پاکستان نے 418 رنز پر اننگز ڈیکلیئر کر دی، حارث سہیل، بابر اعظم کی سنچریاں

بابر اعظم اور حارث سہیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

پاکستان اور نیوزی لینڈ کےمابین جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے بغیر کسی نقصان 24 رنز بنائے ہیں۔ اس سے پہلےپاکستان 418 پر اپنی اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔

پاکستان کی جانب سے حارث سہیل اور بابر اعظم کی سنچریوں کی بدولت پاکستان نے 418 رنز بنا کر اپنی اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔ اتوار کےروز پاکستان کی صرف ایک وکٹ گری۔ ـآؤٹ ہونے والے کھلاڑی حارث سہیل تھے جو 147 رنز بنا کر ٹرینٹ بولٹ کی آؤٹ ہو گئے۔

جب پاکستان نے اننگز ڈیکلیئر کی تو اس وقت بابر اعظم 127 جبکہ سرفراز احمد 30 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔

چائے کے وقفے سے قبل پاکستان نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 363رنز بنائےتھے۔ کھیل کے دوسرے دن لنچ سے قبل پاکستان نے کوئی وکٹ گنوائے بغیر 67 رنز مزید سکور کیے اور دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 100 رنز سے زیادہ کی شراکت قائم کی۔

حارث سہیل نے اپنے کل کے سکور 81 رنز سے آگے کھیلنا شروع کیا اور اپنے کریئر کی دوسری سینچری مکمل کی۔ گذشتہ ماہ دبئی میں ہی انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی سنچری سکور کی تھی۔

ڈرنکس کے فورا بعد انھوں نے اپنی سنچری مکمل کی جس میں 11 چوکے شامل ہیں لیکن انھوں نے اپنی سنچری مکمل کرنے کے لیے 300 سے زیادہ گیندیں کھیلیں۔

دوسری جانب بابر اعظم نے اپنی نصف سینچری 104 گیندوں پر مکمل کر لی ہے جس میں انھوں نے پانچ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔

میچ کا تفصیلی سکورڈ

ابوظہبی ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کی چار رنز سے جیت

وہ پانچ ٹیسٹ میچ جو پاکستان جیت سکتا تھا مگر۔۔۔

’مخدوش بیٹنگ، مہیب سائے اور لامحدود جارحیت‘

پہلے دن کھیل کے اختتام تک پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز بنا لیے تھے ۔

گذشتہ روز متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں جب کھیل شروع ہوا تو پاکستانی بلے بازوں نے انتہائی محتاط انداز میں میچ کا آغاز کیا ہے۔

اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جس کے بعد اس کی پہلی اننگز جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا تھا لیکن دونوں ہی اوپنر زیادہ دیر کریز پر نہ رک سکے اور 25 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ گئے۔ ان دونوں نے نو نو رنز بنائے تھے۔

ان کے بعد آنے والے بلے بازوں اظہر علی اور حارث سہیل نے محتاط انداز اپنایا اور بولنگ کو میرٹ پر کھیلیے رہے۔

تاہم اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد 81 کے انفرادی سکور پر اظہر علی رن آؤٹ ہوگئے۔

اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد اسد شفیق کریز پر آئے مگر وہ صرف بارہ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

کھیل کے اختتام پر بابر اعظم (14) اور حارث سہیل (81) رنز پر کھیل رہے تھے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے گرانڈ ہوم نے اپنی ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کیا اور دونوں پاکستانی اوپنرز کو آؤٹ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دونوں ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہی ٹیم دبئی میں بھی آمنے سامنے ہے جو پہلے ٹیسٹ میں ابو ظہبی میں تھی۔

اس میچ سے قبل پاکستان کے کوچ مکی آرتھر نے امید ظاہر کی کہ چوتھی اننگز کے بھوت سے دامن چھڑا کر پاکستانی کھلاڑی دوسرے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہر کریں گے اور بہتر شاٹ کا انتخاب کریں گے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کے کوچ گیری سٹیڈ نے کہا ہے کہ ابوظہبی کی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم ان کے لیے دبئی میں زیادہ مشکلات پیدا کرے گی۔

خیال رہے کہ ابوظہبی میں پاکستان نے سب سے کم رنز سے شکست کا اپنا ریکارڈ بنایا تو نیوزی لینڈ نے سب سے کم رنز سے جیت کا اپنا ریکارڈ بہتر کیا۔ ویسے سب سے کم رنز یعنی ایک رن سے جیت کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کا ہے جو اس نے سنہ 1993 میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں قائم کیا تھا۔

پاکستان ٹیم: امام الحق، محمد حفیظ، اظہر علی، حارث سہیل، بابر اعظم، اسد شفیق، سرفراز احمد (کپتان)، حسن علی، بلال آصف، محمد عباس اور یاسر شاہ

نیوزی لینڈ ٹیم: جیت راول، ٹام لیتھم، کین ولیمسن (کپتان)، راس ٹیلر، بی جے ویٹلنگ، ہنری نکلولس، کولن ڈی گرینڈھوم، ایش سوڈھی، نیل ویگنر، ٹرینٹ بولٹ اور اعجاز پٹیل

اسی بارے میں