوئی بھی فتح اگر مگر سے جڑی نہیں ہوتی۔ سیاق و سباق منہا کر کے بجائے خود جیت جیت ہی کہلاتی ہے خواہ وہ کیسی ہی ٹیم کے خلاف ہو۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے یہ سیریز خالصتا اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل کر کلین سویپ کی ہے۔ زمبابوے کے جو بھی مسائل تھے، وہ فتوحات کے مارجن میں نمایاں رہیں گے مگر پاکستان نے اپنے تئیں معیاری کرکٹ کھیل کر یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

کیونکہ جس وقت یہ سیریز طے ہوئی تھی، تب نہ تو سرفراز کپتان تھے نہ حسن علی ٹیم کا حصہ بنے تھے، نہ ہی شاداب خان اور فخر زمان کے کرئیر شروع ہوئے تھے۔ کب کس سے کھیلنا ہے، یہ پی سی بی بہت پہلے ہی طے کر چکا تھا۔

سو پاکستان کو یہ کلین سویپ مبارک ہو۔ رہی بات ورلڈ کپ کی تیاریاں جانچنے کی تو اس کا جواب پانے کے لیے ہمیں مزید دو تین ماہ انتظار کرنا ہو گا۔ باقی جہاں تک زمبابوے کی بات ہے، تو یہ سیریز مساکدزا کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں