آپ بیٹھ کر حالات کا رونا نہیں رو سکتے: وراٹ کوہلی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 37 ٹیسٹ میچز میں انڈیا کی کپتانی کرنے والے وراٹ کوہلی کو 21 میچوں میں کامیابی ملی ہے لیکن انگلینڈ میں مسلسل دو شکست نے ان کے سامنے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں

دنیا میں ٹیسٹ کرکٹ کی نمبر ایک ٹیم کے کپتان جو خود بیٹنگ کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر ہوں جب وہ کہیں کہ ’ہم ہار کے ہی لائق تھے‘ تو اس پر مختلف قسم کے سوالات کا پیدا ہونا ضروری ہے۔

کپتان وراٹ کوہلی کی مایوسی کا سبب لارڈز ٹیسٹ کے سکور کارڈ سے بخوبی واضح ہوتا ہے۔ انڈیا کی ٹیم بارش سے متاثرہ میچ میں چوتھے ہی دن گھٹنے ٹیک بیٹھی۔

پانچ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلا گیا جس میں پہلا دن پورا کا پورا بارش کی نذر ہو گیا۔ دوسرے دن بھی صرف 35.2 اوورز کا کھیل ہوا جس میں انڈیا کی پوری ٹیم آوٹ ہو گئی۔ چوتھے دن بھی کھیل کئی بار بارش سے متاثر ہوا اور انڈیا کی پوری ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 47 اوورز میں آوٹ ہو گئی۔

پہلی اننگز میں انڈیا 107 رنز پر ڈھیر ہو گئی جبکہ دوسری اننگز میں تمام تر کوششوں کے باوجود 130 رنز ہی بنا سکی اور اننگز کی شکست سے دو چار ہوئی۔ انگلینڈ نے سات وکٹوں کے نقصان پر 396 رنز بناکر اننگز ڈکليئر کر دی تھی۔

اوپنر مرلی وجے نے دونوں اننگز میں کوئی رنز بنانے کی زحمت گوارا نہ کی جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین دینیش کارتک نے دونوں اننگز میں ایک رنز پر ہی اکتفا کیا۔

ٹاپ آرڈر بیٹسمین لوکیش راہل اور چتیشور پجارا نے دونوں اننگز میں 18-18 رنز کا تعاون کیا۔

برمنگھم میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں 200 رنز بنانے والے کپتان وراٹ کوہلی لارڈز میں صرف 40 رنز بنا سکے۔

آخر ایسی شکست کی وجہ کیا ہے؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈین ٹیم کے ٹاپ آرڈر نے ابھی تک اپنی صلاحیت کا خاطر خواہ مظاہرہ نہیں کیا

انڈیا کے برعکس صرف 25 ٹیسٹ میچوں کا تجربہ رکھنے والے ووکس نے تنہا 137 رنز کی اننگز کھیلی۔ انڈیا کے بیٹسمین تجربے میں ان سے کہیں آگے ہیں۔

وراٹ کوہلی 68، مرلی وجے اور پجارا 59-59، رہانے 47 اور شیکھر دھون نے 31 ٹیسٹ میچز کھیل رکھے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کے قابل نہیں ہیں؟

کپتان وراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ ’آپ بیٹھ کر حالات کا رونا نہیں رو سکتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا کے بیٹنگ یونٹ میں لڑنے والے کردار کی کمی ہے‘

’صرف ایک کوہلی کافی نہیں ہے‘

سینیئر کھیل صحافی اياز میمن کا کہنا ہے کہ اس بات کا تجزیہ کیا جانا چاہیے کہ غلطی کہاں ہوئی ہے؟

انہوں نے کہا: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انڈین بیٹسمین کے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے۔ دھون، پجارا، رہانے وغیرہ کے پاس صلاحتیں ہیں لیکن ان سب کے ناکام ہونے کے اسباب کا پتہ لگانا ضروری ہے۔‘

ایاز میمن جس غلطی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہیں وہ ٹیم کے انتخاب کی جانب تو نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے انڈیا کے ٹاپ آرڈر کو وکٹ پر زیادہ دیر ٹکنے نہیں دیا

انڈین ٹیم کی انتظامیہ ہر میچ میں کوئی نہ کوئی تبدیلی کر رہا ہے۔ اس سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی کھلاڑی کو یہ پتہ نہ ہو کہ وہ اگلا میچ کھیلے گا یا نہیں۔

برمنگھم میں شیکھر دھون ٹیم میں تھے تو پجارا بینچ پر جبکہ لارڈز میں اس کا الٹ نظر آیا۔ تیسرے ٹیسٹ کے لیے بھی یہ واضح نہیں کہ کون کھلاڑی حتمی 11 میں شامل ہوگا۔

انڈیا کے سابق کرکٹر گاوسکر نے بھی اپنے مضمون میں دھون کو بینچ پر بٹھائے جانے پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔

ایاز میمن کا کہنا ہے کہ کھیل میں مینجمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کس کھلاڑی کا کس طرح استعمال کرنا ہے یہ ذمہ داری کپتان کی ہوتی ہے۔ کچھ کھلاڑی ٹیم کے اندر کے مقابلے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ انھیں یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں کوئی دوسرا کھلاڑی ان کی جگہ نہ لے لے۔

انڈیا پر دباؤ

ایسے میں انڈیا کے ہر کھلاڑی پر اچھی کارکردگی کے مظاہرے کا دباؤ ہوتا ہے۔

ایاز میمن کہتے ہیں کہ دو میچ تو ہار چکے ہیں، اب سیریز ہارنے کے دہانے پر ہیں۔ اگر اب بھی وراٹ کوہلی اس معاملے کو نہیں سلجھا پاتے ہیں تو مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسا لگا کہ کرس ووکس نے انڈیا کو تنہا ہی شکست سے دو چار کیا۔ انھوں نے اپنی پہلی سنچری سکور کی اور اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انھیں مین آف دا میچ دیا گیا

37 ٹیسٹ میچز میں انڈیا کی کپتانی کرنے والے وراٹ کوہلی کو 21 میچوں میں کامیابی ملی ہے لیکن انگلینڈ میں مسلسل دو شکست نے ان کے سامنے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

ایاز میمن کا کہنا ہے کہ اب دباؤ کپتان پر آ گیا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ درست ٹیم کا انتخاب ہو۔

جبکہ وراٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم دو صفر سے پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم مثبت سوچ رکھیں اور اسے دو ایک بنانے کی کوشش کریں۔‘

اس سے قبل انڈیا کے سابق کرکٹر سورو گنگولی نے کہا تھا کہ ’انڈیا کی بیٹنگ یونٹ میں لڑنے والے کردار کی کمی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں