یاسر شاہ نے ایسا کیا مختلف کام کیا جو اتنے کامیاب ٹھہرے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس ٹیسٹ میچ میں یاسر شاہ 10 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں

یو اے ای کی وکٹوں میں سے دبئی وہ واحد وکٹ ہے جس کا مزاج ابھی تک مکمل طور سے نہیں کُھلا۔ شارجہ کی وکٹ کا مزاج سب جانتے ہیں۔ ابوظہبی کی وکٹ بھی اپنی الگ شناخت بنا چکی ہے۔

مگر دبئی کی وکٹ پہ اب تک جتنے بھی ٹیسٹ میچ ہوئے ہیں، وکٹ کی چال ہمیشہ غیر متوقع ہی رہی ہے۔ جب سب سمجھتے ہیں کہ سپن ہو گی تب یہ بالکل بے جان سی ہو جاتی ہے۔ جب یکسر بے جان ہوتی ہے اور کرکٹ ایک خاص بہاؤ میں بہہ رہی ہوتی ہے، اچانک گیند پِھرنے لگتا ہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے

’مخدوش بیٹنگ، مہیب سائے اور لامحدود جارحیت‘

یہ چوتھی اننگز کا بُھوت کیا ہوتا ہے؟

اتوار کی شام جب سرفراز نے بالکل غیر متوقع انداز میں اچانک اننگز ڈکلئیر کر دی تو اچنبھے کی سی بات تھی کہ کس خوش فہمی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے، نہ تو رنز اتنے ہوئے تھے کہ کیویز پہاڑ تلے دب جاتے، نہ ہی وکٹ سے کسی بولر کو مدد مل رہی تھی۔

رات کی بارش کے بعد بھی پیر کی صبح سیمرز کے لیے وکٹ تہی داماں ہی رہی۔ پہلے ایک گھنٹے کا کھیل دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ سرفراز تخمینے میں کہیں چُوک گئے ہیں۔ جس سہل پسندی سے لیتھم اور جیت راول کریز پہ جمے تھے، کیویز بڑے ٹوٹل کے لیے پرامید دکھائی دے رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاسر شاہ نے پہلی اننگز میں 41 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں

مگر پھر یکبارگی کوئی ایسی افتاد آن پڑی کہ یاسر شاہ کی گیندیں آف سٹمپ سے اندر آنے لگیں اور سپن بھی اس قدر تیکھی کہ بڑے سے بڑا بلے باز چکرا جائے۔

کیویز کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ پچاس رنز کی اوپننگ شراکت کے بعد کچھ ایسی بپتا ہو سکتی ہے کہ دیدے وا کیے بھی یقین نہ آئے۔ لیکن یاسر شاہ جس طرح گیند کو اپنی مرضی کی چال چلا رہے تھے، وہاں کوئی دوسرا مہرا اپنی چال کیا چلتا؟

کل شام تک یہ ٹیسٹ میچ شدید غیر یقینی کیفیت کا شکار تھا کہ بھلے چار سو سے زیادہ رنز ہو گئے مگر جب وکٹ سے ہی کسی بولر کو کوئی مدد نہیں مل رہی تو پاکستان برتری کیونکر حاصل کر پائے گا؟

پھر یہ ستم الگ کہ یو اے ای کی وکٹوں میں سے دبئی وہ واحد وکٹ ہے جو میچ کے بیچ اچانک کہیں سپن ہوتی ہے لیکن شارجہ اور ابوظہبی کی طرح پانچویں دن سپنرز کے لیے اچانک سرد مہر سی ہو جاتی ہے۔ چند ہی دن پہلے اسی وکٹ پہ تو آسٹریلیا چوتھی اننگز کھیلا اور ڈرا کرنے میں کامیاب رہا۔

لیکن جب یاسر شاہ کا ہاتھ چلنے لگا تو سبھی خدشات ہوا ہوتے گئے۔ وکٹ میں کچھ سستی تو تھی ہی مگر اس کا استعمال کرنے کو کوئی حاضر دماغ اور پھرتیلا ہاتھ چاہیے تھا۔ کیونکہ یہ سستی اس قدر خفیف تھی کہ بلال آصف، عباس اور حسن کے ہاتھ آ کے نہ دے رہی تھی۔

یاسر شاہ نے ایسا کیا مختلف کام کیا جو اتنے کامیاب ٹھہرے؟

ویسے تو ٹیسٹ کرکٹ میں نئے گیند اور سیمرز کے سامنے بلے بازوں کا اعتماد یوں بکھرتا ہے کہ آف سٹمپ کے باہر شبہات میں گِھر جاتے ہیں، سمجھ نہیں آتی کہ کس گیند کو چھیڑنا ہے اور کس کو چھوڑنا ہے۔

کرکٹ سے متعلق یہ بھی پڑھیے

وہ پانچ ٹیسٹ میچ جو پاکستان جیت سکتا تھا مگر۔۔۔

پی ایس ایل اور آئی پی ایل کا مقابلہ کیا ممکن ہے؟

لیکن اگر بلے باز کریز کا صحیح استعمال کر رہا ہو تو سپن کے خلاف عموماً ایسے تکنیکی مسائل سر نہیں اٹھاتے۔ سپن کے سامنے اور طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں کہ پرانے گیند سے رنز بھی بٹورنا ہوتے ہیں اور ایک آدھ اچانک سپِن ہوتی ڈلیوری سے اپنا دفاع بھی کرنا ہوتا ہے۔

برائن لارا نے کہیں کوچنگ کرتے ہوئے سپن کا سامنا کرنے کی تکنیک بتاتے ہوئے بنیادی اصول یہ بتایا تھا کہ اگر آپ آگے نکل نہیں سکتے تو پھر پیچھے ہٹنے کا بھی مت سوچیں۔ انہی قدموں پہ وہیں سٹروک بنائیں۔

کیویز سے غلطی یہ ہوئی کہ پچھلے میچ کے تجربے کے بعد وہ یاسر شاہ کے خلاف قدموں کا استعمال کرنے سے کترا گئے۔ اور شبہات کا شکار ہوتے ہوتے کریز میں پیچھے ہٹتے گئے۔ اس پہ طرہ یہ کہ جب یاسر شاہ نے آف سٹمپ کے باہر سے گیندیں تیزی سے اندر کیں تو نہ تو وہ سپن کو سمجھ پائے اور نہ ہی گیند کی فلائٹ اور باؤنس سے نمٹ پائے۔

اعداد و شمار میں تو یہ بہت بڑی پرفارمنس تھی ہی لیکن یاسر شاہ کی ان دس وکٹوں کے بعد یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ سرفراز کا ڈکلییریشن کا فیصلہ اگرچہ ناقابلِ فہم تھا مگر یاسر شاہ نے وہ فیصلہ بچا لیا۔ صرف فیصلہ ہی نہیں، کافی حد تک یہ میچ بھی۔

اسی بارے میں