سرفراز احمد کی بدقسمتی

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گلین میکس ویل کے لیے یہ کوئی نامانوس صورت حال نہیں تھی۔ آئے روز دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں کوئی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہو رہی ہوتی ہے۔ جہاں بھی مقابلہ دو کوالٹی ٹیموں کے بیچ ہو، وہاں ایسے سنسنی خیز لمحات آ ہی جاتے ہیں کہ دل اور دماغ باہم اختلافِ رائے پہ اتر آتے ہیں۔

ورلڈ ٹوئنٹی 2014 کے ایک میچ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز آمنے سامنے تھے۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز نے 15 اوورز میں کوئی 85 کے لگ بھگ رنز بنائے تھے۔

فتح پاکستان کے سامنے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی کہ نجانے کیسے اسی ویسٹ انڈین بیٹنگ نے آخری پانچ اوورز میں ہی 80 سے زائد رنز بٹور لیے اور پاکستان جیتا جتایا میچ ہار گیا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

ٹی ٹوئنٹی سیریز پاکستان کے نام، 11 رنز سے جیت

تباہ کن بولنگ کی بدولت پاکستان کی 66 رنز سے جیت

'عماد وسیم فنچ سے بہتر نکلے'

یہاں دبئی میں گلین میکس ویل کریز پر موجود تھے۔ پاکستانی فیلڈنگ انہیں دو تین چانسز بھی عنایت کر چکی تھی۔ آخری پانچ اوورز میں 70 رنز چاہئے تھے۔ دوسرے اینڈ پہ کولٹر نائل موجود تھے جو ابوظہبی میں دکھلا چکے کہ اس پاکستانی بولنگ اٹیک کے خلاف رنز کیسے بن سکتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں کچھ اہم نہیں رہ جاتا۔ نہ تو وہاں مطلوبہ رن ریٹ کسی کھاتے میں آتا ہے نہ ہی کوئی یہ دیکھتا ہے کہ وکٹیں کتنی باقی ہیں۔ٹی ٹوئنٹی کے آخری پانچ اوورز میں شماریات کے پیمانے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ حقیقت مختصر ہو کر یہاں آ ٹھہرتی ہے کہ میکسویل کے ہوتے تیس گیندوں پہ ستر رنز ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pcb
Image caption محمد حفیظ اور بابر اعظم دونوں مزاجاً ایسے پلئیرز ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی میچ میں ان کی پارٹنرشپ نفع سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں بظاہر تو دو ہی پاور پلے ہوتے ہیں جہاں میچ کا رخ متعین ہوتا ہے۔ مگر اننگز کے آخری پانچ اوورز بسا اوقات پاورپلے ہی کیا، اچھےبھلے مستحکم سکور بورڈ کا حلیہ بگاڑ دیتے ہیں۔

پاکستان پاور پلے میں اچھا آغاز ملنے کے باوجود مڈل اوورز میں ذرا سست روی کا شکار کیا ہوا کہ آخری پانچ اوورز میں اچھی بھلی تگڑی اننگز کے بخیے ادھڑ گئے۔

محمد حفیظ اور بابر اعظم دونوں مزاجاً ایسے پلئیرز ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی میچ میں ان کی پارٹنرشپ نفع سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

اننگز کو لمبا لے کر چلنا ہو تو بلاشبہ یہ بہترین انتخاب ٹھہریں گے مگر 61 گیندوں پہ 70 رنز کی اس پارٹنرشپ کے بعد تھنک ٹینک کو یہ سوچنا ہو گا کہ ایسے دو پلئیرز کا بیک وقت کریز پہ ہونا کس قدر سودمند ہو سکتا ہے۔

جس وکٹ پہ پاکستان بآسانی 170 رنز کر سکتا تھا، وہاں 150 بھی دشوار ٹھہرا۔

اگر تعاقب آسٹریلیا ایسی اجنبی ٹیم کو نہ کرنا ہوتا تو یہ ہدف چنداں قابل ذکر نہیں تھا۔ سپن سے نامانوس بیٹنگ لائن کے لئے بہرحال یہ جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ تس پہ طرہ یہ کہ عماد وسیم پاور پلے کے سارے ارمان ڈبو دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلین میکسویل نے 37 گیندوں پر 52 رنز بنائے

ابوظہبی میں شکست کے بعد فنچ نے کہا تھا کہ ان کی بیٹنگ پرفارمنس کار کریش کے جیسی رہی۔ کل شب ان کا تمام تر فوکس اس پہ تھا کہ ایک اور کار کریش سے کیسے بچنا ہے۔ اسی لیے پاور پلے میں عماد وسیم کو غیر معمولی احتیاط سے کھیلنا پڑا۔

اور جب تک عماد وسیم کا سپیل ٹلا، سکور بورڈ اتنا پیچھے رہ گیا تھا کہ فنچ کو وقت سے آگے دوڑنا پڑا اور شاداب کو سیریز کی پہلی وکٹ حاصل ہوئی۔

گلین میکس ویل نہایت خوش قسمت رہے کہ اول تو وہ اس بولنگ اٹیک کے سامنے اتنی گیندیں کھیل گئے، ثانیاً پاکستان نے انہیں ایک نہیں، دو نہیں، تین چانسز دے دیے۔ مگر اس قدر خوش بختی کے باوجود وہ اتنا نہ کر پائے کہ اتوار کے میچ تک سیریز کو زندہ رکھ پاتے۔ شاید ان کا کوئی قصور نہیں، ان کا پالا ہی پاکستانی بولنگ سے پڑ گیا۔

سرفراز کی مسلسل دسویں سیریز جیت مبارک باد کی متقاضی ہے۔ ان کی بدقسمتی صرف یہ ہے کہ پچھلے دو سال میں کوئی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں آیا۔ ورنہ یقینا ایک اور آئی سی سی ٹرافی ان کی الماری کی زینت بنتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں