راشد خان کی ’اگر مگر‘ اور شعیب ملک کا ’لیکن‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بابر اعظم نے 66 رنز کی اننگز کھیلی

جوں جوں ابوظہبی میں سائے ڈھلنے لگے، پاکستانی کیمپ کے چہروں پہ بے یقینی بڑھنے لگی۔ اس سست وکٹ پہ افغانستان جیسی ٹیم کا پاکستانی بولنگ کو یوں روندتے چلے جانا گویا گماں کے ممکن سے کم نہیں تھا۔

ابوظہبی کا حبس آلود موسم اور پاکستانی بولنگ افغانستان کے گیم پلان کا کچھ بھی نہ بگاڑ پائے۔ گو اس میں بہت ہاتھ ان محفوظ پاکستانی ہاتھوں کا بھی تھا جن سے یکے بعد دیگرے کیچز پھسلتے چلے گئے۔ لیکن پھر بھی افغان مڈل آرڈر کی مزاحمت قابلِ تحسین ہے۔

ویسے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جس طرح کی نیک نامی پاکستانی فیلڈنگ نے پچھلے ڈیڑھ دو سال میں کمائی تھی، نجانے کیوں سٹیو رکسن کے جاتے ہی اچانک ہوا ہو گئی ہے۔

پاکستان بمقابلہ افغانستان، تصویری جھلکیاں

یہ بات بھی فہم سے بالاتر رہی کہ ابوظہبی کی وکٹ پہ پاکستان صرف ایک ریگولر سپنر کے ساتھ کیوں اترا۔ جو وکٹ اپنی کاہلی کی وجہ سے معروف ہے، اس پہ تین پیسر کھلانے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ کوئی ماہرِ مابعد الطبیعیات ہی اس پہ روشنی ڈال سکتا ہے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ گڑبڑانے اور سر چکرانے والا سوال یہ ہے کہ جہاں باقی تمام ٹیمیں سکواڈ میں تین چار سپنرز لے کر آئی ہیں، وہیں یو اے ای کے ہوم گراونڈز رکھنے والی ٹیم صرف دو سپنرز کے ساتھ کیوں گئی ہے جبکہ ان دو میں سے بھی شاداب خان ان فٹ ہو چکے ہیں۔

بہرطور یہ تو متوقع تھا ہی کہ افغانستان کوئی آسان حریف ثابت نہیں ہو گا مگر یہ بھی خدشہ نہیں تھا کہ یہ میچ ایسے گلے کی ہڈی بن جائے گا کہ جیت پہ بھی ذرا پھولے نہ سمانے کی خواہش تک باقی نہ رہے گی۔

کرکٹ میں اگرچہ ممکنات کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے مگر غلط ٹیم سیلیکشن اور ناقص فیلڈنگ کے باوجود پاکستان کی جیت ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی کرکٹ بسا اوقات ممکنات کے دائرے کو پھلانگ کر معجزات کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

افغانستان کا گیم پلان بہت پختہ تھا کہ پہلے بیٹنگ ملنے کے بعد صرف وکٹ پہ رکا اور موقع کا انتظار کیا جائے۔ ابوظہبی کی وکٹ پہ ڈھائی سو رنز کا ہدف کسی پہاڑ سے کم نہیں ہوتا۔ کل کے میچ سے پہلے بیس مواقع ایسے آئے کہ یہاں ون ڈے میں ڈھائی سو یا زیادہ کا ہدف ٹھہرا اور صرف تین بار یہ حاصل ہو پایا۔

اس تناظر میں پاکستانی بیٹنگ صد داد و تحسین کی مستحق ہے کہ یہ کارِ دشوار نہایت تحمل سے انجام دیا۔ مشکل مواقع اور پریشر کے باوجود بابر اعظم اور امام الحق نے بہت سوجھ بوجھ اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

تینتیس اوورز تک کے کھیل میں تو ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ پاکستان ہنستے کھیلتے ہی یہ ہدف عبور کر لے گا۔ لیکن جس طرح افغان سپنرز نے کھیل کی نبض پہ ہاتھ رکھا اور پے در پے نقصانات پہنچائے، اس کے بعد بھی پاکستانی بیٹنگ کا سنبھل جانا وہی بات ہے جو ممکنات کے دائرے سے نکل کر معجزات کے دائرے میں جا پڑتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ جیت ضروری تو تھی ہی مگر جس انداز میں یہ فتح حاصل ہوئی، شاید یہ انداز بھی ضروری ہی تھا کہ بروقت کچھ سوالات کے جواب کھوج لیے جائیں تا کہ سند رہیں اور اگلے ہفتے کام آ سکیں۔

سرفراز احمد وکٹوں کے پیچھے تو خوب بول رہے ہیں مگر وکٹوں کے آگے ان کے بلے نے پر اسرار سی خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ محمد عامر کو بینچ پہ بٹھانا کوئی مصلحت تھی یا مجبوری؟ اور کیا اگلے اہم میچز میں بھی پاکستان چار بولرز اور سات بلے بازوں کے ساتھ جانا افورڈ کر سکتا ہے؟

کیونکہ اگر ان سوالات کے جوابات نہ مل پائے تو پھر ٹرافی اور پاکستان میں اتنا ہی فاصلہ رہ جائے گا جتنا کل محمد نواز کے چھکے اور ان کی وکٹ میں تھا۔

راشد خان جب اپنا سپیل مکمل کر کے جا رہے تھے تو وہ شدید ناخوش تھے کیونکہ وہ جانتے تھے شعیب ملک ایسے گھاگھ بلے باز کے سامنے چھ گیندوں پہ دس رنز کا ہدف کوئی ہدف نہیں ہے۔ وہ جانتے تھے کہ افغانستان یہ میچ آخری اوور شروع ہونے سے پہلے ہی ہار چکا ہے۔

بالفرض اگر حسن علی نے وہ چھکا نہ مارا ہوتا یا اگر شعیب ملک نے آخری اوور کی پہلی گیند پہ سنگل لے لیا ہوتا یا اگر محمد شہزاد نے شعیب ملک کا کیچ ڈراپ نہ کیا ہوتا تو شاید افغانستان تاریخ رقم کر چکا ہوتا۔

خیر راشد خان اور افغانستان کی اگر مگر اپنی جگہ، لیکن بہر حال یہ نہایت سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلہ تھا۔ اسے ناتجربہ کاری کہیے یا شومئی قسمت کہ آفتاب کے اعصاب ہار گئے اور شعیب ملک جیت گئے۔

اسی بارے میں