'قصور سارا ٹیسٹ کرکٹ کا ہے!'

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ دبئی کی وکٹ ہے۔ یہاں قسمت پانسے پلٹتے دیر نہیں لگاتی۔ یہاں سورج دمکتا چلا جاتا ہے اور امیدیں بُجھے جاتی ہیں۔ یہاں کبھی کبھی وقت بھی پگھل جاتا ہے۔

آخری دن ہو گا۔ صرف سات وکٹیں باقی اور پھر دبئی کی شام بھلا کس نے دیکھی؟ تمازت اور طوالت آسٹریلینز کے صبر کو بہا لے جائیں گی۔ خشک وکٹ پہ خاک اڑتی پھرے گی۔ سپنر دھجیاں اڑا دیں گے۔

لنچ نہیں بھی تو کم از کم چائے کے وقفے سے پہلے ہی پاکستان یہ قصہ سنا چکا ہو گا۔

اسی میچ کے بارے میں مزید

دبئی ٹیسٹ میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد برابری پر ختم

بلال آصف کا خواب اور وہ خوف کی دستک

دن کے آغاز پہ سرفراز نے یقیناً یہی سوچا ہو گا۔

مگر یہاں سائے گہرے ہوتے گئے۔ آخری 13 اوور رہ گئے تھے اور ٹِم پین کو پارٹنروں کی کمی ہی نہیں پڑ رہی تھی۔ جب ہیڈ آوٹ ہوئے تھے تب امید جاگی تھی کہ بساط سمٹتے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

مگر ٹِم پین ڈٹ گئے۔

اب میدان میں دو وکٹ کیپر بلے بازوں کی کپتانی کا مقابلہ تھا۔ کریز پہ سرفراز اور پین کے درمیان چار ہی قدم کا فاصلہ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی سرگوشی تک سن سکتے تھے۔

مگر میدان پر یہ چار قدم کا فاصلہ سوچ کے میدان میں شاید میلوں پہ محیط تھا۔

جب عثمان خواجہ بہترین اننگز کھیلتے کھیلتے اچانک آؤٹ ہو گئے تو یکبارگی لگا کہ قسمت نے پھر پاکستان کے حق میں جھکنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ مگر شاید اسے ٹِم پین کی طرفداری ہی کرنا چاہیے تھی کہ شکست سے صرف دو وکٹوں کی دوری پہ کھڑے کپتان نے نیتھن لیون کو سٹرائیک دے دیا۔ سٹرائیک نہیں، گویا اعتماد دے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وکٹوں کے پیچھے کھڑے کپتان کو وہاں کچھ مختلف کرنا چاہیے تھا۔ شاید وہاب ریاض یا کم از کم یاسر شاہ کو ہی موقع دے دیا جاتا تو صبح سے منتظَر جیت جھلک دکھلا ہی دیتی۔ مگر جلد بازی اور خوف کا امتزاج سرفراز کے آڑے آ گیا۔

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پہلی اننگز میں بمشکل دو سو رنز سکور کرنے والی بیٹنگ لائن چوتھے اور پانچویں دن کی دبئی کی سپن اور کنڈیشنز کے آگے ایسی مزاحمت دکھا جائے گی کہ خود آسٹریلینز بھی حیران رہ جائیں گے۔

دن کے آغاز پہ سرفراز ہر لحاظ سے جیتنے کی پوزیشن میں تھے مگر نجانے کوئی بے صبری تھی کہ کوئی بے نام سا خدشہ، جو صبح کی وکٹ پہ سیمرز کو گیند ہی نہ دیا۔ یہ تو طے ہے کہ آج کا دن ہونا بھی سپنروں کے نام تھا مگر نہ تو صبح کے وقت فاسٹ بولروں پہ ذرا بھروسہ کیا گیا نہ ہی نیا گیند لینے کے بعد۔

جب کوئی بیٹسمین کریز پہ جم جائے اور بولنگ کپتان کی تمام تر چالیں ناکام بنانے پہ تُل جائے تو تھوڑی سی جرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ ایسا کرنا ہوتا ہے کہ وہ حیرت کے ہاتھوں ہی آوٹ ہو جائے۔ اس بولنگ یونٹ میں صرف وہاب ریاض ہی ایسا کر سکتے تھے۔

دو سال پہلے اسی میدان پہ جب ڈیرن براوو پانچویں دن کی وکٹ پہ ڈٹ گئے تھے تو مصباح نے انھیں پہلے دن بھر تھکایا۔ جب وہ تھک کر بھی آوٹ نہ ہوئے تو رات کے کھانے کے فورا بعد انھیں ڈرایا گیا۔

محمد عامر نے تیز باونسروں کا ایسا سپیل پھینکا کہ دن بھر یاسر شاہ کو خاطر میں نہ لانے والے براوو ایک آسان سی گیند پہ جال میں پھنس گئے۔ اگر انھیں ڈرایا نہ جاتا تو شاید پاکستان وہ پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ ہار جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عثمان خواجہ نے دونوں اننگز میں شاندار کھیل پیش کیا

آج سرفراز کے پاس بھی بے شمار ایسے مواقع تھے کہ وہ سوچ کا تانا بانا بُن کے عثمان خواجہ اور ٹِم پین کی مزاحمت میں دراڑ ڈال سکتے تھے مگر وہ صرف اپنے ہی ماتھے پہ بل ڈالتے رہ گئے۔

32 اوور کھیل کر ڈرا کرنے والے کپتان سے جب رمیز راجہ نے کہا کہ یہ ڈرا ان کے لیے تو جیت کے برابر ہی ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ ہرگز نہیں، ہمیں بہتر کرکٹ کھیلنا چاہیے تھی۔

عین اسی جگہ کچھ دیر بعد وہ وکٹ کیپر کپتان کھڑے تھے جو چار بہترین بولر اور سازگار حالات کے باوجود سات وکٹیں نہ لے پائے تھے۔

اور موقف یہ تھا: 'اگرچہ ہمیں یہ میچ جیتنا چاہیے تھا مگر یہ ٹیسٹ کرکٹ ہے، اس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ بلاشبہ ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور کئی چیزوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے مگر یُو نو، ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں