کرکٹ کھیلنے کے لیے انڈیا کی منتیں نہیں کروں گا: احسان مانی

احسان مانی تصویر کے کاپی رائٹ PCB

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین احسان مانی انڈیا کے ساتھ کرکٹ روابط کے بارے میں ہمیشہ سے ایک واضح موقف رکھے ہوئے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہمیں اپنی خود داری نہیں بھولنی چاہیے۔

احسان مانی نے اپنے اس موقف کو منگل کو پی سی بی چیئرمین بننے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپنے پہلے رابطے میں ایک بار پھر دوہرایا ہے۔

’میں انڈیا سے منتیں نہیں کروں گا اور نہ ہی درخواست کروں گا کہ وہ ہمارے ساتھ کھیلے۔‘

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق احسان مانی کے خیال میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے بارے میں انڈیا کی پالیسی متضاد ہے۔

’بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی سی ایونٹس میں ہمارے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار رہتا ہے جبکہ وہ ایشیا کپ میں بھی ہمارے ساتھ کھیل رہا ہے لیکن دو طرفہ سیریز کھیلنے کے لیے وہ انکار کر دیتا ہے اس معاملے میں مجھے اس کی اس پوزیشن کی جو بنیاد ہے وہ سمجھ میں نہیں آتی۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

نجم سیٹھی مستعفی، احسان مانی پی سی بی کے نئے سربراہ نامزد

’انڈیا اور پاکستان کے مابین کرکٹ سیریز کا کوئی امکان نہیں‘

’کیا پاک بھارت کرکٹ نہ ہونے سے دہشت گردی ختم ہو گئی؟‘

’انڈیا نہیں کھیلنا چاہتا تو آئی سی سی کیا کرے؟‘

احسان مانی آئی سی سی کے صدر رہ چکے ہیں اور اس دوران بھی انہیں انڈین کرکٹ بورڈ کے مخصوص انداز کا سامنا رہا ہے۔

’آئی سی سی میں بھی وہ کبھی کبھی ہمیں نہ کھیلنے کی ′تڑی′ دیا کرتے تھے لیکن میں دباؤ میں نہیں آیا۔ میں اس وقت ان کو کہتا تھا کہ میں آپ کی رکنیت معطل کرسکتا ہوں۔ بدقسمتی سے میں اب اپنی موجودہ حیثیت میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ اب آئی سی سی کی شکل ہی بدلی ہوئی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ آئی سی سی میں انڈیا کا اثرو رسوخ بہت بڑھ گیا ہے لیکن میرے لیے پاکستان کی خودداری اہم ہے اور اس کی عزت ووقار کے معاملے میں ہم کبھی نہیں جھکیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے نہ کھینے سے ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی سے رجوع کر رکھا ہے اور آئندہ ماہ آئی سی سی کی تنازعات سے متعلق کمیٹی اس بارے میں فیصلہ کرنے والی ہے۔

احسان مانی کو یقین ہے کہ آئی سی سی کا فیصلہ میرٹ پر مبنی ہو گا۔

’یہ معاملہ اب بہت آگے جا چکا ہے اوراب اس مرحلے پراس کیس سے دستبردار ہونا ہماری کمزوری ہوگی۔ اگر یہ پہلے دن ہوتا تو میں کہتا کہ بھارت سے مذاکرات کی میز پر بات کریں اور کوئی حل نکالیں لیکن اب یہ معاملہ فیصلہ کن مرحلے میں ہے جس میں یکم سے تین اکتوبر تک ہونے والی سماعت میں دونوں کرکٹ بورڈز کے حکام کے بیانات ریکارڈ ہونے ہیں۔ ‘

’آئی سی سی کی کمیٹی کے سربراہ مائیکل بیلوف قابل احترام بیرسٹر ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔‘

احسان مانی پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

احسان مانی پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ منگل کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں ان کا انتخاب تین سال کے لیے متفقہ طور پر عمل میں آیا ہے۔

کسی دوسرے رکن نے احسان مانی کے مقابلے پر کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے اور تمام اراکین نے ان پر متفقہ طور پر اعتماد کا اظہار کردیا۔ جس کے بعد الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) افضل حیدر نے احسان مانی کے منتخب ہونے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

یاد رہے کہ 20 اگست کو نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے احسان مانی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا چیرمین نامزد کرنے کا اعلان کردیا تھا جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق نہیں تھا لہذا کچھ دیر بعد ہی عمران خان کی جانب سے احسان مانی کو آئین کے مروجہ طریقہ کار کے تحت بورڈ آف گورنرز میں نامزد کرنے اور انتخاب کے بارے میں ایک اور ٹوئٹر پیغام سامنے آیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نجم سیٹھی مستعفی، احسان مانی پی سی بی کے نئے سربراہ نامزد

کیا نجم سیٹھی کا جانا طے ہو چکا ہے ؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق بورڈ آف گورنرز دس ارکان پر مشتمل ہے جس میں چار ارکان بورڈ سے الحاق رکھنے والے اداروں کے نمائندے ہوتے ہیں جبکہ چار کا تعلق ریجنز سے ہوتا ہے۔ دو ارکان حکومتی نمائندے ہوتے ہیں۔

نجم سیٹھی کے استعفے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں حکومت کے دوسرے نمائندے عارف اعجاز بھی مستعفی ہوگئے تھے لہٰذا وزیراعظم عمران خان نے احسان مانی کے علاوہ اسد علی خان کو اپنے دوسرے نمائندے کے طور پر بورڈ آف گورنرز کے لیے نامزد کیا تھا۔

73 سالہ احسان مانی کا شمار بین الاقوامی کرکٹ کے انتہائی تجربہ کار ایڈمنسٹریٹرز میں ہوتا ہے۔

وہ ایک طویل عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں مختلف حیثیت میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔ جون سنہ 2003 میں وہ آئی سی سی کے صدر بنے تھے اور تین سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔

احسان مانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں لہٰذا بین الاقوامی کرکٹ کے مالی امور پر انھیں مکمل دسترس حاصل ہے۔

احسان مانی کے عمران خان سے پرانے مراسم ہیں۔ وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔ ان دنوں وہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر سیاحت اور شجرکاری کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں