شارجہ ایشیا کپ کے میچوں سے کیوں غائب ہے؟

شارجہ کرکٹ سٹیڈیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شارجہ میں ایشیا کپ کا ایک بھی میچ نہ ہونے کا ایک اہم سبب انڈین کرکٹ بورڈ ہے جو دراصل اس ایشیا کپ کا میزبان ہے

ایشین کرکٹ کونسل کی داغ بیل سنہ 1983 شارجہ میں ڈالی گئی تھی اور اس کے قیام کے اگلے سال اپریل سنہ 1984 میں شارجہ ہی نے پہلے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کی تھی جس میں تین ٹیمیں پاکستان، انڈیا اور سری لنکا شریک تھیں۔

یہ سہہ فریقی ٹورنامنٹ انڈیا جیتا تھا۔

سنہ 1995 میں شارجہ ایک بار پھر ایشیا کپ کا میزبان بنا اور چار ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ میں انڈیا چیمپیئن بنا تھا۔

ایشیا کپ اب تیسری مرتبہ متحدہ عرب امارات میں واپس آیا ہے۔ اگرچہ اس مرتبہ چھ ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ کے 13 میچوں کے لیے دو میدانوں کا انتخاب کیا گیا ہے لیکن ان میں شارجہ شامل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وراٹ کوہلی کے بغیر ایشیا کپ کا رنگ پھیکا

30 سال بعد: 'میانداد کا وہ چھکا آج بھی پریشان کرتا ہے'

شارجہ میں ایشیا کپ کے میچ نہ ہونے کی بظاہر وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہاں پہلی افغان پریمیئر لیگ ہونے والی ہے حالانکہ اس افغان پریمیئر لیگ کا آغاز پانچ اکتوبر کو ہو گا جبکہ ایشیا کپ 28 ستمبر کو ختم ہو چکا ہو گا۔

شارجہ میں ایشیا کپ کا ایک بھی میچ نہ ہونے کا ایک اہم سبب انڈین کرکٹ بورڈ ہے جو دراصل اس ایشیا کپ کا میزبان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جب سے متحدہ عرب امارات کو اپنی ہوم سیریز کا مرکز بنایا ہوا ہے شارجہ اس میں پیش پیش رہا ہے

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بی سی سی آئی اور شارجہ کرکٹ کے ماضی میں تعلقات اچھے نہیں رہے اور یہ بھی سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ نے ماضی میں شارجہ کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کرکٹ ٹیم کو نان ریگولر سینٹرز پر کھیلنے سے روک دیا تھا جن میں شارجہ بھی شامل تھا۔

اگرچہ بی سی سی آئی چار سال قبل آئی پی ایل کے چند میچ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد کرچکا ہے لیکن اکتوبر سنہ 2000 کے بعد سے انڈین کرکٹ ٹیم شارجہ میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔

شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ 236 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی کر چکا ہے۔

شارجہ میچ فکسنگ کے الزامات کی وجہ سے آئی سی سی کے رڈار میں بھی رہا اور وہاں تقریباً سات سال تک انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوئی لیکن اس کے بعد سے وہ دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

Image caption اس سال افغان پریمیئر لیگ اور ٹی 10 لیگ کی وجہ سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی سیریز کا کوئی بھی میچ شارجہ میں نہیں رکھا گیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جب سے متحدہ عرب امارات کو اپنی ہوم سیریز کا مرکز بنایا ہوا ہے شارجہ اس میں پیش پیش رہا ہے تاہم اس سال افغان پریمیئر لیگ اور ٹی 10 لیگ کی وجہ سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی سیریز کا کوئی بھی میچ شارجہ میں نہیں رکھا گیا ہے۔

ایشیا کپ کے سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسے دو میدانوں میں کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس ضمن میں دبئی اور ابو ظہبی کا انتخاب کیا گیا لیکن کرکٹ شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کے ضمن میں شارجہ ہمیشہ ان دونوں میدانوں سے بازی لے جاتا ہوا نظر آیا خاص کر پاکستان سپر لیگ کے دوران شارجہ کرکٹ سٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا رہا تھا۔

ایشیا کپ میں افغانستان کی ٹیم بھی شریک ہے جسے شارجہ میں شائقین کے جوش و خروش کا بخوبی اندازہ ہے۔

افغانستان کی ٹیم نے جب بھی شارجہ سٹیڈیم میں میچ کھیلے اسے تماشائیوں کی زبردست حمایت حاصل رہی۔

شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کافی عرصے تک افغانستان کی ٹیم کا اختیاری ہوم گراؤنڈ بھی رہا ہے۔ اس تناظر میں اگر افغانستان کی ٹیم کا ہی ایک میچ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں رکھ دیا جاتا تو شائقین کی ایک بڑی تعداد اس سے لطف اندوز ہو سکتی تھی جنھیں اب ابوظہبی جانا ہو گا جہاں افغانستان کی ٹیم کے دونوں گروپ میچ رکھے گئے ہیں۔

اسی بارے میں