دبئی: ٹی ٹوئنٹی سیریز پاکستان کے نام، دوسرے میچ میں 11 رنز سے جیت

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں کھیلے جا رہے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان آسٹریلیا کو 11 رنز سے ہرا کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔

یہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں مسلسل دسویں سیریز جیت ہے اور کپتان سرفراز احمد نے اب تک اپنی قیادت میں کسی بھی سیریز میں شکست نہیں کھائی ہے۔ انھوں نے اب تک 29 میچوں میں کپتانی کے فرائض سرانجام دیے ہیں اور 25 میں فتح حاصل کی ہے۔

اس میچ بھی آسٹریلیا کو ان کی ٹیم نے تعاقب میں شروع سے ہی دباؤ میں رکھا لیکن چھٹی وکٹ کی شراکت میں گلین میکس ویل اور نیتھن کولٹر نے برق رفتاری سے کھیلتے ہوئے شراکت کی نصف سنچری مکمل کر لی اور اپنی ٹیم کے لیے جیت کی امید روشن رکھیں۔

آخری اوور میں انھیں 23 رنز کی ضرورت تھی اور اپنا پانچواں میچ کھیلنے والے نوجوان فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی پہلی ہی گیند پر نیتھن کولٹر نائل نے 106 میٹر طویل چھکا لگا کر اوور کا آغاز کیا لیکن بولر نے اپنے حواس قابو میں رکھے۔

دو گیندوں بعد شعیب ملک نے میکسویل کا اہم ترین کیچ لیا اور فوراً بعد کولٹر نائل بھی آؤٹ ہو گئے اور یوں پاکستان نے اپنی جیت مکمل کر لی۔

سیریز کا آخری میچ اتوار کو دبئی میں ہی کھیلا جائے گا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Pcb
Image caption آسٹریلیا کی جانب سے گلین میکس ویل نے شاندار بیٹنگ کی اور نصف سنچری بنائی لیکن وہ ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کرا سکے

آسٹریلیا کی جانب سے گلین میکس ویل نے دو کیچز ڈراپ ہونے کا پورا فائدہ اٹھایا اور 37 گیندوں پر 52 رنز بنائے جبکہ ان کا بھرپور ساتھ دینے والے نیتھن کولٹر نائل نے 17 گیندوں پر تین چھکوں کی مدد سے 27 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے عماد وسیم نے ایک بار پھر انتہائی نپی تلی بولنگ کی اور چار اوورز میں ایک وکٹ صرف آٹھ رنز دے کر حاصل کی اور اس کارکردگی پر انھیں مسلسل دوسرے میچ میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز مل۔

ان کے علاوہ شاداب خان اور شاہین آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

اس سے قبل جب اننگز شروع ہوئی تو پہلے میچ کی طرح آسٹریلیا کا آغاز ایک بار پھر اچھا نہ تھا اور پہلے پانچ اوورز میں ہی آسٹریلیا نے 19 رنز کے عوض دو وکٹیں گنوا دیں۔

اوپنر ڈارسی شارٹ عماد وسیم کی گیند پر رن آؤٹ ہو گئے جب بولرز اینڈ پر گیند عماد وسیم کے ہاتھوں سے لگتے ہوئے وکٹوں میں جا لگی اور ڈارسی شارٹ کے بلا ہوا میں تھا۔ انھوں نے دو رنز بنائے۔

اس کے بعد کرس لِن سات رنز بنا کر عماد وسیم کی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے جن کا کیچ شاداب خان نے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pcb

پاور پلے کے بعد شاداب خان نے کپتان آرون فنچ کو بھی ٹھکانے لگا دیا جو فخر زمان کے ہاتھوں تین رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔

مچل مارش اور گلین میکس ویل کے درمیان پانچ اوورز میں 30 رنز کی شراکت داری پاکستان کے لیے مشکل کا باعث بن سکتی تھی لیکن 12ویں اوور میں شاداب خان نے اپنی دوسری وکٹ حاصل کر لی جب مچل مارش کا کیچ کپتان سرفراز احمد نے پکڑ لیا۔ انھوں نے 21 رنز بنائے۔

اس کے فوراً بعد محمد حفیظ نے اپنا پہلا اوور پھینکا اور ایلکس کیری کو ایک رن پر آؤٹ کر دیا۔

14ویں اوور میں شاہین آفریدی واپس آئے اور ان کی سلو گیند پر گلین میکس ویل نے اونچا شاٹ کھیلا لیکن عماد وسیم کیچ نہ پکڑ سکے۔ لیکن دو گیندوں بعد نئے آنے والی بین میکڈرمٹ کو فخر زمان نے زبردست فیلڈنگ کرتے ہوئے رن آؤٹ کرا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل پاکستان کی جانب سے اوپنر فخر زمان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے فخر زمان کولٹر نائل کی گیند پر 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑی محمد حفیظ تھے۔ انھوں نے 40 رنز بنائے اور سٹین لیک کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

گذشتہ میچ کے کامیاب ترین پاکستانی بلے باز بابر اعظم اس بار اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔ وہ 45 کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد آصف علی نے آ کر جارحانہ انداز میں کھیلنے کی کوشش کی تاہم وہ زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکے۔ انھوں نے چھ گیندوں پر 9 رنز بنائے۔

شعیب ملک بھی اس بار بڑا سکور نہیں کر سکے اور 14 کے سکور پر آؤٹ ہوگئے جس کے بعد حسن علی کوئی بھی سکور کیے بغیر پویلین لوٹ گئے۔

ان کے بعد عماد وسیم اور فہیم اشرف نے پاکستانی سکور کو 147 تک پہنچا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یاد رہے کہ تین ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ بدھ کے روز پہلے میچ میں جارحانہ پاکستانی بولنگ کی تاب نہ لاتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ 88 رنز بنا کر ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور 66 رنز سے میچ ہار گئی۔

پہلے میچ کے مقابلے میں دونوں ٹیموں میں ایک ایک تبدیلی کی گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے حسین طلعت کی جگہ شعیب ملک آئے ہیں اور آسٹریلیا کے لیے ایشٹن آگر کی جگہ مچ مارش نے لی ہے۔

پاکستان کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: فخرزمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، شیعب ملک، آصف علی، سرفراز احمد (کپتان)، عماد وسیم، فہیم اشرف، شاداب خان، حسن علی، اور شاہین آفریدی۔

آسٹریلیا کی ٹیم: ایرن فنچ، ڈارسی شارٹ، کرس لن، گلین میکسویل، بین میکڈرمٹ، مچل مارش، ایلکس کیری، نیتھن کورٹیئر نائل، ایڈم زمپا، اینڈریو ٹائی اور سٹین لنکا۔

متعلقہ عنوانات