تین سال کوئی فٹبال میچ نہیں! کیا پاکستان میں یہ کھیل بچ سکتا ہے؟

pakistan national team تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان فی الحال فیفا درجہ بندی میں تاریخی طور پر کم ترین سطح پر ہے۔ 206 ممالک میں سے پاکستان کا 201واں نمبر ہے۔

پاکستان میں پچھلے تین سال سے فٹبال جیسے معطل ہے۔ کوئی بین الاقوامی میچ نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی فنڈنگ آئی ہے۔

گذشتہ ماہ یمن کے خلاف جب پاکستانی فٹبال ٹیم میدان میں اتری تو اس وقت انھوں نے آخری بین الاقوامی میچ مارچ 2015 میں کھیلا ہوا تھا۔ یمن کے خلاف میچ صفر، صفر سے برابر رہا۔

پاکستان فی الحال فیفا درجہ بندی میں تاریخی طور پر کم ترین سطح پر ہے۔ 206 ممالک میں سے پاکستان کا 201واں نمبر ہے۔

یہ سب کیسے ہوا اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟

یہ بھی پڑھیے

ایشین گیمز: پاکستان کی 44 سال بعد پہلی کامیابی

’پاکستانی فٹبال کے معاملات کو ٹھیک کرنا ایک بڑا چیلنج‘

پاکستان فٹبال فڈریشن (پی ایف ایف) کے حالات اس وقت بگڑے جب جون 2015 میں فیصل صالح حیات تنظیم کے صدر دوبارہ منتخب ہوئے اور ان کے خلاف دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔

تنظیم میں دھڑے بندی اور داخلی لڑائیوں کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ کو ایک منتظم تعینات کرنا پڑا۔

تاہم اس وجہ سے تنظیم فیفا کے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے لگی کہ کسی غیر متعلقہ ادارے کی دخل اندازی نہ ہو۔ فیفا نے پی ایف ایف کو معاملات کو سدھارنے کے لیے دو سال کا عرصہ دیا۔

سابق کھلاڑی، مداحوں، اور اہلکاروں نے سڑکوں پر مظاہرے کیے اور حکومت سے کہا کہ وہ معاملے میں مداخلت کرے اور فیفا کی جانب سے اکتوبر 2017 میں لگائی گئی پابندی ہٹوائے۔

ادھر سنہ 2004 سے جاری پاکستان پریمیئر لیگ بھی 2015 میں رک گئی کیونکہ پی ایف ایف ایک اور تنازع کی وجہ سے میچز نہیں کروا سکی۔

کلب اکیڈمیاں کام نہیں کر سکیں، کھلاڑیوں کی تیاریاں رک گئیں اور کلبوں کی ترقی رک گئی۔ ان سب کی آمدنی بھی رک گئی۔ معاملات تین سال تک خراب رہے مگر شاید ان کا اثر کئی سالوں تک محسوس ہو۔

کئی سالوں کی مشکلات کے بعد پاکستانی فٹبال کو اس وقت فائدہ ہوا جب گذشتہ سال فیفا نے اپنی پابندیاں ہٹا دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کئی سالوں کی مشکلات کے بعد پاکستانی فٹبال کو اس وقت فائدہ ہوا جب گذشتہ سال فیفا نے اپنی پابندیاں ہٹا دیں۔

مارچ 2018 سے پی ایف ایف ایک بار پھر سے آزادی سے ملک میں فٹبال معاملات چلانے لگی اور اگست میں پاکستان نے ایشین گیمز میں شرکت کر کے ایک مرتبہ پھر عالمی فٹبال میں شرکت کی۔ ایک نوجوان ٹیم میدان میں اتار کر پاکستان نے ایشین گیمز میں 44 سال بعد کوئی میچ جیتا، نیپال کے خلاف 2-1 سے۔

پاکستان کے نئے ہیڈ کوچ ہوزے آنتونیو 52 سالہ برازیلی شہری ہیں جنھوں نے ماضی میں سعودی ٹیم الاہلی کے علاوہ سیئرا لیئون کی عالمی سطح پر کوچنگ کی تھی۔

وہ اس کارکردگی پر خوش تو ہوئے ہوں گے مگر وہ جانتے ہیں کہ اصل امتحان جنوبی ایشیائی فٹبال فڈریشن چیمپیئن شپ ہوگی جو کہ ڈھاکہ میں 4-15 ستمبر کو ہو رہی ہے۔

اس وقت یہ اعزاز انڈیا کے پاس ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے پاس پاکستان فٹبال کے لیے ایک اچھا پلان موجود ہے۔ میں کم از کم تین سال تک پاکستان میں رہوں گا تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے نظام کا جائزہ لے سکوں اور انھیں ایشیا میں ایک طاقت بنا سکوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’سہولیات نہیں لیکن پاکستانی لڑکیوں میں فٹبال کا جنون ہے‘

’فٹبال کی ترقی حکومتی مداخلت ختم کیے بغیر ممکن نہیں‘

’کھلاڑیوں کو ساز و سامان خود لینا پڑتا ہے‘

ٹوٹنھنم کے سابق دفاعی کھلاڑی گریہم رابرٹز پاکستان کے 2010 سے جنوری 2011 تک ہیڈ کوچ تھے۔ ان کا اس ملک میں وقت تو اچھا گزرا مگر انھیں مسائل کا سامنا بھی رہا۔

وہ ان کھلاڑیوں کو یاد کرتے ہیں جنھیں خود فٹبال کی کٹ خریدنا پڑتی تھی اور گھنٹوں اپنے خرچ پر سفر کر کے کھیلنے آنا پڑتا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’وہاں بہت پوٹنشل ہے، مگر انھیں سہولیات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں آپ کو فور جی گراؤنڈز کی ضرورت ہے۔ ہم نیشنل سٹیڈیم اسلام آباد گئے تو وہاں سہولیات اچھی تھیں مگر لاہور اور کراچی میں حالات ٹھیک نہیں تھے۔‘

وہ کہتے ہیں فڈریشن کو چاہیے کہ وہ فیفا کے پاس جائے اور کہے کہ انھیں چھ یا آٹھ فور جی گراؤنڈ چاہیئں، دو اسلام آباد میں دو لاہور میں دو کراچی میں اور دو پشاور میں۔‘

پی ایف ایف کی امنگوں کے لیے اہم ترین لوگ فیصل صالح حیات، نائب صدر سردار نوید اور جنرل سیکٹری لفٹینٹ کرنل احمد یار لودھی ہیں۔ ان تینوں کے عزائم بلند ہیں اور وہ کرکٹ کے جنون میں لپٹے اس ملک میں فٹبال کو مقبول کرنا چاہتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
برازیلی سے بہتر فٹبال کوچ کون ہو سکتے ہیں؟

لودھی چاہتے ہیں کہ آئندہ تین سالوں میں ملک میں کوئی پیشہ ور لیگ ہو اور دونوں مردوں اور خواتین کی ٹیمیں ایشیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کر سکیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک ساؤتھ ایشین فٹبال فڈریشن کپ کا تعلق ہے ہماری کوشش ہے کہ ہم فائنل کھیلیں اور بہترین تو یہ ہو کہ جیتیں۔‘

ادھر فیصل صالح حیات 40 سال سے ایک سیاستدان ہیں اور ان کا تعلق ایک طاقتور زمیندار خاندان سے ہے۔ وہ ایچیسن کالج لاہور اور کنگز کالج لندن سے تعلیم یافتہ ہیں۔

وہ 2003 سے پی ایف ایف کے صدر ہیں مگر ان کے دور میں کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اس وقت ان کی توجہ پاکستان کی فیفا کی رینگنگ میں تنزلی اور پابندیوں کا ہٹایا جانا ہے۔

وہ فیفا کے سینیئر نائب صدر اور ایشین فٹبال فیڈریشن کے سربراہ شیخ سلمان کے قریبی دوست ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہزار پانچ میں پاکستان فٹبال فیڈریشن اور بحرین فٹبال ایسوسی ایشن نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بحرین کے سابق کوچ کی خدمات لی گئیں تھیں۔

پاکستان اب خلیج کی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ میچز کھیلے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں