امریکی اوپن: سرینا کی شکست، امپائر پر صنفی تعصب کا الزام

سرینا ولیمز تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرینا ولیمز نے امپائر سے معافی کا مطالبہ کیا

امریکہ کی سٹار ٹینس کھلاڑی سرینا ولیمز نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکی اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں کوئی فریب نہیں کیا ہے اور انھوں نے امپائر پر صنفی تعصب برتنے کا الزام لگایا ہے۔

جاپانی ٹینس سٹار نوامی اوساکا نے امریکی اوپن کے فائنل میں سرینا ولیمز کو 2-6 اور 4-6 سے شکست دی لیکن دوسرے سیٹ میں سرینا ولیمز کے غصے سے پھٹ پڑنے سے ان کی جیت کی چمک کم ضرور ہو گئی۔

سرینا ولیمز پر کوچنگ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گيا اس کے بعد ان کے خلاف ریکٹ کے غلط استعمال کے لیے ایک پوائنٹ دیا گيا اور پھر امپائر کو 'جھوٹا' اور 'چور' کہنے کے لیے ان کے خلاف ایک گیم کی پنلٹی لگائی گئی۔

اس کے بعد امریکی سٹار سرینا ولیمز نے کہا کہ ان کے خلاف ایک گیم کی پنلٹی لگانا 'جنسی تعصب' تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سرینا ولیمز کے گھر ننھی پری کی آمد

ایک اور حاملہ کھلاڑی کی ٹینس مقابلوں میں شرکت

36 سالہ سٹار نے کہا کہ 'انھوں (امپائر) نے کبھی کسی مرد کے ایک گیم کی صرف اس لیے کٹوتی نہیں کی ہے کہ انھیں 'چور' کہا گیا۔'

'لیکن میں نے دیکھا ہے کہ مرد (ٹنیس کھلاڑی) امپائر کو بہت ساری چیزیں کہہ دیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

'میں یہاں خواتین کے حقوق کے لیے، ان کے مساوی حقوق اور ديگر تمام چیزوں کے لیے لڑ رہی ہوں۔'

معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سرینا ولیمز کے کوچ پیٹرک موراٹوگلو نے دوسرے سیٹ کی ابتدا میں ہاتھ سے انھیں اشارہ کیا۔

سرینا ولیمز نے کسی قسم کی کوچنگ حاصل کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'فریب دے کر جیتنے کے بجائے ہارنا پسند کریں گی' اور انھوں نے امپائر کارلوس ریموس سے معافی کا مطالبہ کیا۔

بعد میں موراٹوگلو نے کوچنگ کا اعتراف کیا۔

تین گيمز کے بعد اوسکا کو اس وقت ایک پوائنٹ دے دیا گیا جب ولیمز نے کھیل کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا ریکٹ دے مارا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موراٹوگلو نے سنہ 2012 سے سرینا کو کوچ کرنا شروع کیا

ولیمز غصے میں بپھر پڑیں اور ریموس کے پاس جاکر ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان پر چیخنے لگیں جبکہ زہریلے ماحول میں ناظرین نے سابق عالمی نمبر ایک کی حمایت میں شور مچانا شروع کر دیا۔

کورٹ کا اینڈ بدلنے کے بعد بھی سرینا ریموس کے خلاف یہ کہہ کہہ کر بھڑاس نکالتی رہیں کہ 'تم جھوٹے ہوئے'، 'کہو کہ تمہیں افسوس ہے' اور اوساکا کو ایک پوائنٹ دیے جانے پر انھیں 'چور' کہا۔

23 بار گرینڈ سلیم خطاب جیتنے والی سرینا نے کہا کہ اس بات نے ان کا 'دماغ گھما کر رکھ دیا۔ لیکن میں خواتین کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھوں گی اور اپنی برابری کے لیے لڑتی رہوں گی۔'

انھوں نے کہا: 'مجھے اس بات کا احساس ہے کہ مجھے آنے والے حساس افراد کے لیے مثال قائم کرنی ہے جو اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتی ہیں اور ایک مضبوط خاتون بننا چاہتی ہیں۔

'انھیں آج کی وجہ سے ایسا کرنے کی اجازت ہوگی۔ شاید یہ میرے لیے سازگار ثابت نہ ہوا ہو لیکن آنے والے دوسرے فرد کے لیے ضرور ہوگا۔'

میچ کے بعد کوچ موراٹوگلو نے اعتراف کیا کہ وہ کوچ کر رہے تھے تاہم انھوں نے کہا: 'میرے خیال میں وہ مجھے نہیں دیکھ رہی تھی۔' انھوں نے کہا کہ اوساکا کا کوچ بھی وہی کر رہا تھا اور 'ہر کوئی ایسا کرتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوساکا گرینڈ سلیم جیتنے والی پہلی جاپانی کھلاڑی بنی ہیں

خیال رہے کہ گرینڈ سلیم میں کورٹ پر میچ کے دوران کوچنگ کی اجازت نہیں ہے جبکہ ڈبلیو ٹی اے مقابلوں میں اس کی اجازت ہوتی ہے۔ گرینڈ سلیم کے اصول کے مطابق میچ کے دوران کھلاڑی اور کوچ کے درمیان کسی قسم ترسیل ممنوع ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے میں گرما گرم بحث جاری ہے اور بہت سے لوگ سرینا کی حمایت میں ٹویٹ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اوساکا نے پہلے سیٹ میں سرینا پر واضح برتری قائم رکھی جبکہ دوسرے سیٹ میں بھی وہ بہت پرسکون رہیں۔ وہ سرینا کو اپنا آئیڈل کہتی ہیں۔ وہ ایک مشکل ماحول میں جیت کر جاپان کی پہلی کھلاڑی بنیں جنھوں نے کوئی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتا ہو۔

بعد میں انھوں نے کہا کہ انھیں پتہ نہیں چلا کہ امپائر اور سرینا ولیمز کے درمیان کیا ہو رہا تھا۔ انھوں نے کہا: 'میں پوری طرح اپنی توجہ کو مرکوز رکھنا چاہتی تھی۔ چونکہ یہ میرا پہلا گرینڈ سلیم فائنل تھا اس لیے میں فرط جذبات سے مغلوب نہیں ہونا چاہتی تھی۔'

اسی بارے میں