’آسٹریلیا شاداب کا جواب نہ دے پایا‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایشیائی ٹیمیں جب آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ کے دورے پہ جاتی ہیں تو سب سے بڑا چیلنج بن بلایا باؤنس ہوتا ہے، ہر شارٹ پچ ڈلیوری باؤنسر نظر آتی ہے اور ہر فل لینتھ گیند یارکر دکھائی دیتی ہے۔

ٹور کے تیسرے یا چوتھے میچ تک جا کر سمجھ تو آ جاتی ہے کہ کریز کا کیسے استعمال کرنا ہے اور بلا کب گھمانا ہے۔ مگر تب تک سیریز کا بیلنس اس حد تک میزبان کے پلڑے میں جھک چکا ہوتا ہے کہ نفسیاتی دباؤ ہی ڈبو دینے کو کافی ہوتا ہے۔

اسی طرح جب آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ اپنی مانوس کنڈیشنز چھوڑ کر ایشیائی ملکوں کے دورے پہ آتی ہیں تو سب سے بڑی الجھن سپن ہوتی ہے۔ اور یو اے ای کی سپن کا تو سپن میں بھی وہ درجہ ہے کہ بقول سلمان بٹ گیند صبح بولنگ اینڈ سے روانہ ہوتی ہے اور کہیں شام کو کریز تک پہنچتی ہے۔

پہلے ٹی 20 میں آسٹریلین بولنگ نے اپنے حصے کا بوجھ سمیٹا مگر بیٹنگ عماد وسیم کے سامنے چکرا گئی۔ سپن کی تیاری کر کے آئے تھے مگر یہاں لیفٹ آرم سلو بولر کی سوئنگ سے پالا پڑ گیا یا بلا پہلے چل جاتا تھا یا گیند ذرا رک جاتی اور اسی الجھن میں دس وکٹیں گر گئیں۔

یہ بھی پڑھیں!

دبئی: ٹی 20 سیریز میں آسٹریلیا کو کلین سویپ

ٹرافی سوہنی ہے یا کوجی، سانوں کی!

’اس ٹرافی کی کیا تُک تھی؟‘

سرفراز احمد کی بدقسمتی

دوسرے میچ میں وکٹ دبئی کی تھی، سو امکان تھا کہ قدرے کم سپن ہو گی اور آسٹریلوی بیٹنگ لاپرواہی نہیں کرے گی۔ ایسا ہی ہوا۔ لاپرواہی واقعی نہیں ہوئی کیونکہ احتیاط ہی اس قدر حاوی ہو گئی کہ پاور پلے میں فنچ کی قسمت طے ہو گئی۔

تیسرے میچ میں بہتری یہ نظر آئی کہ عماد وسیم کو کھیلنے کا طریقہ ڈھونڈ ہی لیا گیا اور یہ بھی کچھ سمجھ آ ہی گئی کہ بیٹنگ لائن کو کس ترتیب سے مربوط کیا جا سکتا ہے مگر ایسے تحیر آمیز رن آوٹ کسی ربط کو کیا سنبھالیں گے بھلا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میک ڈرمٹ جس سوجھ بوجھ سے بیٹنگ کر رہے تھے، آسٹریلوی ڈریسنگ روم پہ خاصا اطمینان برس رہا تھا۔ شورٹ اننگز کے نچلے حصے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ مطلوبہ رن ریٹ کہیں پیچھے رہ گیا تھا اور آسٹریلین مڈل آرڈر میچ کو لے کر بھاگ نکلنے کی پوزیشن میں تھا۔

مگر نامانوس کنڈیشنز کے لیے کتنی ہی اچھی تیاری کیوں نہ کر لی جائے، ایک آدھ سوال تشنۂ جواب رہ ہی جاتا ہے۔ جس دن عماد وسیم سے بھی نمٹ لیا گیا، حسن علی کو بھی خاطر میں نہ لایا گیا، وہاں شاداب خان کی شکل میں اتنا بڑا سوالیہ نشان اٹھا کہ آسٹریلین اننگز گھر کا رستہ بھول گئی۔

پاکستان کے لیے اس سیریز کے سبھی محاصل مثبت ہیں۔ ہوم سیزن کے آغاز پہ پہلی سیریز میں ایسی جاندار پرفارمنس بہت امید افزا ہے جہاں بالخصوص پچھلے سال کے برعکس اس بار پاکستان کا مقابلہ زیادہ بہتر اور متوازن ٹیموں سے رہے گا۔

اعدادوشمار پہ نگاہ ڈالیے تو سبھی حوصلہ افزا ہیں۔ دو سال میں چار بار سیریز کلین سویپ کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اسی طرح سے متواتر دس وکٹیں لیے جانا بھی اس بولنگ اٹیک اور فیلڈنگ یونٹ کی قابلیت اور محنت کی دلیل ہے۔

اس کلین سویپ کامیابی کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو بدھ کو ہوگا جب نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے ٹور کے افتتاحی میچ میں اس کے مقابل ہو گی۔ بہرطور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا توازن اس آسٹریلین ٹیم سے کہیں بہتر ہے۔

سو اگر انھی میدانوں میں کچھ روز بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم قدرے بہتر کرکٹ کھیلتی ہے تو پاکستان کی بولنگ اور بیٹنگ اسی اعتماد کا استعمال کرتے ہوئے نمبر ون ہونے کا ثبوت دے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں