ہاکی ورلڈ کپ انڈیا میں شروع، پاکستانی ٹیم کی موجودہ کارکردگی کیسی ہے؟

ہاکی ورلڈ کپ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

14 واں ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ بدھ کے روز سے بھارتی ریاست اڑیسہ کے شہر بھونیشور میں شروع ہو گیا ہے۔

اس عالمی مقابلے میں سولہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنہیں چار گروپ میں رکھا گیا ہے۔

ہر گروپ کی فاتح ٹیم کوارٹرفائنل میں جگہ بنائے گی جبکہ ہر گروپ کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی ٹیمیں دوسرے راؤنڈ میں کھیلیں گی جہاں سے چار ٹیمیں کوارٹرفائنل میں پہلے سے موجود چار ٹیموں کے ساتھ شامل ہوجائیں گی۔

ایف آئی ایچ کے قواعد وضوابط کے مطابق پانچ براعظمی چیمپیئن ٹیموں اور میزبان ملک کو ورلڈ کپ میں براہ راست شرکت کا حق حاصل ہے تاہم بھارت میزبان ہونے کے ساتھ ساتھ ایشین چیمپیئن ہونے کی وجہ سے بھی اس مقابلے میں شریک ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ہاکی کی خدمت فیڈریشن میں آکر ہی ممکن ہے؟

پاکستان اور انڈیا ایشیئن ہاکی چیمپئن شپ کے مشترکہ فاتح

ہاکی فیڈریشن کا ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا لالی پاپ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان چار بار کا عالمی چیمپیئن

عالمی کپ پہلی بار 1971 میں سپین میں منعقد ہوا تھا اور اس کی خوبصورت ٹرافی بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس وقت کے صدر ائرمارشل ( ریٹائرڈ ) نورخان نے خصوصی طور پر تیار کرا کر ایف آئی ایچ کو دی تھی۔

1971 کے عالمی کپ کے فائنل میں پاکستان میزبان سپین کو ایک گول سے شکست سے دے کر عالمی چیمپیئن بنا تھا۔

پاکستان نے 1978 ۔ 1982 اور 1994 میں بھی ورلڈ کپ جیتا اس طرح اسے سب سے زیادہ چار مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا منفرد اعزازحاصل ہے۔

ہالینڈ اور آسٹریلیا نے تین تین مرتبہ عالمی کپ جیتا ہے۔ جرمنی نے دو بار کامیابی حاصل کی ہے جبکہ انڈیا ایک بار عالمی چیمپئن بنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عالمی رینکنگ کی صف اول کی ٹیمیں

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی جاری کردہ عالمی رینکنگ میں آسٹریلیا اس وقت پہلے نمبر پر ہے۔ارجنٹائن کا نمبر دوسرا ہےجس کے بعد بیلجیئم۔ ہالینڈ۔ انڈیا اور جرمنی کا نمبر آتا ہے۔

عالمی رینکنگ کی ابتدائی دس ٹیموں کی تکمیل انگلینڈ،سپین، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ سے ہوتی ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی رینکنگ میں 13ویں نمبر پر ہے۔

اس عالمی کپ میں بھی اصل مقابلہ انہی صف اول کی ٹیموں کے درمیان متوقع ہے۔

آسٹریلیا دفاعی چیمپیئن ہے جس نے گذشتہ عالمی کپ کے فائنل میں ہالینڈ کو ایک کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دی تھی۔

ارجنٹائن اولمپک چیمپیئن ہے جس نے ریو اولمپکس کے فائنل میں بیلجیم کو ہرایا تھا۔ بیلجیم اور ارجنٹائن دو ایسی ٹیمیں ہیں جو حالیہ برسوں میں اپنی چونکادینے والی کارکردگی سے سامنے آئی ہیں۔

انڈیا کو میزبان ہونے کا فائدہ ہو گا لیکن جہاں تک کارکردگی کا تعلق ہے تو انڈیا نے بھی پچھلے دو برسوں میں اپنی کارکردگی کو پہلے سے کافی بہتر کیا ہے۔ ان دو برسوں میں انڈین ہاکی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی میں دو مرتبہ دوسرے نمبر پر آئی ہے۔اس سال ایشین گیمز میں اس کا نمبر تیسرا رہا جبکہ ایشیا کپ کا ٹائٹل بھی اس کے نام رہا ہے۔

انڈیا کی موجودہ ٹیم میں سات ایسےکھلاڑی ہیں جو دو سال پہلے لکھنؤ میں منعقدہ جونیئر ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی ٹیم کی موجودہ کارکردگی

پاکستان کی ہاکی جس نے طویل عرصے تک راج کیا اس وقت اچھے حالات سے نہیں گزر رہی ہے۔

اس سال ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں اسے جاپان نے شکست دی اور پھر تیسری پوزیشن کے میچ میں انڈیا کے خلاف بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی موجودہ مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 2014میں ہالینڈ میں ہونے والے عالمی کپ اور پھر 2016 میں ریو ڈی جنیرو اولمپکس کے لیے کوالیفائی تک نہیں کر سکی تھی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان نے آخری بار 2010 کے ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی جو اتفاق سے انڈیا ہی میں منعقد ہوا تھا اور اس میں اس کی پوزیشن سب سے آخری یعنی 12ویں رہی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں