انیتا کریم: ’پوری دنیا میں لڑکیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، یہ کھیل لڑکیوں کو اپنا دفاع کرنا سکھاتا ہے‘

انیتا کریم

’سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں برازیلی جو جٹسو کا ٹورنامنٹ ہوا تھا۔ ادھر میں نے ایک لڑکی کا ہاتھ توڑ دیا اور ایک اور لڑکی کا فریکچر ہوگیا۔ اس کے بعد میرے بھائی نے مجھے ’آرم کلیکٹر‘ کہنا شروع کر دیا۔ وہ میری زندگی کا سب سے یادگار دن تھا۔‘

یہ ہیں انیتا کریم، پاکستان کی پہلی خاتون ایم ایم اے فائٹر۔ ان سے میری ملاقات اسلام آباد میں واقع ایک ایم ایم اے جمنیزیم میں ہوئی، جہاں داخل ہوتے ہی ہر طرف لڑکے لڑکیاں لڑتے، مشق کرتے اور پسینہ بہاتے نظر آتے ہیں۔

ایم ایم اے کو نورا کشتی نہ سمجھیے گا! اس سے مراد مکسڈ مارشل آرٹس ہے اور اس کا شمار دنیا کے سب سے سخت کھیلوں میں ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت یہ دنیا میں کُشتی کی سب سے مقبول قسم ہے۔

لیکن پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی ایم ایم اے فائٹر کیسے بنیں؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انیتا کریم: ’آرم کلکٹر‘ کے نام سے مشہور ایم ایم اے فائٹر

’ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور ان کو گھر سے باہر بھی نکلنے نہیں دیا جاتا۔ اس لیے لڑکیوں کے لیے سب سے اہم بات ان کے والدین کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اگر ان کی فیملی ان کے ساتھ ہو تو لڑکیاں ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو لڑکے کر سکتے ہیں۔ مجھے بھی میرے والدین اور میرے بھائیوں کی مدد ملی ہے اس لیے میں آج یہاں تک پہنچی ہوں۔‘

’ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی لڑکی پیدا ہوتی ہے، والدین یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اس نے کیا بننا ہے، وہ یہ کبھی نہیں پوچھتے کہ یہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہے۔‘

’ہمارے معاشرے میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیوں کو ان کے والدین سپورٹ کریں، اور اسی طرح ان کی خواہشات دم توڑ دیتی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ سپورٹ میرے والدین اور میرے بھائیوں سے ملا ہے۔ میں اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھتی ہوں کہ میں جو کرنا چاہتی تھی وہ میں کر رہی ہوں۔‘

’میرے بھائیوں نے بچپن سے ہی میری سخت تربیت کی ہے۔ لڑکے جس طرح سے ٹریننگ کرتے ہیں ویسی ہی میری بھی تربیت ہوئی ہے۔ انھوں نے ہمیشہ کہا کہ تم لڑکوں کے ساتھ لڑ کر دیکھو کہ کتنی طاقت ہے تم میں اور تم کیا کر سکتی ہو اور کہاں تک جا سکتی ہو۔‘

’ایم ایم اے میں آنے سے پہلے ہمیں ذہنی طور پر تیار ہونا پڑتا ہے، خاص طور پر لڑکیوں کو، کیونکہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے جس میں چوٹ بھی لگ سکتی ہے۔ اکثر لڑکیاں اسی لیے آنے کے بعد بہت جلد یہ کھیل چھوڑ دیتی ہے۔‘

’تربیت کے دوران میرے بھائی ہی میرے کوچ ہوتے ہیں اور وہ مجھ سے باقی کھلاڑیوں کی طرح ہی پیش آتے ہیں۔ میں جن کے ساتھ تربیت کرتی ہوں، وہ تھوڑا لحاظ کرتے ہیں کہ یہ لڑکی ہے، یہ ہماری بہن ہے، کیسے ماریں گے؟ تو باہر سے بڑے بھائی کی آواز آتی ہے کہ مارو اسے اور اسے لڑکی کی طرح نہ دیکھو۔‘

’شروع شروع میں لوگ بہت باتیں کرتے تھے، اگر میں ان کی باتیں سنتی تو آج میں ادھر نہ ہوتی۔ اگر آپ زندگی میں کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر ہمیشہ ڈٹے رہیں اور پیچھے نہ ہٹیں۔ اپنے آپ کو ثابت کر کے دکھائیں۔‘

’مستقبل میں ایک کامیاب فائٹر بننا چاہوں گی۔ یو ایف سی ( UFC) جو دنیا میں ایم ایم اے کا سب سے بڑا ایونٹ ہے، اس میں مجھے جانے کا بڑا شوق ہے۔ ایم ایم اے آپ کو فائٹر بناتا ہے۔ یہ آپ کو اپنی حفاظت کرنا سکھاتا ہے اور خاص طور پر لڑکیوں کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ وہ کہیں بھی جائیں اپنا دفاع کر سکتی ہے۔‘

’صرف پاکستان میں ہی نہیں، پوری دنیا میں لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات ہوتے ہیں اور لڑکیاں کچھ نہیں کر سکتیں۔ ہم ہمیشہ تعلیم کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جبکہ باقی چیزیں رہ جاتی ہے۔ اس لیے یہ کھیل ایک واحد چیز ہے جو آپ کو اپنا ذاتی دفاع کرنا سکھاتا ہے۔ اگر کوئی بدتمیزی کرتا ہے تو کم از کم اپنا جواب خود تو دے سکتے ہیں۔‘

’سنگاپور میں میری پہلی فائٹ ہوئی جو میں ہار گئی، کیونکہ میرا اتنا تجربہ نہیں تھا اور میں پہلی دفعہ کیج کے اندر لڑی تھی۔ میں ان کے سامنے کھڑی ہوئی اور کوشش کی لیکن بد قسمتی سے ہار گئی۔ انشاللہ فروری میں دوبارہ جاؤں گی تو جیت کر آؤں گی اور پاکستان کو جیت کر دکھاؤں گی۔‘

’میں نے اپنے پہلے میچ سے بہت کچھ سیکھا۔ ہارنے کے بعد مجھے ایسا لگا کہ مجھ میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے ٹریننگ کے دوران یا میں نے کچھ ایسی چیزیں نہیں سیکھیں، تو اگلی بار سیکھ کر آنا ہوں گی۔ اب میری کوشش ہے کہ اگلے میچ کے دوران کوئی ایسی گنجائش نہ رہے کہ دوبارہ ایسی مشکلات کا سامنا ہو۔‘

’میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو اس کھیل کی طرف راغب کروں کیونکہ لڑکیوں کے لیے اپنا ذاتی دفاع بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس کھیل کے ذریعے وہ اپنا دفاع بخوبی کر سکتی ہے۔ ‘

اسی بارے میں