سرفراز اور ولیمسن کی غلطیاں

t20 تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ولیمسن یہ میچ جیت سکتے تھے۔ خوش بختی ان کی یہ بھی رہی کہ وہ ٹاس جیت گئے۔ مثبت پہلو ان کے لیے یہ بھی تھا کہ مقابلہ ابوظہبی کی سی نیم جان وکٹ پہ نہیں بلکہ دوبئی کی قدرے بہتر وکٹ پہ تھا۔ مگر یہ میچ ولیمسن کو پاکستان سے نہیں، اپنے آپ سے جیتنا تھا۔

بجا فرمایا انہوں نے پوسٹ میچ تقریب میں کہ ٹی ٹونٹی چھوٹے چھوٹے مارجنز کی گیم ہوتی ہے۔ بالکل ایسا ہی ہے۔ بسا اوقات ایک اچھا اوور، ایک اچھا تھرو یا ایک بروقت شاٹ ہی تین گھنٹے کی محنت اور پلاننگ پہ بھاری پڑ جاتے ہیں۔

کپتانی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سرفراز نے بھی کم و بیش ویسی ہی غلطیاں کی جو بعد ازاں ولیمسن کرتے پائے گئے۔ فرق صرف یہ رہا کہ سرفراز نے اننگز کے بیچ اپنی غلطیاں سدھار لیں، ولیمسن بس ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے رہ گئے۔

مزید پڑھیے

پاکستان کی مسلسل 11ویں ٹی 20 سیریز میں فتح

پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں ساتویں مسلسل جیت

اس میں دو رائے نہیں کہ ٹی ٹونٹی میں سپنر سے اٹیک کا آغاز کرنا نہایت مثبت اپروچ ہے۔ اور اگر سپنر بھی لیفٹ آرم ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ مگر جب کریز پہ سامنا کرنے والا بلے باز بھی بائیں ہاتھ کا ہو تو سٹریٹیجی کو ذرا رک کر سانس لینا چاہئے اور خود پہ نظرِ ثانی بھی کرنا چاہئے۔

پچھلے میچ میں منرو نے جس طرح عماد وسیم کی بولنگ کا تیا پانچہ کیا تھا، امید تھی کہ اس بار سرفراز کم از کم منرو کے سامنے عماد وسیم سے اٹیک نہیں کروایں گے۔ اس امید میں کوئی دلی خواہش نہیں، کچھ تزویراتی وجوہ پنہاں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سرفراز کے پاس ٹی ٹونٹی ٹیم میں دنیا کا بہترین اور متنوع ترین بولنگ اٹیک موجود ہے۔ ایک لیفٹ آرم سپنر، ایک بہترین لیگ سپنر، دو پارٹ ٹائم آف سپنر، دو رائٹ آرم پیسر اور ایک لیفٹ آرم پیسر کے ہوتے ہوئے بھی ایسی کیا پڑی تھی کہ ابوظہبی کے تلخ تجربے کے باوجود ایک بار پھر منرو کے سامنے لیفٹ آرم سلو بولر کا انتخاب ہی کرنا پڑا۔

بلاشبہ سرفراز کی ریکارڈ ٹی ٹونٹی فتوحات میں عماد وسیم کا کلیدی کردار رہا ہے مگر کرکٹ کی مسلمہ دانش یہ واضح کرتی ہے کہ اگر کسی بائیں ہاتھ کے بلے باز کو کریز میں مسدود کرنا ہو تو پہلا آپشن آف سپنر ہوتا ہے۔

اگر آف سپنر سے بھی بات نہ بن پڑے یا اس پہ اعتماد کی کمی ہو تو دوسرا آپشن لیفٹ آرم سیمر ہوتا ہے۔ اور اگر اس پہ بھی نظر نہ ٹھہرے تو رائٹ آرم سپنر یا رائٹ آرم پیسر بھی برے آپشنز نہیں ہیں۔

چلئے سرفراز کو تو تب یہ خیال آیا ہی ہو گا جب میچ کی پہلی گیند پہ منرو نے عماد وسیم کو چھکا جڑ دیا۔ مگر ولیمسن، جو کہ تجربے میں سرفراز سے خاصے آگے ہیں، تب بھی نہ سمجھ پائے اور فخر زمان کے سامنے گیند اعجاز پٹیل کو تھما دی۔

سرفراز نے تو اپنی غلطی کا کفارہ یوں کر ڈالا کہ پچھلے میچ ہی کی طرح مڈل اوورز میں عماد وسیم کو واپس لائے اور رائٹ ہینڈرز کے سامنے بند بھی باندھے رکھا اور وکٹ بھی نکال لی۔ مگر ولیمسن اتنا بھی نہ کر پائے۔

جہاں ریگولر بولرز کے دو دو اوورز باقی پڑے تھے، وہاں تواتر سے منرو اوور پھینکتے رہے۔ گو کہ بڑی شاٹس سے بچنے کے لئے یہ ترکیب خوب تھی کہ سست وکٹ پہ گیند کی رفتار سست تر کر دی جائے مگر ایسی تراکیب ایک دو اوورز سے زیادہ چل نہیں پاتیں۔

سرفراز کی جیت یہ رہی کہ بھیانک پاور پلے کے بعد جس ذہانت سے انہوں نے اپنے بولروں کو استعمال کیا، اس میں بھلے حسن علی کو مار پڑ گئی مگر کیویز کو شاہین آفریدی کی پرفیکٹ بولنگ کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے اننگز کا رستہ بھولنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مگر پھر بھی اس وکٹ پہ 154 کا ہدف آسان ہرگز نہیں تھا۔ ولیمسن یہ میچ جیت سکتے تھے اگر اپنے بولرز کو ذرا بہتر طور سے استعمال کر لیتے۔ یہاں سارا کریڈٹ ہے پاکستان کی ڈیتھ بولنگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ کا کہ دونوں اننگز کے اختتامی لمحات میں میچ کا پلڑا پاکستان کے حق میں جھکائے رکھا۔

سرفراز کو مسلسل گیارہویں سیریز کی جیت مبارک ہو۔ ولیمسن کو ابھی کچھ دن اور خود سے لڑنا ہو گا، شاید کوئی سرا ان کے ہاتھ بھی لگ ہی جائے گا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں