ٹی 20 کرکٹ: ولیمسن مسکرا کیوں رہے تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابو ظہبی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو دو رنز سے شکست دے کر ٹی ٹوئنٹی میچوں میں مسلسل 11 میچ جیت لیے

گمان یہ تھا کہ منرو جیسے خطرناک بلے باز کے سامنے سرفراز احمد عماد وسیم کی بجائے محمد حفیظ سے اٹیک کروائیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ سرفراز نے اپنے آزمودہ فارمولے سے ہی اٹیک شروع کیا۔ اور منرو کھیل کھیلے۔

بہر طور ایک صبر آزما انتظار تو تمام ہوا۔ یو اے ای میں پاکستان کے خلاف کسی ٹیم کو مقابلہ کرتے تو پایا گیا۔ ورنہ ان وکٹوں پہ اس بولنگ اٹیک کے سامنے بڑی بڑی بیٹنگ لائنز پاور پلے میں ہی تتر بتر ہو جایا کرتی ہیں اور میچ بالکل بے جوڑ سا ہو کے رہ جاتا ہے۔

ولیمسن بخوبی آگاہ تھے کہ سرفراز کی ٹیم ان کے لیے آسان حریف ثابت نہیں ہو گی۔ میچ سے پہلے بھی وہ یہی کہتے پائے گئے اور میچ کے دوران ان کی حکمت عملی سے بھی یہی جھلکتا رہا۔

سرفراز کے ساتھ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ اس فارمیٹ میں ٹاس پہ ان کے فیصلے نے ان کی ٹیم کو ایسی دقت میں ڈالا ہو۔ مگر کل جب ٹاس جیت کر انہوں نے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اوپنرز اتنی جلدی گر گئے کہ ایک بار تو ہول ہی اٹھنے لگے۔

مگر جلد ہی محمد حفیظ نے صورت حال کو کچھ ایسا سنبھالا کہ تمام تر کوتاہیوں کے باوجود مڈل اوورز میں پاکستان کا تسلسل ٹوٹنے نہ پایا۔ ان کے بعد سرفراز نے بھی بقدرِ جثہ اپنا حصہ خوب ڈالا۔

پی ایس ایل کی دین ہے کہ لوئر آرڈر میں صرف اچھے بولر ہی نہیں، باقاعدہ ایسے آل راونڈرز موجود ہیں جو ڈیتھ اوورز میں لمبی ہٹنگ کر سکتے ہیں۔ فہیم اشرف اور عماد وسیم کی وہ شاٹس ہی پاکستان کو اس قابل کر سکیں کہ کوئی تسلی بخش مجموعہ سکور بورڈ پہ نظر آیا۔

اگرچہ یہ سکور جیت کے لیے کم ہی تھا اور کیوی اننگز کے دوران کئی بار کم پڑتا دکھائی بھی دیا۔ خود محمد حفیظ نے بھی اعتراف کیا کہ متوقع ٹوٹل سے ان کی ٹیم کوئی پندرہ رنز پیچھے رہ گئی۔ مگر پھر بھی یہ سکور پاکستان کے بولنگ اٹیک کے لئے کافی تھا۔

یوں تو عماد وسیم ٹی ٹونٹی میں اٹیک کے لیے بہترین بولر ہیں مگر ابھی تک ان کی اصل قوت دائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے سامنے ہی جھلکتی دکھائی دی ہے۔ بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے سامنے ان کی اتنی نہیں چلتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب تک محمد حفیظ کو اٹیک میں لایا گیا، تب تک منرو میچ پہ اپنی گرفت مضبوط کر چکے تھے

تبھی یہ ہوا کہ کولن منرو کو کریز پہ جمنے کا اچھا موقع ہاتھ آ گیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ کریز پہ ٹک گئے بلکہ انہوں نے جی بھر کے گراونڈ کے اطراف میں سٹروک کھیلے۔ پچھلے دو سال کے ٹی ٹونٹی دور میں غالباً یہاں پہلی بار پاور پلے اس طرح سے پاکستان کے خلاف گیا کہ آخری گیند تک کوئی وکٹ بھی ہاتھ نہ آئی اور سکور بھی اتنا زیادہ ہو گیا۔

جب تک محمد حفیظ کو اٹیک میں لایا گیا، تب تک منرو میچ پہ اپنی گرفت مضبوط کر چکے تھے۔ اور جس تیزی سے ٹی ٹونٹی میں پانسے پلٹتے ہیں، وہاں منرو جیسے بیٹسمین کا اگر بلا چل جائے تو تمام پلان دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

وہ تو بھلا ہو منرو کا کہ موصوف خود ہی ڈاٹ بالز کے پریشر میں ایسے پھنسے کہ کچھ سوجھ ہی نہ پایا اور اپنی جلد بازی کے ہاتھوں شاداب کے بہترین پلان کا شکار ہو گئے۔

مگر اب تک یہاں جتنی بھی ٹیموں سے پاکستان کا پالا پڑا ہے، نیوزی لینڈ ان سب سے مشکل ٹیم ثابت ہو گی۔ کیونکہ روس ٹیلر اور کین ولیمسن کی شکل میں سپن کے ایسے گرو موجود ہیں جن کا اس اٹیک کو کم کم ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ منرو کے جانے کے بعد بھی کیوی اننگز پہ کوئی اضطراب طاری نہیں ہوا کیونکہ ولیمسن کریز پر موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ فتح اتنے قلیل مارجن سے تھی کہ ولیمسن بھی پوسٹ میچ تقریب میں پریشان نہیں، بس ذرا سا مسکراتے نظر آئے

پاور پلے کے برعکس یہاں سرفراز کی سٹریٹیجی بالکل بروقت اور تیر بہدف رہی کہ جونہی ولیمسن آئے، عماد وسیم کا آخری اوور کروا دیا۔ کیونکہ اس اٹیک میں عماد وسیم ہی وہ واحد بولر تھے جو ولیمسن کو یوں حواس باختہ کر سکتے تھے کہ موصوف اپنی ذہنی ہاں ناں کی تکرار میں ہی ایک سیدھا سا کیچ دے کر پویلین لوٹ جاتے۔

سرفراز کے لیے ایک اور سیریز کی فتح اب صرف ایک میچ کی دوری پہ ہے۔ مگر جس سنسنی خیز انداز میں یہ میچ آخری گیند تک گیا اور جیسا مقابلہ کیویز نے کیا، امکان ہے کہ اس بار یہ ہدف سرفراز کے لیے قدرے مشکل ہو گا۔ کیونکہ یہ فتح اتنے قلیل مارجن سے تھی کہ ولیمسن بھی پوسٹ میچ تقریب میں پریشان نہیں، بس ذرا سا مسکراتے نظر آئے۔

متعلقہ عنوانات