بیٹسمین سرفراز، کپتان سرفراز سے ہار گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سرفراز احمد جس وقت کریز پر آئے، ان کی ٹیم شدید مشکل میں گھری تھی۔ رنز کا قحط پڑ چکا تھا۔ کیوی پیسرز بہترین لائن اور لینتھ پہ گیند پھینک رہے تھے۔ کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا کہ پاکستان بآسانی اس گرداب سے نکل پائے۔

عموما ایسے مواقع پہ بیٹسمین جذبات میں آ کر گڑبڑا جاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ رہی سہی آس بھی ڈوب جاتی ہے۔ سرفراز احمد کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بطور کپتان ایسا دباؤ بہت جلد ان پہ حاوی ہو جاتا ہے۔

مگر خلافِ توقع سرفراز نے پریشان ہونے کی بجائے کریز پہ جمنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاٹ بالز کی تعداد بڑھتی گئی۔ سکوربورڈ کا پریشر بھی چڑھتا گیا۔ مگر سرفراز نے کوئی جلد بازی نہیں کی۔

دھیرے دھیرے عماد وسیم کے ساتھ شراکت میں ایک پارٹنرشپ جمنے لگی۔ گو کہ مطلوبہ رن ریٹ بڑھ رہا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ سرفراز کا بلا بھی کھل رہا تھا۔ رنز آنا شروع ہو چکے تھے۔ امید پھر روشن ہونے لگی تھی کہ پاکستان کی ون ڈے فارم پلٹنے کو ہے۔

اسی دوران اش سوڈھی کا اوور آیا اور عماد وسیم نے کریز سے نکل کر ایک جرات مندانہ شاٹ جڑ دیا۔ خوبئ قسمت کہ چھکے کے ساتھ ہی فری ہٹ بھی مل گئی۔ فری ہٹ پہ عماد نے ایک اور چھکا جڑ دیا۔ جہاں مطلوبہ رن ریٹ کا دباؤ سر پہ سوار ہونے کو تھا، وہیں دو گیندوں پہ تیرہ رنز مل گئے۔

ولیمسن کے چہرے پہ پہلی بار پریشانی کی جھلک دکھائی دی۔ اور یکبارگی پاکستان میچ میں واپس آتا نظر آیا۔ نان سٹرائیکر اینڈ پہ سرفراز مسکراتے ہوئے عماد وسیم کو داد دے رہے تھے۔

اگر پاکستان وہاں سے میچ جیت جاتا تو سارا کریڈٹ سرفراز کو ہی جاتا کہ اننگز کے شروع میں ٹرینٹ بولٹ کی ہیٹ ٹرک اور مڈل آرڈر کی ناکامی کے بعد بھی اگر پاکستان اٹھ کھڑا ہوتا تو ایشیا کپ کی مایوسیوں کے سارے دھبے دھل جاتے اور پاکستان کی ون ڈے ٹیم میں نیا عزم جاگ اٹھتا۔

لیکن نجانے کیوں ایسے مواقع پہ قسمت ہاتھ دکھا جاتی ہے۔

کولن ڈی گرانڈہوم کی اس گیند میں کوئی ایسی خوبی نہیں تھی کہ وہ اتنی بڑی وکٹ کی مستحق ٹھہرتی۔ یہ سادہ سی فل لینتھ ڈلیوری تھی جسے بآسانی ڈرائیو کیا جا سکتا تھا اور جس رفتار سے یہ گیند بلے تک پہنچی، ایسا سوچھا سمجھا سٹروک رسید کیا جا سکتا تھا کہ چار رنز مل جاتے۔

لیکن سرفراز ذرا سا چُوک گئے۔

مگر یہ اس میچ میں سرفراز کی پہلی چُوک نہیں تھی۔ اننگز کے آغاز میں جس آسانی سے انہوں نے دونوں اوپنرز کو قابو کیا، وہ ان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعد بھلے روس ٹیلر اور لیتھم کی لمبی پارٹنرشپ لگ گئی مگر شاداب خان کی ایک اوور میں تین وکٹوں کے بعد کیویز کا ڈھائی سو سے زیادہ رنز کر جانا سرفراز کی پہلی چُوک تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب لیتھم اور ٹیلر آخری پاور پلے میں داخل ہوئے تو امکان تھا کہ نیوزی لینڈ 280 کے لگ بھگ ٹوٹل کر جائے گا۔ مگر جب سپنرز نے سات گیندوں پہ چار وکٹیں لے کر کیویز کے لوئر آرڈر کو ایکسپوز کر دیا، تب 250 کا ہدف بھی کارِ دشوار دکھائی دیتا تھا۔

میچ کے بعد سرفراز رمیز راجہ سے یہ کہہ رہے تھے کہ وہ آخری اوورز میں بالکل ڈھیلے نہیں پڑے اور اسی لئے پیسرز کو اٹیک میں واپس لائے کہ جلد سے جلد وکٹیں لی جائیں۔

مگر غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں سپنرز نے سات گیندوں پہ چار مستند بلے بازوں کی وکٹیں لے لی تھیں، وہاں ٹیل اینڈرز کے لئے پیسرز کو واپس لانا کون سی مجبوری تھی؟ جب مستند بلے باز ہی سپن کو سمجھ نہیں پا رہے تھے تب ساؤدی اور سوڈھی کیسے سپن کو کھیل پاتے؟

اور ایسا بھی نہیں تھا کہ سپنرز کے کوٹے میں اوورز ختم ہو گئے ہوں۔ سپن کے چھ اوورز باقی تھے اور اس کے باوجود آخری پانچ اوورز پیسرز سے کروا دئیے گئے۔ حالانکہ جس طرح کی فرسٹریشن کیوی ٹیل پہ طاری تھی، بعید نہیں تھا کہ سپنرز پچاس اوورز سے پہلے ہی کیوی اننگز کی بساط لپیٹ دیتے۔

گرانڈہوم کی وہ ڈلیوری جسے سرفراز سویپ کرنا چاہ رہے تھے، وہ ان کے بلے سے دور دور ہی رہی اور گلوز کو چھو کر سٹمپس سے ٹکرا گئی۔ یہ بلے باز سرفراز کی بدقسمتی تھی کہ ایسی بھرپور اننگز کھیل کر بھی وہ اپنی ٹیم کو جیت تک نہ پہنچا سکا۔

مگر شاید یہ بلے باز سرفراز کی نہیں، کپتان سرفراز کی بدقسمتی تھی جس نے پہلی اننگز میں جیت کے بالکل قریب آ کر پھر اسے دور جانے کا ایسا آسان موقع دے دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں