اظہر علی ون ڈے گیم پلان کا حصہ نہیں

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اظہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اظہرعلی کے لیے ون ڈے کی قیادت کا پہلا ہی تجربہ خاصا تلخ رہا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین اظہر علی نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعرات کو جب سوشل میڈیا پر یہ خبر آئی کہ اظہر علی ایک پریس کانفرنس میں کوئی بڑا اعلان کرنے والے ہیں تو یہ بات تقریباً واضح ہوچکی تھی کہ یہ اعلان ون ڈے انٹرنیشنل کو خیرباد کہنے سے متعلق ہوگا۔

اظہر علی اس سال نیوزی لینڈ کے دورے کے بعد وہ ون ڈے ٹیم میں جگہ کھو چکے تھے جس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ آئندہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھ کر ہیڈ کوچ مکی آرتھر جو منصوبہ بندی کر رہے ہیں اظہرعلی اس گیم پلان کا حصہ نہیں ہیں۔

اظہر علی پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں کیا مقام رکھتے ہیں اس بارے میں کسی کو بھی کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے۔ وہ اس وقت بھی پاکستانی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے جب یونس خان اور مصباح الحق جیسے ستون پاکستانی بیٹنگ لائن کو اٹھائے ہوئے تھے اور جب یہ دونوں کرکٹ کے میدان سے رخصت ہوئے تو اس کے بعد بھی اظہر علی اور اسد شفیق پہلے کی طرح اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں لیکن یہ دونوں بیٹسیمن محدود اوورز کی کرکٹ کے آئیڈیل بیٹسمین نہیں رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

چیمپئنز ٹرافی میں تین اچھی اننگز جبکہ فائنل میں انڈیا کے خلاف ان کی نصف سنچری قابل ذکر رہی تھی

اظہر علی کے ون ڈے کریئر کو دو حصوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ سنہ 2011 سے لے کر سنہ 2013 تک کے عرصے پر محیط ہے جس میں انھوں نے مصباح الحق کی قیادت میں اپنی ون ڈے کرکٹ کھیلی لیکن 14 میچوں میں وہ صرف چار نصف سنچریاں بنانے میں ہی کامیاب ہوسکے جس کے بعد وہ ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہوئے۔

سنہ 2015 کے عالمی کپ کے بعد جب مصباح الحق نے محدود اوورز کی کرکٹ کو خیرباد کہا تو نئے کپتان کی تلاش میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے دور کی سوچنے کے بجائے ٹیسٹ ٹیم میں موجود اظہر علی کو دو سال بعد کپتان کی حیثیت سے ون ڈے ٹیم میں واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں!

اظہر علی کو ون ڈے ٹیم کا کپتان بنائے جانے کا یہ فیصلہ اس لیے بھی حیران کن تھا کہ پاکستانی ون ڈے ٹیم ایک مخصوص انداز میں کھیلتی ہوئی آرہی تھی جسے بدلنے کے لیے کوئی نیا تجربہ کرنے کے بجائے ایک ایسے بیٹسمین کو قیادت سونپ دی گئی تھی جو خود ون ڈے کرکٹ کے تیز تر تقاضوں سے دور تھا اور دو سال سے اس نے محدود اوورز کی کرکٹ ہی نہیں کھیلی تھی۔

اظہر علی کے لیے ون ڈے کی قیادت کا پہلا ہی تجربہ خاصہ تلخ رہا کیونکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش میں کھیلے گئے تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

اظہر علی کی قیادت میں نتائج ملے جلے رہے۔ پاکستانی ٹیم ان کی قیادت میں دس میں سے صرف چار سیریز جیتنے میں کامیاب ہوسکی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ ون ڈے کی رینکنگ میں نویں نمبر پر جاگری اور اظہر علی بحیثیت بیٹسمین بھی اس انداز کی کرکٹ سے بہت دور دکھائی دے رہے تھے جو عصرحاضر کے اوپنرز کھیل رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اظہرعلی اس سال گھٹنے کی تکلیف کے سبب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بڑے سکور کے لیے تگ ودو کررہے ہیں

کپتانی اظہر علی سے سرفراز احمد کو منتقل کیے جانے کے بعد اظہر علی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ون ڈے میں اپنی جگہ برقرار رکھنا تھا۔ انھوں نے عصر حاضر کے تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی بیٹنگ کے انداز کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور چیمپئنز ٹرافی میں تین اچھی اننگز کھیلیں جن میں فائنل میں انڈیا کے خلاف ان کی نصف سنچری قابل ذکر تھی لیکن نیوزی لینڈ کے دورے نے ان کے ون ڈے مستقبل کا تعین کردیا جس میں وہ تین اننگز میں ڈبل فگرز میں آئے بغیر آؤٹ ہوئے تھے۔

اظہر علی اس سال گھٹنے کی تکلیف کے سبب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بڑے سکور کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں لیکن یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ایک بڑی اننگز کے ذریعے وہ ایک بار پھر رنز بنانے کی معمول کی دوڑ میں لگ جائیں گے لیکن جہاں تک ون ڈے کا تعلق ہے تو وہ یہ دیکھ چکے کہ فخر زمان، امام الحق اور بابراعظم کی موجودگی میں ان کے لیے ون ڈے ٹیم میں واپسی ممکن نہیں ہے۔

ویسے بھی محدود اوورز کی کرکٹ شور مچاتے سمندر کی طرح ہے، یہ سکون سے بہتا دریا نہیں ہے۔