بابر اعظم اور زینب عباس کی سوشل میڈیا پر تکرار: ’سوچ سمجھ کر بات کرو اور اپنی حد میں رہو!‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے نوجوان بیٹسمین بابر اعظم نے نیوزی لینڈ کے خلاف دبئی میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کر لی جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کا نام ٹرینڈ ہونے لگا اور شائقین کرکٹ نے انھیں ٹوئٹر پر مبارک باد دی۔

لیکن جب نجی ٹی وی سے منسلک سپورٹس صحافی زینب عباس نے بابر اعظم کی سنچری پر انھیں مبارکباد کی ٹویٹ کی تو وہ غالباً بابر کو پسند نہ آئی اور انھوں نے زینب عباس کو سخت جواب دیا۔

زینب عباس نے اپنی ٹویٹ میں بابر کو سنچری بنانے پر شاباشی دی اور اس پر لکھا کہ 'مجھے بڑا اچھا لگا جب باقی کھلاڑی مکی آرتھر (کوچ) کو ان کے 'بیٹے' کی سنچری پر مبارک باد دینے لگے۔'

اس پر بابر اعظم نے جواباً لکھا: 'سوچ سمجھ کر بات کرو اور اپنی حد میں رہو!'۔

بس پھر کیا تھا، بابر اعظم کی اس ٹویٹ کے بعد جو شائقین کرکٹ بابر کی سنچری پر انھیں داد دے رہے تھے وہ بھی زینب عباس اور بابر کے درمیان ہونے والی ٹویٹس پر تبصرہ کرنا شروع ہو گئے۔

اویس صدیقی نے اس پر پوچھا کہ 'بابر اعظم، اتنا سنجیدہ کیوں ہو گئے بھائی'

ایک اور صارف حمزہ خان نے اس نوک جھونک پر مزے لیتے ہوئے کہا کہ 'بہت شکریہ بابر اعظم، آپ کی وجہ سے میرا بہت بور گزرنے والا اتوار کا دن اچھا ہو گیا۔'

صارف نوید ندیم نے اس پورے سلسلے کے پس منظر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ گذشتہ دو سالوں سے جب بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی تھی تو لوگ انھیں کوچ مکی آرتھر کا لاڈلا کہتے تھے لیکن جب آج زینب عباس نے وہی بات دہرائی تو بابر ناراض ہو گئے۔

واضح رہے کہ ایک روزہ کرکٹ میں آٹھ سنچریاں کرنے والے اورٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک بیٹسمین بابر اعظم کی اب تک کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی اتنی خاطر خواہ نہیں رہی ہے لیکن سال 2018 میں انھیں نے واضح بہتری لائی ہے۔

گذشتہ سال تک بابر اعظم کی بیٹنگ اوسط ٹیسٹ کرکٹ میں صرف 24 رنز تھی لیکن اس سال کھیلے گئے چھ میچوں میں انھوں نے چار نصف سنچریاں بنائیں جن میں سے آسٹریلیا کے خلاف 99 رنز شامل ہیں اور پھر رواں میچ میں انھوں نے اپنی پہلی سنچری بھی سکور کر لی۔ اس سال کھیلے گئے میچوں میں اب تک ان کی اوسط 60 رنز سے اوپر ہے۔

لیکن چند پاکستانی کرکٹ شائقین نے بابر کے رد عمل پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ صارف فصیح الدین نے ٹیم انتظامیہ کے کردار پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہیں اور کوئی کھلاڑی ایک ٹیسٹ میچ کے دوران سوشل میڈیا کیسے استعمال کر سکتا ہے۔

ایک اور صارف میف نے بابر کی اس ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دکھا دیا کہ خواتین بھلے سے کتنے ہی ترقی کر لیں، مرد ان کو سنجیدہ نہیں لیں گے اور نہ عزت کریں گے نہ ان کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

صارف عاشر جاوید نے معاملہ تھوڑا رفع دفعہ کرانے کی کوشش کی اور لکھا کہ یہ واضح ہے کہ بابر اعظم نے زینب عباس کی ٹویٹ کو غلط سمجھا لیکن کئی لوگ ہیں جو اس قسم کی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بارے میں