انڈیا کی شکست کے بعد ہم ریلیکس ہو گئے تھے‘

رضوان سینیئر

پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کپتان رضوان سینیئر کو ابھی تک ایشیئن گیمز کے سیمی فائنل میں جاپان کے ہاتھوں شکست کا یقین نہیں آ رہا لیکن وہ اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کہ سیمی فائنل میں کھلاڑی پورے جذبے سے نہیں کھیلے تھے۔

واضح رہے کہ ایشیئن گیمز کے سیمی فائنل میں جاپان کے خلاف شکست کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد نے کہا تھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ٹیم جذبے کے بغیر کھیلی۔ کھلاڑیوں میں نہ سخت محنت نظر آئی اور نہ ہی ٹیم متحد ہو کر کوشش کرتی نظر آئی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ نوید عالم نے ٹیم کی کارکردگی پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو تمام سہولتیں فراہم کیں لیکن ان کھلاڑیوں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ جاپان سے میچ ہار کرہم گولڈ میڈل سے دور ہو گئے۔ مینیجر کی جانب سے امپائرنگ کو مورد الزام ٹھہرا دینے سے پاکستان کی ہاکی کو نقصان پہنچا ہے۔ آخر میں فیڈریشن کو کیا ملا؟ لوگوں کی گالیاں اور بدنامیاں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایشین گیمز: انڈیا نے پاکستان کو 2-1 سے ہرا دیا

ہاکی فیڈریشن کا ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا لالی پاپ

ایشین گیمز: پاکستان ہاکی کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی تیسری فتح، قازقستان کو 0-16 سے شکست

’ہاکی ٹیم کو کیمپ کے دوران یومیہ ایک ہزار روپے ملتے ہیں‘

نوید عالم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ان کھلاڑیوں میں اتنی ہی صلاحیت ہے تو پھر یہ لیگ کھیلیں اور اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوں پھر ہم سنہ 2020 کے اولمپکس کی تیاری کرلیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کپتان رضوان سینیئر ایشیئن گیمز کے بعد ڈچ ہاکی لیگ کھیلنے ہالینڈ پہنچے ہیں جہاں وہ سات سال سے اورنج روڈ کلب کی نمائندگی کررہے ہیں۔ یہ ٹیم لگاتار تین بار ڈچ لیگ جیتنے کے علاوہ ایک مرتبہ یورپین لیگ کی فاتح بھی بنی ہے۔

رضوان سینئیر نے ہالینڈ سے بی بی سی اردو کو انٹرویو میں کہا کہ شکست کے بعد کھلاڑیوں کی کمٹمینٹ پر جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان پر انھیں بہت دکھ ہے کیونکہ کوئی بھی کھلاڑی جان بوجھ کر ہارنے کے لیے میدان میں نہیں اترتا۔

’کوئی بھی کھلاڑی یہ نہیں چاہتا کہ ٹیم کو شکست ہو۔ کون چاہے گا کہ وہ جان بوجھ کر ہارے۔؟ جتنا کسی بھی دوسرے شخص کو پاکستانی ٹیم کی شکست پر دکھ ہے اس سے کہیں زیادہ دکھ کھلاڑیوں کو ہے۔ ہم نے کراچی کی گرمی اور حبس میں سخت ٹریننگ کی تھی اور پورے جذبے کے ساتھ ایشیئن گیمز میں گئے تھے۔‘

جاپان کے خلاف پاکستان کی شکست کی وجہ کیا تھی؟ اس سوال پر رضوان سینئیر نے تسلیم کیا کہ کھلاڑی ذہنی طور پر ریلیکس کر گئے تھے۔

ʹانڈیا کا سیمی فائنل ہم سے پہلے تھا جس میں ملائشیا نے اسے شکست دیدی تھی جس کے بعد ہمارے ذہنوں میں یہی بات آ چکی تھی کہ اب گولڈ میڈل پکا ہے۔ ہم ذہنی طور پر تھوڑا سا ریلیکس کر گئے تھے۔‘

رضوان سینیئر اس شکست کو قسمت کی خرابی بھی سمجھتے ہیں۔

’ہم نے پہلا کوارٹر سٹارٹ کیا جو اتنا اچھا نہیں تھا۔ ہم پر ایک گول شارٹ کارنر پر ہو گیا۔ دوسرے کوارٹر میں ہمیں مواقع ملے جن سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ہم نے میچ برابر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم کامیاب نہیں ہو سکے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں