پی ایس ایل بمقابلہ آئی پی ایل لیکن کیا واقعی مقابلہ ہو سکتا ہے؟

ڈویلیرز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈویلیرز کو آئی پی ایل کی ٹیم رائل چیلینجرز بنگلورز نے 1.4 ملین ڈالر کی بولی لگائی جبکہ یہی کھلاڑی لاہور قلندر نے دو لاکھ بیس ہزار ڈالر میں اپنے نام کیا۔

پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے لیے ڈرافٹنگ کے مرحلے کے اختتام کے بعد لاہور قلندرز نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتانوں محمد حفیظ اور اے بی ڈویلیئرز کو چنا ہے۔ جبکہ چھٹی ٹیم نے، جو پچھلے ایڈیشن میں ملتان سلطان کے نام سے ٹورنامنٹ میں شامل تھی، شاہد آفریدی، سٹیون سمتھ اور شعیب ملک کو اپنے کیمپ میں شامل کیا ہے۔

ملتان سلطان کے بےنام ہونے کے علاوہ اس ڈرافٹ میں بڑی دلچسپی جنوبی افریقہ کے سٹار کھلاڑئ اے بی ڈویلیئرز کی شرکت ہی تھی۔

آئی پی ایل کی ٹیم رائل چیلینجرز بنگلورز نے ڈویلیئرز کی 14 لاکھ ڈالر کی بولی لگائی تھی جبکہ یہی کھلاڑی لاہور قلندرز نے دو لاکھ بیس ہزار ڈالر میں اپنے نام کیا۔

تو ایسا کیوں ہے کہ ایک کھلاڑی ایک لیگ میں کروڑوں میں بک رہا ہے جبکہ دوسری لیگ میں وہی کھلاڑی لاکھوں کے دام میں جارہا ہے؟ اس کی ایک وجہ فرینچائز پاور اور کوالٹی ہے۔

آئی پی ایل کی فرینچائز نہ صرف پی ایس ایل سے معاشی طور پر بہت آگے ہے بلکہ دونوں لیگز میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کی کوالٹی میں بھی بہت فرق ہے۔

ہم نے اس فرق کو سمجھنے کے لیے کرکٹ کی ویب سائٹ ای ایس پی این کے سب ایڈیٹر دانیال رسول اور ہندوستان ٹائمز کے سپورٹس ایڈیٹر پردیپ میگزین سے بات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امارات کے سٹیڈیم خالی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر میچوں میں جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ جس کی وجہ سے ٹی وی پر میچ دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوتی ہے۔

ناظرین کی تعداد

پردیپ میگزین کا کہنا تھا کہ کہ آئی پی ایل کا موازنہ پی ایس ایل سے تو کیا دنیا کی کسی بھی دوسری کرکٹ لیگ سے نہیں کیا جا سکتا۔ 'آئی پی ایل کے کھلاڑیوں کی خرید و فروخت کا جو ماڈل اور قیمتیں ہیں وہ اس کا مقابلہ کوئی دوسری لیگ نہیں کرسکتی۔ چاہے وہ بگ بیش لیگ ہو یا پھر کوئی بھی دوسری لیگ'۔

پردیپ کہتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ انڈیا کی آبادی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں ٹی وی دیکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے ٹی وی رائٹس اور سپانسرشپ کے ذریعے جتنا پیسا آئی پی ایل میں آتا ہے اتنا کسی دوسری لیگ میں ممکن نہیں۔

پی ایس ایل کے لیے اس طرع کی بڑی سپناسرشپ اور ٹی وی رائٹس کی قیمتیں حاصل کرنا نہ صرف اس لیے ممکن نہیں کہ پاکستان کی آبادی اور ناظرین کا انڈیا سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس لیے بھی کہ پی ایس ایل پوری طرح سے پاکستان میں منعقد نہیں ہوتی۔

اس وجہ سے ٹکٹ سیلز سے آمدن نہیں ہوتی اور اور امارات کے سٹیڈیم خالی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر میچوں میں جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ جس کی وجہ سے ٹی وی پر میچ دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوتی ہے۔

دانیال رسول کہتے ہیں کہ اگر دونوں لیگز کے فین بیس کا موازنہ کیا جائے تو دونوں لیگز اپنے اپنے مداحوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور دونوں لیگز کے مستقل شائقین ہیں۔ تاہم بھارتی مارکیٹ کا سائز اتنا بڑا ہے کہ پی ایس ایل کا اس کے ساتھ موازنہ کرنا ممکن نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹی وی رائٹس اور سپانسرشپ کے ذریعے جتنا پیسا آئی پی ایل میں آتا ہے اتنا کسی دوسری لیگ میں ممکن نہیں

فرینچائز پاور

آئی پی ایل کی فرینچائز پاور کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آئی پی ایل کے میچوں کے دوران بین الاقوامی کرکٹ بہت کم ہو رہی ہوتی ہے۔ پردیپ میگزین کہتے ہیں کہ آئی پی ایل فرینچائز اتنی منافع بخش اور طاقت ور ہے کہ مختلف بورڈّز کو یہ خطرہ بھی ہے کہ کھلاڑی اپنی اپنی قومی ٹیموں کے لیے کھیلنا ہی چھوڑ دیں جیسا کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے کیا۔

'سب سے زیادہ انٹرنیشنل کرکٹر کھیل آئی پی ایل ہی میں رہے ہیں۔ سیاسی مسائل کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑی اس زمرے میں نہیں آتے لیکن پاکستان کو چھوڑ کر دنیا کی ہر ٹیم کے سب سے بڑے کھلاڑی آئی پی ایل میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ کھلاڑیوں کے پیسے اتنے بن رہے ہوتے ہیں تو اس سے بورڈز پر پریشر ہوتا ہے کہ ان کی اپنی کرکٹ سیریز کا آئی پی ایل کے ساتھ تصادم نہ ہو'۔

دانیال رسول کا موقف ہے کہ آئی پی ایل نہ صرف خود طاقت ور ہے بلکہ اس نے بی سی سی آئی یعنی انڈین کرکٹ بورڈ کی طاقت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈین بورڈ کا آئی سی سی کے کیلینڈر پر اثر انداز ہونے کا سوال کرنے کا وقت گزر چکا ہے کیونکہ ایسا کئی سال پہلے ہونا شروع ہو گیا تھا۔ جو بات دنیا بھر کے بورڈز کو کھٹکتی ہوگی وہ یہ ہو گی کہ آئی پی ایل کی وجہ سے بھارتی بورڈ مزید اثر و رسوخ والا ہوتا جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’اگر شاہ رخ کے مداح کرکٹ میں دلچسپی نہیں بھی ہوگی تب بھی وہ شاہ رخ کو دیکھنے کے لیے کلکتہ نائٹ رائڈرز کے میچ میں ضرور میدان میں آئے گا`

بالی وڈ

پاکستان کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کے سٹارز پی ایس ایل میچز میں شرکت کرتے ہوئے اور کھلاڑیوں کے ساتھ گھلتے ملتے نظر آتے ہیں۔

تاہم آئی پی ایل کے بزنس ماڈل میں بالی وڈ ایک اہم کردار ہے۔ اسے ایک زبردست مارکیٹنگ اور آڈیئنس ریچنگ تکنیک بھی کہا جاسکتا ہے۔ بالی وڈ سٹارز نہ صرف ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرنے میں آگے ہیں بلکہ بہت سے سپر سٹارز ٹیموں کے مالک بھی ہیں۔

دانیال رسول کہتے ہیں کہ اگر شاہ رخ کے مداحوں کی کرکٹ میں دلچسپی نہیں بھی ہوگی تب بھی وہ شاہ رخ کو دیکھنے کے لیے کلکتہ نائٹ رائڈرز کے میچ میں ضرور آئیں گے۔

'یہ ایک زبردست طریقہ ہے ان لوگوں کو میدان میں لانے کا جنھیں کرکٹ میں کوئی دلچسپی نہیں لیکلن وہ گلیمر اور اپنے سٹارز کی وجہ سے کرکٹ دیکھنے آرہے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں آئی پی ایل کو پیچھے چھوڑنا اب تقریباً ناممکن ہے۔ دنیا کی دوسری جتنی بھی لیگز ہیں پی ایس ایل سمیت، وہ نمبر دو کی پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ پہلی پوزیشن آئی پی ایل کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں