ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن بولرز کے نام

سرفراز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفراز احمد نے سات چوکوں کی مدد سے 94 رنز کی اننگز کھیلی

ابوظہبی میں دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں 282 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جس کے جواب میں آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 20 رنز بنائے ہیں۔

آسٹریلیا کی جانب سے ایرون فنچ اور عثمان خواجہ نے اننگز شروع کی تو محمد عباس نے ابتدا میں ہی پاکستان کو پہلی کامیابی دلا دی جب انھوں نے عثمان خواجہ کو تین کے انفرادی سکور پر وکٹوں کے پیچھے سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں محمد عباس کی یہ 50ویں وکٹ تھی۔

دن کے آخری اوور میں محمد عباس نے نائٹ واچ مین پیٹر سڈل کو بھی ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا، انھوں نے چار رنز بنائے۔ امپائر نے انھیں آؤٹ نہیں دیا تھا تاہم پاکستان کی جانب سے ریویو لینے پر تھرڈ امپائر نے انھیں آؤٹ قرار دیا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

اس سے قبل منگل سے شروع ہونے والے سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد کا ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ اس وقت مہنگا ثابت ہوا جب پہلے ہی سیشن میں پاکستان کی نصف ٹیم پویلین لوٹ گئی۔

تاہم دوسرے سیشن میں فخر زمان اور کپتان سرفراز احمد کی محتاط بلے بازی کی بدولت پاکستانی ٹیم مشکل صورتحال سے کچھ حد تک نکلنے میں کامیاب ہوئی۔

پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ اور اظہر علی نے اننگز کا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں صرف پانچ رنز بنے۔

آسٹریلیا کو پہلی کامیابی مچل سٹارک نے دلوائی۔ آؤٹ ہونے والے بلے باز محمد حفیظ تھے جو صرف چار رنز بنا کر کیچ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان اور کپتان سرفراز احمد کی محتاط بلے بازی کی بدولت پاکستانی ٹیم مشکل صورتحال سے کچھ حد تک نکلنے میں کامیاب ہوئی

دوسرے اینڈ سے سپنر نیتھن لائن پاکستانی بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹے اور انھوں نے پانچ اووروں میں چار رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا دی۔

ان کی پہلی وکٹ اظہر علی تھے جو 15 رنز بنانے کے بعد خود لائن کے ہاتھ میں کیچ تھما کر پویلین لوٹ گئے۔ اس اوور کی اگلی ہی گیند پر صفر پر حارث سہیل شارٹ لیگ پر کیچ ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں!

دبئی ٹیسٹ میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد برابری پر ختم

’دبئی میں ٹیسٹ جیتنا کوئی آسان کام ہے؟‘

لائن نے اگلے اوور میں اسد شفیق کو بھی صفر کے سکور پر کیچ کروا دیا۔ ان کی جگہ آنے والے بابر اعظم نے بھی کریز پر زیادہ دیر ٹھہرنے کی زحمت نہ کی اور وہ بھی کوئی سکور کیے بغیر باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں بولڈ ہو گئے۔

سرفراز احمد اور فخر زمان دونوں صرف چھ، چھ رنز کی کمی سے اپنی سنچریاں مکمل نہ کر سکے اور 94، 94 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے فخر زمان چائے کے وقفے سے قبل لبوشین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

اس سے پہلے نیتھن لائن نے پہلے ہی سیشن میں چار وکٹیں لے کر آسٹریلیا کو ایک مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا تھا۔ ایک موقع پر پاکستان کی صرف 57 کے سکور پر پانچ وکٹیں گر چکی تھیں

تاہم پھر فخر زمان اور سرفراز احمد نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور دونوں بلے بازوں کے درمیان 147 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔

چائے کے وقفے کے بعد آسٹریلین بولرز بھرپور انداز میں میچ میں واپس آئے اور پاکستان کی اننگز کو 282 رنز پر سمیٹ دیا۔

بلال آصف 12، یاسر شاہ 28 اور محمد عباس دس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ میر حمزہ پانچ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن لائن نے چار، لبوشین نے تین، مچل سٹارک نے دو اور مچل مارش نے ایک وکٹ حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیتھن لائن نے پہلے ہی سیشن میں چار وکٹیں لے کر آسٹریلیا کو ایک مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

اس میچ کے لیے پاکستان کی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے ٹیسٹ میں زخمی ہونے والے بلے باز امام الحق کی جگہ فخر زمان اور وہاب ریاض کی جگہ میر حمزہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ ان دونوں بلے بازوں کے کریئر کا پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین یہ ٹیسٹ سیریز دو میچوں پر مشتمل ہے اور دبئی میں کھیلا جانے والے پہلا ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد برابری پر ختم ہو گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں