’جو بھی فیصلہ کروں گا اس کا مقصد پاکستان کی کرکٹ کو آگے لے جانا ہو گا‘

احسان مانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں موجود ہے لیکن انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے اس عہدے کے لیے ماجد خان کا نام تجویز نہیں کیا۔

خیال رہے کہ انگریزی اخبار ڈان کی خبر میں جمعے کو کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے احسان مانی کی یہ تجویز مسترد کر دی تھی کہ ماجد خان کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا جائے۔

احسان مانی نے سنیچر کو بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کی جانب سے ماجد خان کو چیف ایگزیکٹو آفیسر بنائے جانے کی تجویز سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ان کے بقول ’یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طرح کی خبریں کون پھیلا رہا ہے اور ان کا مقصد کیا ہے۔؟

انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ موجود ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات آئین کے مطابق چلائے جائیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’کرکٹ کھیلنے کے لیے انڈیا کی منتیں نہیں کروں گا‘

نجم سیٹھی مستعفی، احسان مانی پی سی بی کے نئے سربراہ نامزد

کیا نجم سیٹھی کا جانا طے ہو چکا ہے ؟

احسان مانی نے کہا ’ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ میں تمام تر اختیارات چیئرمین نے اپنے پاس رکھے حالانکہ چیئرمین کا کام پالیسی اور حکمت عملی تیار کرنا ہوتا ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے چیف ایگزیکٹو کو ہونا چاہیے۔ اگر تمام اختیارات چیئرمین کے پاس ہی ہوں گے تو پھر اسے کون مانیٹر کرے گا۔؟ میں چاہتا ہوں کہ چیئرمین سمیت ہر کوئی جواب دہ ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے بعد بھی پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیف آپریٹنگ آفیسر کا عہدہ برقرار رہے گا۔

چیئرمین کرکٹ بورڈ نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کو بظاہر پاکستان کرکٹ بورڈ سے الگ رکھنے کی باتیں ہوتی ہیں لیکن درحقیقت پاکستان سپر لیگ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہی لوگ چلاتے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ اور قائد اعظم ٹرافی میں کوئی بھی فرق نہیں کر سکتا۔ پاکستان سپر لیگ کے معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور اس کے روز مرہ معمولات چلانے کے لیے مینیجنگ ڈائریکٹر کی سطح کی تقرری کی جائے گی۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا ڈپارٹمنٹ کو بھی پیشہ ورانہ انداز میں چلانا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ میڈیا کو ایک ہی جگہ سے خبریں اور معلومات فراہم کی جائیں جیسا کہ آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈز میں ہوتا ہے اسی لیے انھوں نے بورڈ میں غیر ضروری واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں آئے ہوئے چند ہی روز ہوئے ہیں وہ ابھی تمام معاملات کو سمجھ رہے ہیں اور کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں کرنے میں یقین نہیں رکھتے۔ وہ کچھ وقت لیں گے لیکن جو بھی فیصلہ کریں گے اس کا مقصد پاکستان کی کرکٹ کو آگے لے جانا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں